خوبصورت اور انتہائی چھوٹے پینسل کی نوک پر تراشے گئے مجسمے

ان کے کاڑھے گئے شاہکاروں کو دیکھنے کے لیے مکعب عدسے کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ وہ انتہائی مختصر ہوتے ہیں۔ تاہم ان کی اندرونی تفصیلات دیکھ کر ہر شخص دنگ رہ جاتا ہے۔ روسی فنکار سالاوٹ فیڈائی منی ایچر مجسموں اور اشیا تراشنے کے ماہر ہیں۔ وہ انتہائی باریکی سے عام پنسل اور رنگدار پینسلوں کی نوک پر مشہور کردار، عمارات اور تاریخی مقامات تراشنے کے ماہر ہیں۔ سالاوٹ خود کو گریفائٹ اسکلپٹر یا مجسمہ ساز کہتے ہیں ۔ اگرچہ وہ پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں لیکن گزشتہ 25 برس سے پینسل کی نوک پر انتہائی مختصر مجسمے تخلیق کررہے ہیں۔ پہلے پہل انہوں نے ماچس کی ڈبیا اور پھلوں کے بیج پر پینٹنگز بنانے کا آغاز کیا اور اس کے بعد گریفائٹ پر طبع آزمائی کی جو ایک مشکل اور صبر طلب کام بھی ہے۔



انتہائی باریک مجسمے بنانے کے لیے وہ اسٹیریو مائیکرواسکوپ (خردبین) اور انتہائی باریک چھری استعمال کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ نصف سے دو ملی میٹر قطر والی پینسل کی نوک پر بھی زبردست شاہکار تخلیق کرسکتےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تکنیک اور مہارت انہیں دیگر مجسمہ سازوں سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کے بنائے گئے کارٹون، فلمی کردار اور دیگر شاہکار خاص طور پر پسند کئے گئے ہیں۔ سالاوٹ فیڈائی کے فن پاروں کی نمائش دنیا بھر میں ہوچکی ہے مگر انہیں لندن، سنگاپور، شارجہ اور دیگر ممالک میں خاص پذیرائی ملی ہے۔