وفاقی دارلحکومت میں تعمیرات کیلئے انوائرمنٹل ایجنسی کی منظوری لازمی قرار

ارغوان پاکستان اسلام آباد سے :-وفاقی دارلحکومت میں تعمیرات کیلئے انوائرمنٹل ایجنسی کی منظوری لازمی قرار

اسلام آباد (ارغوان نیوز):- وفاقی دارلحکومت میں تعمیرات کیلئے انوائرمنٹل ایجنسی کی منظوری لازمی قرار – اسلام آباد میں تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی منظوری لازمی قرار دے دی – عدالتِ عالیہ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ کوئی بھی تعمیراتی منصوبہ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی منظوری کے بغیر شروع نہ کیا جائے – اسلام آباد ہائی کورٹ میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کی – دورانِ سماعت انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی، وفاقی نظامتِ تعلیمات اور سی ڈی اے کے نمائندے عدالت کے سامنے پیش ہوئے – سی ڈی اے کی طرف سے وکیل افنان کریم کنڈی اور حسنین حیدر تھہیم عدالت میں پیش ہوئے – چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اسلام آباد میں سی ڈی اے ماحولیاتی قوانین مکمل خلاف ورزی کر رہی ہے –



سی ڈی اے نے دارالحکومت میں نیشنل پارک کو بھی تباہ کر دیا – انہوں نے کہا کہ نیشنل پارک سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے ؛ سی ڈی اے اس کا بھی خیال نہیں رکھتی ؛ سی ڈی اے نے جو گورننس کا حال کر دیا ہے وہ بہت افسوس ناک ہے – چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ جن کی شہریوں کی حفاظت کی ڈیوٹی ہے وہ تمام قانون شکن بنے ہوئے ہیں – چیف جسٹس نے انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی حکام سے کہا کہ آپ کے ادارے کے ہوتے ہوئے سب کچھ ہو رہا ہے ؛ کیا آپ سو رہے ہیں؟ آپ مستقبل کی نسل کے ساتھ کھیل رہے ہیں – انہوں نے کہا کہ صرف یہ بتادیں کہ قانون کے مطابق آپ کی کچھ ذمے داریاں ہیں ؛ آپ کے قانون کے مطابق قانون شکن کے لیے سزائیں موجود ہیں –

انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی حکام نے عدالت کو بتایا کہ سیکشن 16 ون کے تحت ہم ماحولیاتی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو نوٹس جاری کرتے ہیں – چیف جسٹس نے انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی حکام پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس از خود اختیارات بھی ہیں – اگر یہی کرنا ہے تو گڈ گورننس کے لیے جو قوانین ہیں پھر ان کو ختم ہی کر دیں – انہوں نے کہا کہ کئی فیصلوں میں لکھ چکے ہیں ؛ یہاں بااثر افراد کے لیے کوئی قوانین نہیں ؛ ہا ئی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ میں کیسز کا بیک لاگ گورننس کے نہ ہونے کی وجہ سے ہے – چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ یہاں قانون صرف اس کے لیے ہے جو کمزور ہے ؛ ریاست عوام کی کوئی خدمت نہیں کر رہی ؛ ، وہ سب کچھ ایلیٹس کے لیے کرتی ہے ؛ بڑوں کے لیے کہا جاتا ہے کہ ریگولرائز کر دیں ؛ کمزور کو یہ سہولت میسر نہیں ؛ پھر تو وفاقی حکومت کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کیوں نہیں ہو رہا – سی ڈی اے کے وکیل افنان کریم نے کہا کہ یہ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کا کام ہے – اس ادارے کو اپنا کام کرنا چاہیے ؛ 50 برس پہلے یہاں کے نالوں میں ہم نہاتے تھے آج تو ان سے بو آتی ہے –