اسلم جناح ؛ کیا بابائے قوم کے نواسے تھے

ارغوان پاکستان ! اسلم جناح ؛ کیا بابائے قوم کے نواسے تھے

اسلم جناح صاحب کا انتقال ہوا – اسلم جناح صاحب کا زندگی بھر دعوی رہا کہ وہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے نواسے ہیں – اس دعوے کے بل پر انہوں نے کئی بار حکومتوں سے کچھ اعزازیہ ؛ کچھ پروٹوکول اور کچھ وعدہ ہائے فردا سمیٹے – حیران کن امر یہ ہے کہ کسی حکومت کو اس بات کی تحقیق کی توفیق نہیں ہوئی کہ آیا واقعی قائد کا کوئی نواسہ قائد کے بنائے گئے وطن عزیز پاکستان میں موجود بھی ہے یا نہیں- اگرچہ اسلم جناح صاحب کو ان کے دعوؤں پر کوئی بڑی مراعات بھی کبھی نہیں ملیں – وہ زندگی بھر عسرت، تنگ دستی اور کس مہ پرسی کا ہی شکار رہے اور غربت میں ہی زندگی کے شب و روز بسر کئے –



قطع نظر اس سے کہ مرحوم اسلم جناح صاحب نے خود کو قائد کا نواسہ ظاہر کرکے کتنا مالی مفاد حاصل کیا ؛ کتنا نہیں ؛ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ سرکاری سطح پر بابائے قوم کے خاندان کے بارے میں کسی کو کوئی تحقیق نہیں ہے ؛ جس کی وجہ سے جو بھی اٹھ کر قائد سے اپنا رشتہ جوڑتا ہے ؛ اس کے دعوے کو درست مان لیا جاتا ہے – اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اسلم جناح صاحب کو ان کے دعوے کے مطابق قائد کا نواسہ تسلیم کرنے کے باوجود بھی وہ عزت و توقیر نہیں بخشی گئی ؛ جو قوم کے لئے انتہائی احترام کے حامل اس رشتے ؛ نسبت اور خاندان کا تقاضا تھا –

مرحوم اسلم جناح صاحب کا دعویٰ رہا کہ وہ قائد کے نواسے ہیں، آج ان کی وفات کی خبر کے ساتھ کئی قومی اخبارات نے بھی ان کو قائد کا نواسہ لکھا ہے – آئیے دیکھتے ہیں کہ آیا وہ واقعی قائد کے نواسے تھے یا معاملہ کچھ اور ہے –

قائد نے تعلیم حاصل کرنے کے لئے ولایت جانے سے پہلے 1898ء میں اپنی چچا زاد ایمی بائی سے شادی کی تھی – جس سے قائد کی کوئی اولاد نہیں ہوئی ؛ ایمی سے شادی کے غالبا اگلے ہی سال قائد اعلی تعلیم کے لئے لندن چلے گئے – شادی کے وقت ایمی بائی چودہ سال کی ؛ جبکہ قائد سولہ سال کے تھے – لندن میں قائد کے حصول تعلیم کے دوران کراچی میں وبا پھیلی ؛ جس سے قائد کی اہلیہ اور والدہ بھی انتقال کر گئیں –

لندن سے واپسی کے بعد 1918 میں قائد نے ممبئی کے ممتاز پارسی بینکار ڈنشا پٹیٹ کی بیٹی رتن بائی (مریم) سے شادی کی – اس شادی سے ان کی اکلوتی اولاد دینا (بیٹی) پیدا ہوئی – دینا نے 1938 میں ممبئی کی متمول پارسی واڈیا فیملی کے نیولی واڈیا سے شادی کی – یہ شادی پانچ سال میں طلاق پر منتج ہوئی مگر اس شادی سے محترمہ دینا واڈیا کا ایک لڑکا نُصلی واڈیا تولد ہوا – نصلی صاحب (قائد کے نواسے) اب بھی غالبا زندہ ہیں اور انڈیا کے معروف بزنس مین ہیں – قائد کی بیٹی دینا واڈیا صاحبہ طلاق کے بعد امریکا جا بسیں اور وہیں ان کا 2017ء میں انتقال ہوا –

نصلی صاحب (قائد کے نواسہ) کے دو بیٹے نِیس واڈیا اور جہانگیر واڈیا ہوئے – نیس واڈیا (قائد کے پڑ نواسہ) بھی معروف کاروباری شخصیت ہیں اور آئی پی ایل (کرکٹ) کی فرنچایز “کنگ الیون پنجاب” کے اداکارہ پریٹی زنٹا کے ساتھ شریک اونر ہیں –

اب آتے ہیں اسلم جناح صاحب کی طرف ؛ اوپر بتائی گئی تفصیل کی رو سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان میں قائد کا کوئی نواسہ موجود تھا اور نہ ہے ؛ البتہ اسلم جناح صاحب کا جناح خاندان سے تعلق ضرور تھا – وہ قائد کے نواسہ نہیں تھے ؛ بلکہ قائد کے چچا نتھو پونجا صاحب کی پڑپوتی کے بیٹے تھے – قائد کا نواسہ ہونے کے ان کے دعوے کی تردید قائد کے بھانجے اور قائد کی جائیداد کے ٹرسٹی معروف وکیل لیاقت مرچنٹ صاحب بھی ہمیشہ کرتے رہے ہیں – لیاقت مرچنٹ صاحب قائد کی چھوٹی بہن مریم بائی کے نواسے ہیں – بہر حال خلاصہ یہ کہ پاکستان میں قائد کا کوئی نواسہ یا پڑ نواسہ موجود ہے اور نہ ہی اسلم جناح صاحب قائد کے نواسے تھے – اگرچہ ان کی وفات کے بعد یہ بحث اب بے فائدہ ہے ؛ مگر قائد کے خاندان کے متعلق سرکار کو درست ریکارڈ ہمیشہ مستحضر رکھنا چاہئے – کل کلاں کوئی اور شخص سر پہ قراقلی جما اور نام کے ساتھ جناح لگا کر قوم کا “نانا” بن سکتا ہے –