زندگی ہے پاکستان ؛نیاملی نغمہ ریلیز

ارغوان پاکستان کراچی سے :- زندگی ہے پاکستان ؛نیاملی نغمہ ریلیز

کراچی (ارغوان نیوز):- زندگی ہے پاکستان ؛نیاملی نغمہ ریلیز – یوم آزادی کی مناسبت سے قومی جذبے سے بھرپور ملی نغمہ”زندگی ہے پاکستان” ریلیز کر دیا ہے – معروف دانشور اور ڈرامہ نگار انور مقصود نے کہاکہ 73 سال سے پاکستان مشکلات میں تھا مگر مشکلات انہی پر آتیں ہیں جن کے آئندہ دن اچھے ہوں ؛ مجھے یقین ہے کہ نوجوان نسل بہت ذہین ہے پاکستان کا مستقبل بہت اچھا ہو گا – 14 اگست کی مناسبت سے جاری ہونے والے ملی نغمے میں بھی یہی سوچ ؛ امید اور پیغام ہے – ان خیالات کا اظہار انہوں نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں یوم آزادی کے موقع پر جاری ہونے والے نئے ملی نغمے “زندگی ہے پاکستان” کی تعارفی تقریب کے موقع پر کیا –



اس موقع پر آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ ؛ سیکریٹری اعجاز فاروقی ؛ آور نغمے کے ڈائریکٹر سہیل جاوید نے بھی خطاب کیا – آرٹس کونسل کی پروڈکشن تلے جاری ہونے والے نغمے کے بول کے پس منظر کا آغاز اور اختتام انور مقصود کے شارٹ سے ہوا جب کہ 1947ء کی ہجرت اور پاکستان کے شہروں دیہاتوں سمندر اور دریاؤں صنعتوں اور کھیتوں کو دیکھایا گیا ہے – تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ میں لوگوں کو خوش کرنے میں لگ گیا اصل میں مجھے بچوں کو پڑھانا چاہیے تھا ؛ قوم کے روشن مستقبل کی امید دلاتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کی پیشانی روشںن اور آنکھیں چمکتی ہیں اور یہ نئی نسل بے انتہا قابل ہے –

اس موقع پر صدر آرٹس کانسل احمد شاہ کا کہنا تھا کہ آزادی کا جشن اسکردو سے لے کر کراچی تک ہر شخص مناتا ہے لیکن آرٹس کانسل کا انداز مختلف ہے – ملی نغمے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ گانا معروف رائٹر صابر ظفر نے لکھا اور شقت امانت علی کی آواز میں رکارڈ کیا گیا جبکہ گانے میں انور مقصود پورے عہد کی نمائندگی کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں – انہوں نے کہا کہ یہ گانا گورننگ باڈی آف آرٹس کانسل نے پروڈیوس کیا اور میوزک واجد سعید نے دیا جبکہ ڈائریکشن کے فرائض دور حاضر کے نمایاں ڈائریکٹر سہیل جاوید نے انجام دیے ہیں –

سیکریٹری آرٹس کونسل اعجاز فاروقی نے کہا کہ میں خصوصی طور پر بے حد شکرگزار ہوں آرٹس کونسل کا ؛ اتنا عرصہ سب لوگ گھروں میں مقید رہے اب ایسا موقع ملا ہے کہ لوگ آزادی کے جشن میں شریک ہوسکتے ہیں – میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل جاوید کا کہنا تھا کہ میں مثبت سوچ رکھتا ہوں اور یہ گانا بھی اسی طرز کا ہے – جب کوئی ملی نغمہ بنایا جاتا ہے تو جذبے کے ساتھ بنایا جاتا ہے سوچ سمجھ کر ملاوٹ کرنے سے کشش ختم ہوجاتی ہے –