جنگ عظیم اول

(ارغوان پاکستان )::- جنگ عظیم اول

جنگ عظیم اول کو کئی ناموں سے جانا جاتا ہے جیسا کہ دنیا کی عظیم جنگ یا گلوبل جنگ یا وہ جنگ جو ساری جنگوں کو ختم کر دے گی – لیکن جنگ عظیم دوم کے بعد اس کو صرف جنگ عظیم اول کے نام سے ہی جانا جاتا ہے – جنگ عظیم اول 28 جولائی 1914 کو شروع ہوئی اور 11 نومبر 1918 کو اختتام پذیر ہوئی –
اس جنگ میں 17 ملین لوگ مارے گئے جن میں گیارہ ملین فوجی اور چھ ملین عام لوگ شامل تھے – 20 ملین لوگ زخمی ہوئے – یہ تاریخ کی ایک ہولناک اور خونریز جنگ تھی –



یہ جنگ مختلف ممالک اور قوتوں کے درمیان لڑی گئی ان میں قابل ذکر دو بڑی قوتیں تھیں :-

پہلی اتحادی قوتیں
دوسری مرکزی قوتیں

اتحادی قوتوں میں برطانیہ امریکا(1917-18) فرانس اور جاپان جبکہ مرکزی قوتوں آسٹریا ؛ہنگری ؛سلطنتِ عثمانیہ اور جرمنی پر مشتمل تھی –

اس جنگ کے پیچھے بہت سارے وجوہات تھے جن میں سے چار بنیادی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں::-

1.عسکریت پسندی
2.اتحاد کا نظام
3.شہنشاہیت
4. قوم پرستی

عسکریت پسندی ::– ہر ملک خود کو طاقتور بنانے میں مصروف تھا ہر ملک کی یہ سوچ تھی کہ فوجی طاقت بڑھانے سے دوسرے ممالک ہم سے ڈر جائیں گے یا ان کے وسائل پر آسانی سے قبضہ جما سکیں گے ان سب ملکوں میں سب سے زیادہ طاقتور دو ہی تھے برطانیہ اور جرمنی اور ان کی طاقت کی بنیادی وجہ ان کی جدید اسلحہ ساز فیکٹریوں کا ہونا تھا – جس میں اس وقت کے مطابق جدید ترین ٹیکنالوجی بنائی جاتی تھی – جیسا کہ پہلی بار جہازوں اور ٹینکوں کا استعمال ہوا – جدید قسم کے سمندری آبدوز بنائیے گئے – یہ جنگ زمین اور سمندر دونوں میں لڑی گئی –

معاہدے ::- -مختلف ممالک کے درمیان خفیہ معاہدے دستخط ہوئے اور یہ معاہدے اتنے حفیہ تھے کے ان کے ہمسایہ ممالک کو بھی پتہ نہ چلا اور ان معاہدوں کا بنیادی مقصد اپنے آپ کی حفاظت کرنا یا خود کو مزید طاقتور بنانا تھا –

ان میں سب سے اہم معاہدے دو ہی تھے

پہلامعاہدہ ::– ٹرپل الائنس جو جرمنی، اٹلی اور آسٹریا ہنگری کے درمیان 1882 میں دستخط ہوا – لیکن جنگ کے کچھ مہینوں بعد اٹلی فرانس اور برطانیہ میں شامل ہوا –
دوسرا معاہدہ ::– ٹرپل انتنت ہےجو 1907 میں برطانیہ ؛ روس اور فرانس کے مابین دستخط ہوا – یہ پہلے برطانیہ اور فرانس کے درمیان 1904 میں دستخط ہوا تھا ؛ جو انتنت کورڈایل کے نام سے جانا جاتا تھا – بعد میں روس کی شمولیت کی وجہ سے ٹرپل انتنت کہلانے لگا-

سامراجیت ::– اس وقت سب سے بڑا سامراج برطانیہ تھا جو دنیا کی 25٪ سے زیادہ وسائل پر قابض تھی اور اپنی کالونیوں کی مزید وسعت میں مصروف تھی (کالونیوں کی وسعت سے مراد دوسرے ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے افرادی قوت کو غلام بنا کر جنگوں؛ زمینوں؛ فیکٹریوں وغیرہ میں استعمال کرنا) افریقہ ابھی تک پوری طرح سے دریافت نہیں ہوا تھا لہذا فرانس روس جرمنی برطانیہ سمیت ہر ملک کی کوشش تھی کہ اپنی طاقت بڑھانے کے لیئے زیادہ سے زیادہ وسائل پر قبضہ کر سکے – جس کی وجہ سے سارے ممالک ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے تھے –

قوم پرستی ::– برطانوی سامراج کا سب سے بہترین چال تقسیم کرو اور حکومت کرو کو استعمال کرتے ہوئے محتلف ممالک جو کہ خلافتِ عثمانیہ اور آسٹریا ہنگری وغیرہ کے زیر اثر تھے ان میں اس سوچ کو تقویت دی کہ ھم ایک الگ قوم ہے اور قوم پرستی کی بنیاد پر اپنے آپ کو خود مختار بنانا چاہتے ہیں؛ اسی طرح کی تحریک مغربی ممالک میں پہلے سے کامیابی سے چلی آرہی تھی – جس کی وجہ سے قوم پرستی کی بنیاد پر آزادی کی تحریک شروع ہوئیں – اس کا بنیادی مقصد ان ممالک کی طاقت کو کمزور کرنا تھا –

ایک اور بڑی وجہ ہے جو جنگ عظیم ہونے کا سبب بنی وہ تھی Balkan-Powder

بلقان پائوڈر کیا ہے؟

یورپ کے جزیرہ نما بلقان سے تعلق رکھنے والا جو بحیرہ اسود ؛ ایجین اور ایڈریاٹک سے گھرا ہوا ہے – یعنی وہ ممالک جو ساحل سمندر کے قریب ہے
ساحل قریب ہونے کی وجہ سے ان ممالک کی اہمیت بڑھ جاتی ہے – مطلب بندرگاہوں کی وجہ سے تجارت اور منافع دوگناہ ہو جاتی ہے – اب جس ملک کو چاہیے وہ آپ کی بندرگاہ کا استعمال کرسکتا ہے مختصر الفاظ میں بہت سارے ممالک آپ کی باتیں اور شرائط ماننے اور حمایت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں – بندرگاہ مطلب طاقت – ایک وقت میں یہ سارے Balkan States آسٹریا ؛ ہنگری اور سلطنت عثمانیہ کے کنٹرول میں تھے مگر بعد میں قومی آزادی کے نام پر کچھ ممالک علحیدہ ہو گئے – آسٹریا ؛ ہنگری اور سلطنت عثمانیہ کی قوت کو کمزور کرنے اور ان ریاستوں پر قبضہ کرنے کے لئے برطانیہ روس اور فرانس نے مل کر ان ممالک میں قومیت کے نام پر خود مختار ہو جانے کی سازشوں کو تقویت اور بعد میں خود ان بندرگاہوں پر قبضہ کر کے اپنی سرمایہ داریت کی طاقت میں اضافہ کرنا چاہتے تھے – اسی وجہ سے ان ممالک میں بہت زیادہ جنگ ہوئی اور ہر وقت جنگ کا سماں رہتا تھا – ان ساری صورتحال میں ہر ملک ایک دوسرے سے جنگ کرنے کو تیار تھا اور ایک چھوٹی سی وجہ ایک بہت بڑی جنگ کی وجہ بن سکتی تھی اسی وجہ سے ان ممالک کو Balkan پاؤڈر کہا جاتا تھا جیسا بارود سے بھرا ہوا ٹرک کے اس میں کسی بھی وقت ایک چھوٹی سی چنگاری کی وجہ سے پورا ٹرک تبا ہو سکتا ہے اس طرح ان ممالک میں بھی ایک چھوٹی سی وجہ سے ایک بہت بڑی جنگ چھڑ سکتی تھی –

انتظار صرف ایک واقعے کا ہونا تھا اور بدقسمتی سے ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا – جنگ عظیم کی اس تحریر کو پڑھتے ہوئے ایک بات اپنی دماغ میں رکھنی چاہیے کہ پہلے سے ہی بہت سارے ممالک میں خفیہ معاہدے ہوئے تھے جن کا سوائے ان ممالک کے جن کے درمیان یہ معاہدے ہوئے اور کیسی کو کچھ پتہ نہیں تھا اسکے علاوہ بہت سارے ممالک ایک دوسرے کے ساتھ سرد جنگ میں مصروف تھے اور صرف ایک بڑی جنگ چھڑنے کی تیاری کر رہے تھے یا جنگ چھڑنے کا صرف ایک بہانہ چاہیے تھا اور اسی دوران ایک اہم اور بڑا واقعہ پیش آیا – جن کی وجہ سے سرد اور چھوٹی جنگ جو پہلے سے جاری تھے ایک بہت بڑی جنگ چھڑنے کا سبب یا بہانہ بنی – لیکن یہ واقعہ کوئی ایک معمولی واقعہ نہیں تھا اور یہ واقعہ ہے آسٹریا اورہنگری کے شہزادہ Archduke-Franz-Fedinanol اور اس کی بیوی کا قتل –

شہزادہ اپنی بیوی کے ساتھ SARAJEVO (جو اس وقت آسٹریا اور ہنگری کا ایک شہر ہوا کرتا تھا آج کل Bosnia کا دارالحکومت ہے) میں سیر و تفریح کے لیے آیا ہوا تھا اور اسی مقام پر Gavrili Princip اور بلیک ہینڈ کے کچھ ساتھیوں نے مل کر 28 جون 1914 کو اس کا قتل کیا اور یہ قتل اسلیئے بہت حساس تھا کیونکہ پہلے سے ہی آسٹریا اور ہنگری میں یہ اعلان ہوچکا تھا کہ یہ شہزادہ اگلا بادشاہ ہوگا یعنی دوسرے الفاظ میں ایک بادشاہ کا قتل -لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ Serbia اور آسٹریا ؛ ہنگری کے حالات پہلے سے ہی خراب تھے – کیونکہ برطانیہ روس اور فرانس پہلے سے ہی اس Serbia پر قبضہ کرنا چاہتے تھے روس Serbia کی بندرگاہوں کو حاصل کرنے کے لیے بہت کوشش کر رہا تھا۔ Serbia جو پہلے سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھا جو بعد میں 1878 میں مکمل طور پر آزاد ہوا یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ ان ممالکوں کی یہ آزادی سلطنتِ عثمانیہ سے ظلم کی وجہ سے نہیں بلکہ قومیت کی وجہ سے تھی برطانوی سامراج نے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سلطنتِ عثمانیہ بلکہ مغلیہ سلطنت کو بھی اس طرح کمزور کیا تھا ان میں بنیادی کردار غداروں کا تھا ؛ ساتھ میں یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے زوال کا دور تھا ورنہ سامراج جو صدیوں سے اپنے مکاریوں میں لگے ہوئے تھے کامیاب نہیں ہو پا رہے تھے مگر مسلمانوں کے کمزوریوں اور غداروں نے فائدہ اٹھا کر مغلیہ سلطنت پر قبضہ اور حلافت عثمانیہ کو تقسیم کر کے کمزور کر دیا گیا تھا –

چونکہ Bosnia جو اس وقت آسٹریا-ہنگری کا حصہ تھا میں بھی آزادی کی تحریکیں شروع تھی اور Serbia ان کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہا تھا اور Serbia کے پیچھے روس تھا اور روس کے پیچھے برطانیہ اور فرانس تھے- یہی وجہ تھی کہ آسٹریا-ہنگری نے نہ صرف Serbia پر الزامات لگائے بلکہ ان کو ہتھیار ڈالنے اور تباہ و برباد کرنے کی دھمکیاں دی اور کہا کہ اگر ہتھیار نہ ڈالے تو جنگ کے لیے تیار ہو جائو -ایک اور وجہ روس سلطنت عثمانیہ کی کمزوریوں کو دیکھ کر black sea کے دو اہم بندرگاہوں straits of Bosphous اور straits of Dardanelles پر قبضہ کرنا چاہتا تھا جو سلطنت عثمانیہ کے قبضہ میں تھے اور یہ بندرگاہیں روس کے لیے سب سے زیادہ اہم تھے اس وقت تک روس میں کمیونسٹ انقلاب نہیں آیا تھا –

آسٹریا ہنگری کی Serbia کو دھمکیاں کے بعد Serbia نے روس سے مدد مانگی اور روس نے بھرپور مدد کی یقین دہانی کرا دی اور اس طرح اپنے افواج Serbia میں داخل کر دیے- روس کو تو اسی دن کی تلاش تھی کہ کیسی طرح Serbia کی سیاست میں مداخلت کرے – ایک اور اہم بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ آسٹریا-ہنگری ہی نے Serbia کو آزادی دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ جرمنی اور آسٹریا ہنگری دودھ کے دھلےنہیں تھے ؛ وہ بھی اپنے آپ کو طاقتور بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے تھے – مگر ان کی سامراجیت برطانیہ سے کم نہ تھی ان سب ظلم اور شیطانیت کے پیچھے بنیادی طور پر برطانوی سامراجیت ہی تھی –

آسٹریا ہنگری کو روس کی مداخلت کا پتہ چلنے پر جرمنی سے مدد اور معاہدے کی پاسداری کی یقین دہانی کرا دی گئی – اس طرح آسٹریا ہنگری اور جرمنی نے Serbia پر حملہ کردیا اور جس کے نتیجے میں روس نے جرمنی پر حملہ کر دیا اور چونکے روس کی پہلے سے ہی برطانیہ اور فرانس کے ساتھ معاہدات تھے تو انہوں نے فرانس کو معاہدے کی پاسداری کا کہا تو فرانس نے بھی جرمنی پر حملہ کر دیا لیکن اس وقت یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے ابھی تک برطانیہ اس جنگ میں شامل نہیں ہوا تھا –

جرمنی نے سب سے پہلے فرانس کو ہرانے کا پلان بنایا اور فرانس پر حملہ کر دیا کیونکہ روس کی فوج بہت بڑی تعداد میں تھی – فرانس جرمنی کے پڑوس ملک ہونے کی وجہ سے ایک آسان ہدف تھا – دوسری جانب روس نے بھی مشرق کی جانب جرمنی پر حملہ کیا تھا – جرمنی نے بیلجیئم کے راستے فرانس پر حملہ کر دیا – بیلجیئم کی برطانیہ کے ساتھ 1839 میں ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے کے معاہدے ہوئے تھے اور دوسری جانب برطانیہ کا فرانس اور روس کے ساتھ بھی معاہدات تھے جن کی وجہ سے برطانیہ نے جرمنی پر حملہ کر دیا – ابتداء میں جرمنی کو روس اور فرانس کے خلاف بڑی کامیابی ملی (جرمنی بذات خود ایک بہت بڑی طاقت تھی)

جرمنی پیرس تک پہنچ چکا تھا لیکن وہاں سے آگے نہ بڑھ سکا کیونکہ برطانوی فوج بہت بڑی تعداد میں فرانس کی مدد کے لیے پہنچ گئی برطانیہ کی فوج کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ صرف متحدہ ہندوستانی فوج کی تعداد 13 لاکھ تھی جنہوں نے اس شرط پر جنگ میں حصہ لینے کی حمایت کی تھی کہ ہم سلطنت عثمانیہ کے ساتھ نہیں لڑینگے اور سلطنت عثمانیہ کا حتمہ نہیں ہوگا – یہ بات قابلِ ذکر ہیں کہ اس وقت متحدہ ہندوستان برطانیوں سامراج کے زیر اثر تھا متحدہ ہندوستانیوں کے ساتھ جنگ جیتنے کی صورت میں بہت سارے وعدے کیے گئے تھے مگر برطانیہ نے دھوکے و فریب کے سوا کچھ نہیں دیا جنگ عظیم میں متحدہ ہندوستان کی فوج بہادری کے ساتھ لڑی مگر جنگ کے بعد سب وعدے جھوٹے نکلے دوسری جانب مشرق کی بورڈر پر جرمنی نے روس کو بہت بڑا نقصان پہنچایا اور روس کے تقریباً تین لاکھ فوجیوں کو ہلاک کر دیا –

اس جنگ عظیم میں متحدہ ہندوستان کہ ساری دولت اور فصلیں کی استعمال کی گئی ( فوجیوں تک کھانا پینا ووغیر) یہی وجہ تھی کہ بعد میں متحدہ ہندوستان پر قحط سالی آگئی اور لاکھوں لوگ قحط کی وجہ سے موت کا شکار ہوگئے اسکے علاوہ ہر اول محاذ پر اپنے قبضہ شدہ کالونیوں کے سپاہیوں خصوصا ہندوستانی فوج کا استعمال کیا گیا تاکہ انگریز فوجیوں کو نقصان کم سے کم ہو – مختصراً یہ جنگ زیادہ تر ہندوستان کے وسائل سے لڑی گئی برطانوی سامراج نے اپنا فائدہ پورا کرنے کے بعد متحدہ ہندوستان کے ساتھ کیے گئے تمام وعدوں کی خلاف ورزی کی اور متحدہ ہندوستان کو دھوکا دیا – جنگ عظیم کے خرچے پورے کرنے کے لیے متحدہ ہندوستان پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگائے گئے – 1942 میں متحدہ ہندوستان کے فیلڈ مارشل سر کلاڈ اچنلنک کمانڈر انچیف نے زور دے کر کہا کہ اگر متحدہ ہندوستان کی فوج نہ ہوتی تو انگریز دونوں جنگوں میں بہت ناکامی کے ساتھ ھار جاتے –

خلافت عثمانیہ نے بھی روس پر حملہ کردیا اور اس کی ایک بنیادی وجہ کے روس اور خلافت عثمانیہ صدیوں سے ایک دوسرے کے دشمن تھے اور اس کی وجہ بندرگاہیں تھیں – روس ان بندرگاہوں پر قبضہ کرنا چاہتا تھا اس کے علاوں روس اور برطانیہ نے حلافت عثمانیہ کے زیر اثر ممالک کی آزادی میں بھرپور مدد فراہم کی دوسری طرف حملے کی وجہ خلافتِ عثمانیہ کی جرمنی اور آسٹریا ہنگری کے ساتھ معاہدات کا ہونا بھی تھا –

سلطنت عثمانیہ نے Suez canal پر حملہ کیا جو برطانیہ کو ہندوستان کے ساتھ connect کرتی تھی – ان سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سلطنت عثمانیہ صرف روس نہیں بلکہ اس وقت برطانیہ کے ساتھ بھی جنگ کی حالات میں تھی – اس حملے کا مقصد دوسرے الفاظ میں برطانیہ کے شہ رگ پر پاؤں رکھنا تھا –
اگر Suez canal پر سلطنت عثمانیہ کا قبضہ ہو جاتا تو برطانیہ کی شکست یقینی تھی مگر بدقسمتی سے سلطنت عثمانیہ Suez canal کو پکڑنے میں ناکام ہوئی –

اب بات کرتے ہیں خندقوں کی – خندق ایک پانی کی نہر کی طرح گہرا اور لمبا گڑھا ہوتا ہے – جن میں سپاہی جنگ لڑتے ہیں اور خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں – یہی پر کھاتے ہیں پیتے ہیں یعنی سپاہیوں کا پورا دن یہی گزرتا ہے اور یہیں سے جنگ لڑی جاتی ہے – جرمنی کو ابتدا میں فرانس پر برتری رہی مگر برطانیہ کی مدد پہنچانے کے بعد دونوں اپنی اپنی جگہوں پر قائم رہے ؛ فرانس اور جرمنی کے درمیان تین سال تک یہ خندقیں رہی نہ فرانس آگے بڑھ سکا نہ جرمنی – حالات بہت خوفناک تھے صحت کے مسائل بہت بڑھ چکے تھے ؛ خندق میں گندگی اور ماحول میں بارود کی آمزش کی وجہ سے سپاہیوں کو محتلف بیماریوں کا سامنا تھا اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو علاج کی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھا – اس طرح بہت سارے فوجی بیماریوں کا شکار ہوگئےتھے – اسکے علاوہ بہت زیادہ تعداد میں جانی نقصان ہوتا اگر فوج کا ایک گروہ دوسرے خندق پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا – اسی وجہ سے جرمنی اور فرانس تین سال تک اپنی اپنی جگہوں پر قائم رہے –

سومی کی لڑائی جو 1916 میں لڑی گئی تھی وہ جنگ اتنی خونی اور خوفناک تھا کہ صرف ایک دن میں 80000 فوجی ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر برطانوی اور کینیڈا کے فوجی شامل تھے – سومی کی لڑائی میں مجموعی طور پر 3 لاکھ کے قریب فوجی ہلاک ہوئے تھے – اس کو گلوبل وار اس لیئے بھی کہا جاتا ہے کہ یہ جنگ افریقہ میں جرمنی؛ فرانس اور برطانیہ کے کالونیوں میں بھی لڑی جا رہی تھی – ٹوگو ؛ تنزانیہ؛ کیمرون یہ سب جرمنی کی کالونیاں تھیں جن پر فرانس اور برطانیہ نے حملہ کیا تھا – جرمنی کی مائکرونیشیا اور چین میں کالونیاں تھی جرمنی کا چین کے کچھ تجارتی مرکز پر قبضہ تھا –

جاپان جنگ میں کیوں شامل ہوا ::– کیونکہ جاپان اور برطانیہ کے مابین ایک دوسرے کے دفاع اور مدد کرنے کا ایک معاہدہ ہوا تھا کہ جنگ کی صورت میں ایک دوسرے کو سپورٹ کرینگے اور جیت کی صورت میں منافع دونوں کا برابر – سلطنت عثمانیہ نے روس کی Black sea کی بندرگاہوں پر بمباری کرنا شروع کردی – کریمیا Black sea میں ہے اور کریمیا کا ایک شہر سیواستوپول تھا ؛ یہ روس کا ایک اہم بحری اڈہ تھا ؛ سیواستوپول میں ایک اور شہر کا نام اوڈیشہ تھا- سلطنت عثمانیہ نے ان علاقوں پر حملے شروع کردیئے -حجاز مقدس سعودی عرب کا پرانا نام ہے – یہ حلافت عثمانیہ کے لیے بہت اہم تھی اور اسکے راستے آسانی سے برطانیہ کے ساتھ لڑائی لڑی جا سکتی تھی – مگر بدقسمتی سے تقسیم کرو اور حکومت کرو اور کمزور کرو کی پالیسی کو استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑانےکیلئے یہاں پر ابن سعود نے جنگ کی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر برطانیہ کی مدد سے خلافت عثمانیہ کے خلاف جنگ شروع کردی – ابنِ سعود نے بہت سارے علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کیا ؛ بعد میں حجاز مقدس کا نام تبدیل کرکے سعودی عرب رکھا دیا گیا –

اتحادی افواج کا گیلپولی پر حملہ::– ترک شہر کا ایک شہر ہے جسے اتحاد فورس نے ANZAC (آسٹریلیا اور نیوز لینڈ سے آنے والے فوجی) کے نام سے حملہ کیا ؛ لیکن عثمانی سلطنت نے انھیں اب تک کا سب سے بھرپور جواب دیا – نیوز ی لینڈ اور آسٹریلیا آج بھی وہاں ہلاک ہونے والے سپاہیوں کی یادداشت میں گیلپولی کا دن غم کے ساتھ مناتے ہیں –

بحری جنگ ::– جرمنی نے آبدوز بنائے جن کو U Boats کا نام دیا گیا – جرمنی نے پہلی بار سب میرین یعنی آبدوز کا استعمال کیا اور آبدوز کو دنیا میں پہلی بار کسی جنگ میں استعمال کیا گیا – یہ آبدوز پہلے دشمنوں کے بحری جہازوں پر حملے کرتی اور بعد میں سویلین یعنی مسافر بردار بحری کشتیوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا –
یہ وہ مسافر جہاز تھا جو امریکہ سے یورپ اور یورپ سے امریکہ آیا جایا کرتے تھے ان میں ایک بہت خاص واقع پیش آیا وہ یہ کہ امریکن مسافر بردار کشتی جس کا نام لوسیانا تھا – یہ بحری جہاز یورپ سے امریکہ واپس آرہا تھا کہ جرمن کی یو آبدوز نے اس پر حملہ کر دیا اور بحر اوقیانوس میں 1200 امریکن لقمہ اجل بن گئے لہذا یہ ایک وجہ تھی کہ امریکہ نے 1917 میں پہلی جنگ عظیم میں شمولیت اختیار کی ؛ اس وقت امریکی صدر اول ووڈرو ولسن 1914 میں جنگ کا حصہ نہ بننے پر زور دیا تھا کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے -لیکن اس واقعے کی وجہ سے امریکہ اس جنگ میں کود پڑا اور اس طرح برطانیہ کے ساتھ ہاتھ جوڑ دیئے – اصل میں یہ ایک بہانہ تھا تاکہ اپنے لوگوں کی ہمایت حاصل ہو جائے وہی جس طرح 9/11 کو بہانہ بنا کر افغانستان پر حملہ کر دیا –

امریکی کانگریس نے ایک قرار داد منظور کیا کہ ہم یورپ میں جنگ کا حصہ نہیں بنےگے غیر جانبدار رہیں گے – لیکن اس وقت امریکہ دوران جنگ دونوں طرف ہتھیار اور کھانا فروخت کرتا رہا – لہذا حقیقت میں یہ جنگ امریکہ کیلیے ایک مارکیٹ کی طرح تھی جہاں امریکہ اپنا اسلحہ فروخت کرنے میں مصروف تھا – سرمایہ دارانہ نظام اور ممالک ہمیشہ اپنے فائدے کی سوچتے ہیں چاہے ان کی سوچ کی وجہ سے معصوم انسانیات کا قتل عام کیوں نہ ہو – امریکہ بجائے امن کا کردار ادا کرنے کے شیطان کا کردار ادا کر رہا تھا – جرمنی کو معلوم ہونے لگا کہ امریکہ زیادہ طرف داری برطانیہ کے ساتھ کر رہا ہے اور اگر اس طرح اسلحہ دونوں طرف چلتا رہا تو یہ جنگ کبھی بھی ختم نہیں ہوگی اور امریکہ مزید طاقتور ہوتا جائے گا اور بعد میں برطانیہ کے ساتھ مل کر ممالک پر قبضہ کرنے لگے گا اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس کے اسلحہ کا کاروبار پر حملہ کیا جائے جس کے بعد جرمنی نے امریکہ کے بحری بیڑوں پر حملہ کرنا شروع کردیا جو برطانیہ کو اسلحہ سپلائی کرتی تھی –

دوسرے الفاظ میں برطانیہ کی سپلائی لائن پر حملہ جو امریکہ کے ساتھ کنکٹ تھی – یہی وجہ تھی کہ امریکہ اپنی قوم اور لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لیے civilian ships پر حملے کا ڈرامہ کر کے اس جنگ عظیم میں شامل ہو کر برطانیہ کے ساتھ اتحاد کیا مختصر الفاظ میں جنگ میں شمولیت کا بہانہ – ایک اور وجہ امریکہ کی جنگ میں شمولیت میکسیکو اور جرمنی کے تعلقات تھے جرمنی نے میکسیکو کو خفیہ پیغام بھیجا کہ وہ ہمارے ساتھ اتحاد کر کے امریکہ پر حملہ کرے امریکہ کو اس خفیہ پیغام کا پتہ چلا – میکسیکو اور امریکہ کے تعلقات بھی ٹھیک نہیں تھے –

1918 کے آغاز میں Woodrow Wilson امریکہ کا صدر نے 14 نکات کی ایک فہرست تیار کی جس کو ولسن کے 14 نکات کہتے ہیں جن میں جنگ کے بعد شہنشاہیت کا حاتمہ ؛ نیوی گیشن کی آزادی جنگ کے بعد لیگ آف نیشنل وغیرہ پر تبادلہ خیال کیاگیا تھا – امریکہ کے چونکہ برطانیہ کے ساتھ اچھے تعلقات تھے اسلئے ان کو پتہ تھا کہ روس کے اندرونی معاملات ٹھیک نہیں ہے اور انقلاب کی صورت میں روس جنگ سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے اور اسی صورت میں جرمنی برطانیہ اور فرانس پر فتح حاصل کر سکتا ہے اور جرمنی بہت سارے وسائل پر قابض ہو کر اپنے طاقت میں اضافہ کرے گا اور چونکہ جرمنی کو امریکہ سے مستقبل میں خطرہ تھا امریکہ کی منافقانہ رویے کی وجہ سے اسلیئے اگلی جنگ امریکہ کے ساتھ ہونے کا امکان تھا اور امریکہ کو برطانیہ کی شکست کی صورت میں جرمنی سے خطرہ تھا اسلیئے جرمنی کو کسی صورت آگے نہیں بڑھنا دینا تھا – تو یہ بھی ایک وجہ تھی امریکہ کے لیے جنگ میں شمولیت کی –

روس الائیڈ پاور (برطانیہ ، فرانس) کا اتحادی تھا مگر 1917 فروری کے مہینے میں روس میں انقلاب برپا ہوا – زار نکولس دوم (زار کا مطلب روس کا بادشاہ) لہذا انقلاب کے بعد نکولس دوم کا تختہ الٹ دیا گیا – یہاں عارضی حکومت تشکیل دی گئی جو 7 ماہ سے زیادہ نہیں چل سکی اور اکتوبر میں بلشیوکس پارٹی جس کے رہنما لینن تھے جنہوں نے روس میں انقلاب برپا کیا تھا اقتدار میں آئی – لینن جنگ کے خلاف تھے اور اس نے جرمنی کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیئے ؛یہ جرمنی کے لئے ایک اچھی خبر تھی کیونکہ جرمنی مشرقی سرحد سے اپنی تمام فوجوں کو واپس بلا کر اور اپنی ساری توجہ مغربی سرحد پر مرکوز کر سکے گا – لیکن جیسا کہ ہم پہلے یہ ذکر کر چکے ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ کو روس کے بارے میں پہلے ہی سے پتہ تھا کہ انقلاب کی صورت میں روس اس جنگ میں مزید شمولیت نہیں کرے گا یہ بھی ایک وجہ تھی کہ امریکہ اس جنگ میں شامل ہوا –

1918 تمام اتحادی طاقتیں (برطانیہ ، فرانس ، امریکہ) ان کے لئے سب سے زیادہ طاقتور اور خطرناک جرمنی تھا ان ممالک نے اپنا توجہ جرمنی کو شکست دینے پر مرکوز کیا ؛ اور ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ جرمنی نے اتحادی طاقتوں کے بہت سارے علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا لہذا ان علاقوں کو واپس حاصل کرنا اور جرمنی کو شکست دینا بہت ضروری تھا – ہر روز الائیڈ پاور کی طاقت میں اضافہ ہو رہا تھا ہر روز امریکہ کے تازہ سپاہی جنگ میں شمولیت اختیار کر رہے تھے تقریباً روزانہ 10000 سے زیادہ نئے امریکن سپاہی جنگ میں شامل ہو کر برطانیہ اور فرانس کی طاقت میں اضافہ کر رہے تھے اور آخر کار وہ جرمنی کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے۔

11 نومبر کا وقت صبح 11 بجے ایک( armistice ceasefire کی طرح ایک معاہدہ ہوتا ہے یعنی عارضی جنگ بندی) یہ armistice اس بارے میں تھا کہ اب چونکہ جنگ بندی ہو چکی ہے تو دوبارہ سے سرحدیں کیسی ہوں گیں ؛ کتنی رقم ادا کی جائے گی وغیرہ – اس کا فیصلہ امن معاہدے کے ذریعے کیا جائے گا
اس پر چھ ماہ تک بات چیت کے بعد دستخط ہوئے – یہ معاہدہ پیلس آف ورسیلس میں ہوا ؛ یہ محل پیرس کے قریب ہے ؛ یہ فرانسیسی شہنشاہیت کا قدیم محل ہے –

معاہدہ ورسیئلز کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں::-

1۔ سینٹرل پاور خاص طور پر جرمنی پر “جنگ چھیڑنے کا الزام” لگایا مطلب جنگ عظیم صرف جرمنی کی وجہ سے ہوا – ہم نے پہلے ہی یہ ذکر کیا ہے کہ ہر ملک دنیا اور اس کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا تھا لہذا جنگ میں ملوث ہر ملک مجرم تھا لیکن حقیقت میں سب سے زیادہ جنگ عظیم چھیڑنے کا قصوروار برطانوی تھا – برطانیہ ایک ملک سے دوسرے ملک کے وسائل پر قبضہ کرتا رہا تھا – دوسرے ممالک نے اس طرح قبضہ یا برطانیہ کی طرح کالونیاں بنانے اور وسائل پر قبضے کے خواہشمند تھے جبکہ برطانیوی سامراج اکیلے ہی سب کچھ ہڑپ کرنا چاہتا تھا – سرمایہ دارانہ نظام میں کیسی کا پیٹ کیسی صورت نہیں بھرتا دولت اور وسائل کی جنگ کیلئے یہ انسانیت کے قتل عام سے بھی گریز نہیں کرتے – جنگ عظیم بھی کچھ سرمایہ دارانہ ذہنیت کے نتیجے میں برپا ہوئی اور لاکھوں معصوم انسانیات کا قتل عام ہوا –

2. جرمنی اس پر متفق ہوا کہ یعنی جنگ ہماری وجہ سے ہوئی ؛ وجہ اس لئے کہ جرمنی پہلے ہی شکست کھا چکی تھی اب اگر خود کو بچانا ہے تو شرائط تو ماننی پڑیں گی اور ہم جانتے ہیں کہ ہارنے والے یا شکست خوردہ کی نہ کوئی جگہ ہوتی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی احترام ہوتا ہے –

3. جرمنی ،مشرق وسطیٰ ؛ افریقی کے کالونیوں ؛ وسطی اور مشرقی یورپ کی سرحدوں کی دوبار تعین کرنا یعنی جرمنی ؛ آسٹریا ہنگری اور خلافت عثمانیہ کے زیر انتظام جو ممالک اور کالونیاں تھی اب نئے سرے سے ان کی سرحدیں متعین ہوگی اور افریقی کالونیوں کو برطانیہ اور فرانس آپس میں تقسیم کریں گے امریکہ بظاہر کالونیوں کا مخالف تھا مگر پھس پردہ کالونیوں سے پورا فایدہ اٹھا رہا تھا –

۔4. بھاری معاوضہ یعنی( reparations وہ رقم جو آپ اپنے دشمن سے شکست کے بعد ان کو دینگے ؛کیونکہ وہ آپ پر الزام لگاتے ہیں کہ جنگ آپ نے شروع کی تھی ہمارے نقصان کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے اس لیئے آپ وہ سارہ معاوضہ ادا کرینگے جو ہم سے جنگ میں خرچ ہو چکا ہے اسی طرح برطانیہ ؛ فرانس اور امریکہ نے الزامات جرمنی پر لگائے جرمنی نے الزامات مجبوراً مان لیئے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی گاؤں میں کوئی غنڈاگرد آپکے اپنی زمینوں پر جبری ٹیکس عائد کرے یا وصولی کرے اور اپ اپنی کمزوری کی وجہ سے اس کی ہر شرائط ماننا پڑیں بصورتِ دیگر آپ اپنی زمینوں اور زندگی سے ہاتھ دھو سکتے ہیں اور یہی حالت جرمنی کی تھی – ریپرایشن یعنی جنگ کا معاوضہ جو جرمنی نے برطانیہ ؛ فرانس اور امریکہ کو دینا تھا یہ اتنا زیادہ تھا کہ جرمنی نے آخری قسط 2010 میں ادا کیا –

5. جرمنی کی کالونیاں برطانوی اور فرانس کے مابین تقسیم ہوئیں – آپ پڑھتے پڑھتے ضرور حیران ہوں گے کہ جرمنی جیسا مضبوط ملک کیسے ان شرائط پر راضی ہوا، اسکی وجہ جرمنی کا امریکہ کی پوری طاقت اور تازہ دم شمولیت اور شکست کے بعد اپنی زمین کی بچائو ؛ امریکہ کا منافقانہ کردار امریکہ پہلے تین سال تک جنگ میں دونوں طرف اسلحہ، خوراک اور دوسری استعمال کی اشیاء بھیجاتا رہا ؛ ساتھ میں سب کے ساتھ نارمل پیش آتا رہا کہ یعنی میں تو صرف تجارت کر رہا ہوں اور امن چاہتا ہوں (اسلحے کی تجارت کرنے والے کبھی امن کے داعی نہیں ہو سکتے) اس تجارت سے امریکہ کو دو فائدے ہوئے –

1 بہت بڑی آمدنی کا حصول یعنی منافع –

2. آستین کا سانپ بن کر جرمنی کے ساتھ تجارت کی آڑ میں اپنے جاسوس چھوڑنا اور جرمنی کے دفاعی نظام غور سے دیکھنا اور یہی وجہ تھی کہ جرمنی کے مواصلاتی نظام کو ہیک کرنا مطلب جرمنی جو پیغام اپنے سپاہیوں یہ حملے کے لیے بھیج رہا تھا وہ ریڈیو سگنلز کو موصول کرنے والا device بنایا گیا جو جرمنی کی شکست کی سب سے اہم وجوہات میں سے ایک ہے –

جرمنی جانتا تھا کہ اگر وہ مزید جنگ جاری رکھے گا تو جلد ہی جرمنی دنیا کے نقشے سے ناپید ہوجائے گا اور باقی ملکوں کی طرح امریکہ ؛ برطانوی اور فرانس کے درمیان تقسیم ہوجائے گا – تو یہ تھی کچھ وجوہات کہ جرمنی نے اپنی شکست اور کیے گئے ہر معاہدے کو قبول کیا –

پہلی جنگ عظیم سلطنت کا قبرستان بھی کہلاتا ہے –

اس جنگ کے بعد بہت ساری قدیم اور عظیم سلطنتیں غائب ہو گئی مطلب ختم ہو گئی –

سب سے پہلے جرمنی۔ جرمنی کی سلطنت میں مرکزی طاقت چانسلر کے ساتھ تھی لیکن پھر بھی کچھ اختیارات بادشاہ کے پاس موجود تھے – جرمنی میں شاہی خاندان کو ہوہنزولن کہا جاتا تھا ختم ہوئی-

دوسری آسٹریا اور ہنگری سلطنت جس کو وہاں کا ہیبس برگ کہا جاتا تھا ختم ہوئی –

روسی سلطنت زار کا جس کو رومانوف سلطنت کہا جاتا ہے ختم ہوئی –

اور آخر کار سلطنت عثمانیہ برطانیہ نے خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا برطانوی فیصلے کے خلاف متحدہ ہندوستان میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے کیونکہ برطانیہ نے متحدہ ہندوستان کے ساتھ وعدے کیے تھے کہ خلافت کا خاتمہ نہیں ہو گا – مگر مکار برطانیہ دوسرے الفاظ میں سرمایہ پرست کا کوئی بھروسہ نہیں –

نئے ممالک ::– جنگ کی وجہ سے عظیم سلطنتوں کے خاتمے اور محتلف معاہدات کے نتیجے میں نئے ممالک دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئے-

آسٹریا ؛ ہنگری ؛ چیکوسلوواکیا ؛ یوگوسلاویہ یہ آسٹریا ہنگری سلطنت کا حصہ تھے جن سے نئے ممالک بن گئے-

ایسٹونیا ؛ لیٹویا ؛ لتھوانیا ؛ پولینڈ ؛ فن لینڈ روس یا جرمنی میں سے اس کے حصے کٹ کر نئے ممالک بنانے گئے –

فلسطین کا مینڈیٹ بالفور کے اعلامیہ کے مطابق بنایا گیا-

مشرق وسطی کے دوسرے علاقوں جیسے عراق ؛ وغیرہ فرانس ؛ برطانوی اور روسی پروٹیکٹوٹریٹ کے درمیان تقسیم ہو گئے- سلطنت عثمانیہ کو مکمل طور پر تقسیم کیا گیا صرف موجودہ ترکی باقی رہا –

یہ تمام سرحدیں اور نئے ممالک معاہدے جس کانام SKYES-PICOT کے تحت بنائے گئے-

ایک بیمار جس کا نام H1N1 جو Spanish flu کے نام سے مشہور تھا قریباً 50 ملین لوگ اس بیماری کی وجہ سے موت کا شکار ہوئے-

خلاصہ 1914 میں اس جنگ کی شروعات ہوتی ہے-

برطانیہ، فرانس اور روس ایک طرف جرمنی؛ آسٹریا ہنگری اور حلافت عثمانیہ دوسری طرف-

ابتدا میں جرمنی کو کافی کامیابی ملتی ہے مگر روس انقلاب کے بعد پیچھے ہٹ جاتا ہے اور امریکہ منافقانہ کردار ادا کر کے جنگ میں شمولیت اختیار کر لیتا ہے- جرمنی کو شکست ہو جاتی حلافت کا حاتمہ ہو جاتا ہے اور دنیا کے نقشے پر نیے ممالک نمودار ہو جاتے ہیں –