ڈاکٹر عبدالقدیر خان، نواز شریف، ایٹمی دھماکے، بابے اور چیلے

(پروفیسر محمد سلیم ہاشمی)

ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کے کچھ انٹرویو آج کل بہت وائرل ہو رہے ہیں جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ جب وہ ایٹم بم بنا رہے تھے تو نواز شریف مقناطیس کی مدد سے نالیوں سے لوہے کے ٹکڑے نکالا کرتا تھا، اس کے لباس کا بھی ذکر ہے بہر حال میں نے غور نہیں کیا۔ ایک جگہ یہ بھی بتایا کہ اس دور میں نواز شریف صاحب بھٹیوں میں لوہا پگھلایا کرتے تھے۔ ایک اور انٹرویو میں کہا کہ وہ تو پٹاخہ نہیں پھوڑ سکتا ایٹم بم کیا چلائے گا وغیرہ وغیرہ۔


ڈاکٹر صاحب عمر کے اس حصے میں ہیں جسے ارذل العمر کہا جاتا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اس عمر سے پناہ مانگنے کی دعا کی تلقین کی گئی ہے۔ افسوس تو ان لوگوں پر ہوتا ہے جو ڈاکٹر صاحب کو جا پکڑتے ہیں، ان کو گھیرتے ہیں اور پھر ایسی باتوں کے ایسے جواب حاصل کر کے انہیں چلاتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب پر دور پرویز مشرف میں اس قدر بھیانک اور انسانیت سوز ،مظالم کئے گئے جس کا عام انسان تصور تک نہیں کر سکتا۔ ان کا اعترافی انٹرویو ہی کسی انسان کو ہلاک کرنے یا اس کے دل و دماغ کو ماؤف کر دینے کے لئے کافی ہے۔ آج کل اور گزشتہ چند برسوں سے وہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں اس میں ان کے ان حالات کا پرتو صاف نظر اتا ہے۔

24 جولائی 2016ء کی بات ہے اس روز پاکستان قومی زبان تحریک نے اسلام اباد میں کل پاکستان نفاذ اردو کانفرنس منعقد کی تھی، اس کانفرنس میں پاکستان بھر سے سینکڑوں محبان پاکستان نے شرکت کی تھی۔ وہ سب اس بات کے گواہ ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس کانفرنس کے مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے پاکستان میں نفاذ اردو کے بارے میں جو گفتگو فرمائی وہ سراسر حقائق کے منافی تھی، اور ہمارے موقف کی دھجیاں اڑا دینے والی تھیں۔ میں اس پر بہت برافروختہ ہوا۔ لاہور پہنچ کر میں نے اس بارے میں ایک تیز و تند تحریر لکھی۔ عزیز ظفر ازاد صاحب نے اس کا بہت برا منایا اور مجھے وہ تحریر ہٹانے کا کہا جو میں نے ہٹا دی۔ مجھے بعد میں ڈاکٹر صاحب کی ایک بہت قریبی شخصیت نے مجھے ان کے بارے میں کچھ حقائق بتائے جس پر میرا غصہ ندامت اور پشیمانی میں بدل گیا۔

اب آ جاتے ہیں ڈاکٹر صاحب اور نواز شریف کے بارے میں۔ اب یہ سوال کرنے والوں کی فنکاری ہے کہ وہ ڈاکٹر صاحب اور نواز شریف کو آمنے سامنے کھڑا کر دیتے ہیں اور یہ ڈاکٹر صاحب کی سادگی ہے کہ وہ اس جال میں پھنس جاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا ایٹم بم بنانا یا اس کو چلانا یہ تو کوئی متنازعہ بات ہی نہیں ہے۔ اس اعزاز کو ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ اب جب ڈاکٹر صاحب بم بنا رہے تھے تو نواز شریف کیا کر رہا تھا یہ بھی کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس پر ڈاکٹر صاحب اور نواز شریف کا موازنہ شروع کر دیا جائے۔ یہ بات کہ ایٹمی دھماکہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ تھا یہ ایک حقیقت ہے یہ فیصلہ ڈاکٹر صاحب یا کسی بھی سائنس دان نے نہیں کرنا تھا۔ یہ فیصلہ جنرل ضیا سے نواز شریف تک کوئی نہ کر سکا یا اس کے کرنے کی ضرورت نہ پڑی ورنہ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ 1984 میں ایٹم بم بن چکا تھا۔ یہ بات بھارتی صحافی کلدیپ نائر کے ذریعے 1984ء میں ہی ساری دنیا کو بتا دی گئی تھی۔ غالبا” 1984ء میں ہی نیلابٹ آزاد کشمیر کے مقام پر 14 اگست کے جلسے میں نواز شریف نے یہی بات واشگاف الفاظ میں کہی تھی۔

اب بات آ جاتی ہے ایٹمی دھماکوں کی، مئی 1998ء میں جو حالات بن چکے تھے اس میں نواز شریف نہ ہوتا کوئی اور ہوتا چلو سلیم ہاشمی ہی ہوتا تو ایٹمی دھماکے کرنا اس کی مجبوری بن چکے تھے، یہ ہونا ہی ہونا تھے، ان کو ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ اس وقت بھارتی رہنماؤں کے جو تیور تھے اور پاکستانی عوام کا جو نقطہ اشتعال تھا اس کے بعد اگر نواز شریف ایٹمی دھماکے نہ کرتا تو پاکستانی قوم ہی اس کے لئے کافی تھی، اگر کچھ بابے یہ بات نہ بھی کہتے تو بھی حقیقت یہی تھی۔

آخری بات:

کچھ بابوں کے چیلوں کو سمجھانا ہے کہ اگر تم اپنے بابے کی محبت میں اس کے جھوٹ کو سچ سمجھو گے، کسی کے سچ کو جھوٹ کہو گے، کسی کی بلا وجہ توہین کرو گے۔ تو جان لو تمہارا بابا غلط ہے یا تم۔ جو بابا تمہیں ادب آداب نہیں سکھا سکا، جھوٹ اور سچ کی تمیز نہیں سکھا سکا، مخالف کی عزت کرنا نہیں سکھا سکا۔ وہ بابا تمہیں اور کیا سکھائے گا؟

مجھے تمہاری باتوں کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔