ایف اے ٹی ایف؛13 نکات پر عمل درآمد کرنا ہوگا

(ارغوان پاکستان)اسلام آباد سے :- ایف اے ٹی ایف؛13 نکات پر عمل درآمد کرنا ہوگا

اسلام آباد (ارغوان نیوز):- ایف اے ٹی ایف شرائط پر عمل درآمد کیلئے تین ماہ میں قوانین میں ترامیم کرنا ہونگی — 27 میں سے باقی ماندہ 13 نکات پر عمل درآمد کرنا ہوگا — اس حوالے سے ایف اے ٹی ایف نے اکتوبر تک توسیع دیدی ہے — تفصیلات کے مطابق، حکومت کو ایف اے ٹی ایف شرائط پر عمل درآمد کے لیے تین ماہ کے اندر انسداد منی لانڈرنگ اور فارن ایکسچینج ریگولیشن قوانین میں ترامیم کرنا ہوں گی — ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے لیے اکتوبر، 2020 میں متوقع اجلاس تک توسیع کردی ہے — ذرائع نے دی نیوز کو اس بات کی تصدیق کردی ہے — ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈی جی فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) منصور حسن صدیقی کے کچھ ماہ قبل انتقال کے بعد حکومت نے اب ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک لبنیٰ فاروق ملک کو ڈی جی ایف ایم یو تعینات کردیا ہے — تاہم انہوں نے اب تک اپنا عہدہ نہیں سنبھالا ہے —



بجٹ تیاری کے موقع پر یہ تجویز دی گئی تھی کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) اور انسداد منی لانڈرنگ کو بطور فنانس بل ترمیم کی جائے مگر اس تجویز کو مسترد کردیا گیا اور اس سے متعلق الگ قانون سازی کا کہا گیا — جب کہ حکومت نے غیر منافع بخش اداروں (این پی اوز) اور ٹرسٹ جو کہ انکم ٹیکس قوانین سے متعلق ہیں ان میں ترامیم کی تجویز دی تھی تاکہ ایف اے ٹی ایف شرائط پوری کی جاسکیں — اس ضمن میں جب وزارت خزانہ کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف نے عمل درآمد رپورٹ کی حتمی تاریخ میں اکتوبر؛ 2020 تک توسیع کردی ہے — جب کہ حکومت مختلف قوانین میں تبدیلی پر کام کررہی ہے — ایف اے ٹی ایف نے 27 نکاتی ایکشن پلان پر عمل درآمد کا کہا تھا ان میں سے 13 نکات پر عمل درآمد ہونا باقی ہے —

وہ نکات یہ ہے:
1: پاکستان کو موثر پابندیوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا؛ جس میں دہشت گردوں کی ملک بھر میں مالی معاونت کا تدارک شامل ہے–
2: پاکستان کو بالخصوص کالعدم تنظیموں کی مالیاتی اداروں کے ذریعے مالی امداد کے تدارک کو یقینی بنانا ہوگا —
3: پاکستان کو غیر قانونی رقوم جیسا کہ ہنڈی حوالہ وغیرہ کے خلاف اقدامات کرنا ہوں گے–
4: نقدی لانے اور لے جانے والوں کو پاکستان نے سزائوں کے نظام میں رکھنا ہوگا–
5: پاکستان کو اشتہاری افراد اور کالعدم اداروں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی میں مالی معاونت میں تحقیقیات کا منطقی نتیجہ پیش کرنا ہوگا–
6: پاکستان کو اشتہاری افراد اور کالعدم اداروں کے خلاف عالمی تعاون کی بنیاد پر تحقیقات اور سزائیں یقینی بنانا ہوں گی–
7: پاکستان کو ایف ایم یو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مذکورہ تحقیقات میں مقامی سطح پر موثر تعاون یقینی بنانا ہوگا– 8: کالعدم اداروں اور اشتہاری افراد کی پراسیکیوشن کرنا ہوگی–
9: عدالتوں سے کالعدم اداروں اور اشتہاری افراد کو سزائیں دلوانے کا مظاہرہ کرنا ہوگا–
10: کالعدم اداروں اور اشتہاری افراد کی جائدادیں ضبط کرنا ہوں گی۔11۔ مدارس کو اسکولوں میں اور ہیلتھ یونٹس کو سرکاری اداری بنانا ہوگا–
12:تمام کالعدم اداروں اور اشتہاری افراد کی فنڈنگ کو ختم کرنا ہوگا–
13: پاکستان کو کالعدم اداروں اور اشتہاری افراد کی جائداد اور اثاثوں کی مینجمنٹ کے لیے مستقل نظام بنانا ہوگا–

وفاقی وزیر صنعت حماد اظہر نے 12 جون کو اپنی بجٹ تقریر میں کہا تھا کہ جون 2018 میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا اور 27 نکات پر عمل درآمد کا کہا گیا– انہوں نے قومی ایف اے ٹی ایف رابطہ کمیٹی کو اس ضمن میں ذمہ دار ٹھہرایا — قانون سازی؛ تکنیکی اور آپریشنل بہتری کا ایک جامع عمل شروع کیا گیا — جس کے حوصلہ افزا نتائج ملے — ان کا کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں ہم نے 27 نکات پر اچھی پیش رفت کی — ایک سال کے اندر 14 نکات پر عمل درآمد کرلیا گیا؛ جب کہ 11 پر جزوی کام ہوا اور دو پر عمل درآمد کے لیے سخت جدوجہد کی جارہی ہے —