سادگی اپنانی ہوگی

(عائشہ صدیقہ)

ہربحران کی طرح ، کورونا وائرس کی عالمی وبا بھی ملک کے لیے کئی چیلجنز اور مواقع لائے گی۔ اس صورتحال میں دفاعی اخراجات میں کمی جیسی بحث پس منظر میں جا سکتی ہے۔ دنیابھر کی معیشتیں سکڑرہی ہیں اور اب یہ فیصلہ ان رہنماؤں نے کرنا ہے کہ وہ اپنے عوام کی صحت ، بہبود اور ان کی ترقی پر کتنا خرچ کرتے ہیں یا دفاعی اخراجات کو اولیت دیتے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی ریاست ان حالات سے کیسے نبرد آزما ہوتی ہے۔



ضرورت تو اس بات کہ دفاعی بجٹ کا ایک بڑا حصہ کووڈ ۱۹ کی وبا سے پیدا شدہ صورتحال سے نبٹنے کے لیے استعمال میں لایا جائےلیکن شاید اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے ایک بار پھر اٹھاوریں ترمیم کو متنازعہ بنایا جارہا ہے تاکہ اس کو ختم کرکے صوبوں کے مالی وسائل کو مرکز استعمال میں لا سکے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے سابقہ ڈی جی،آئی ایس پی آر ، جنرل عاصم باجوہ کی بطور میڈیا انچارج کی تقرری کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی معاشی صورتحال سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری ہتھیاروں کی دوڑ میں بہرحال کچھ ٹھہراؤ آجائے گا کیونکہ دونوں ممالک کے پاس آنے والے دنوں میں پیسوں کی قلت ہو گی۔ تاہم بھارت نے ان ہی دنوں ہتھیاروں کی خرید کے لیے کئی معاہدے کیے ہیں لیکن شاید بھارت بھی اس قابل نہیں ہو گا کہ وہ دفاعی اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ کر سکے۔یہ صورتحال کوئی اتنی پریشان کن بھی نہیں ۔ کم و بیش پورے خطے میں یہی صورتحال ہے۔ پاکستان کے پاس ابھی ہتھیاروں کی خرید جیساکوئی آپشن نہیں ۔ اسے تو بڑی مشکل سے قرضوں کی ادائیگی میں سہولت کے لیے آئی ایم ایف سے 1.38بلین ڈالر ملے ہیں اور یہ رقم پہلے سے موجود 112 بلین ڈالر کے قرضے کی ادائیگی میں صرف ہو جائے گی۔

کرونا وائرس کی عالمی وبا سے پہلے ہی پاکستان کا گروتھ ریٹ سال 2019-20 کے لیے 5.7 فیصد سے کم ہو 2.4 فیصد تک آگیا تھا۔ اس طرح کے مایوس کن اعداد وشمار شاید ہی پاکستان کی سیکیورٹی ایسٹیشلمنٹ کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوں۔ یاد رہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے دوران ہی حکومت پاکستان نے پاکستان آرمی کو دفاعی اخراجات کے علاوہ سی پیک کی حفاظت پر مامور پاکستان آرمی کے ڈویثرن کو 11.48 بلین ، سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن کو 468.2 ملین اور نیو کلئیر ریگولیٹری اتھارٹی کو 90.45ملین روپوں کا فنڈ جاری کیا ہے۔

آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق سال 2020-21 میں پاکستان کی جی ڈی پی کا گروتھ ریٹ منفی 1.5 فیصد گرنے کی توقع ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو اپنے بجٹ کو متوازن کرنے کے لیے بہرحال کچھ اقدامات اٹھانے ہوں گے اور کچھ فنڈز ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کرنا ہوں گے۔ جبکہ پاکستان آرمی اپنے بجٹ پر نظر ثانی کے لیے تیار نہیں۔ گو ڈی جی آئی ایس پی آر بابر افتخار نے دعویٰ کی ہے کہ وہ پاکستان آرمی ، ان خدمات کے لیے کوئی مزید رقم نہیں لے گی جو آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت حکومت کی طرف سے عوامی خدمات کے لیےبلائی جاتی ہے ۔ یہ فیصلہ شاید اس لئے کیا گیا ہے کہ خزانے میں الاؤنس دینے کی گنجائش نہیں۔ لیکن پاکستان آرمی کو سال 2010میں منظور کردہ اٹھارویں ترمیم سے بہت زیادہ تکلیف ہے جس کے تحت وسائل کا اختیار صوبوں کو دیا گیا ہے۔

یہ درست ہے کہ صوبے ابھی بھی اپنے وسائل کو درست انداز میں استعمال میں لانے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے لیکن اس کے فوائد نظر آررہے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر صحت کے شعبہ کو دیکھا جائے تو تمام صوبوں نے اس مد میں کافی خرچ کیا ہے۔ پاکستان آرمی اس ترمیم سے تنگ ہے کیونکہ مرکزی حکومت کے پاس فوج کو دینے کے لیے وسائل بہت کم رہ گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے درمیان یہی کشمکش تھی۔سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مرکز کے پاس اب مزید وسائل نہیں جو آرمی کو دیئے جا سکیں۔یاد رہے کہ جنرل باجوہ نے اٹھارویں ترمیم کے خلاف عوامی بیان بھی دیا تھا اور اسے شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات کے برابر قرار دیا تھا۔

یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ سابقہ ڈی جی آئی ایس پی آر ، جنرل عاصم باجوہ کو عمران خان کی میڈیا مینجمنٹ کو بہتر کرنے کے لیے ان کو میڈیا ٹیم کاانچارج بنایا گیا ہے۔عاصم باجوہ کو اس بات کے جواب دینے کیلئے نہیں لایا گیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں وینٹی لیٹرز سمیت ڈاکٹرز اور نرسوں کے لیے ضروری حفاظتی سامان کیوں نہیں مہیا ہو رہا یا لاک ڈاؤن میں توسیع کی جائے یا نا، بلکہ ان کا زور اس بات پر ہوگا کہ اٹھارویں ترمیم سے کیسے جان چھڑائی جائے۔عاصم باجوہ اپنے تمام روایتی حربے، جن میں نرمی، سختی اور دھوکہ دہی شامل ہیں، استعمال کرتے ہوئے، اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں خاص قسم کی خبروں کو شائع ہونے سے روکیں گے، اٹھاوریں ترمیم کے حق میں لکھے گئے کالم اخبارات سے غائب ہو جائیں گے، میڈیا کے ارکان کو خریدیں گے اور سوشل میڈیا پر اپنی ایک میڈیا ٹیم تشکیل دیں گے۔

عاصم سلیم باجوہ ایک تجربہ کار جرنیل ہیں ۔ انہوں نے اپنے آرمی چیف، جنرل راحیل شریف کو جو کہ فنی اعتبار سے پست قد تھے انکو لوگوں کے ذہن میں انہیں سرو قد بنا دیا تھا۔ اورغیر محسوس طریقے سے اپنی میڈیا ٹیم میں اضافہ کیا جس کے اثرات سرحد پار بھی محسوس کیے گئے۔ 2019 میں بھارت کے ریٹائرڈ جنرل عطا حسنین نے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز ، لندن میں آئی ایس پی آر کی کارگردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ادارہ کیسے اطلاعات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں مہارت اختیار کرچکا ہے۔

عمران خان کی نئی میڈیا ٹیم اس بات کو یقینی بنائے گی کہ سیاسی اور سماجی حالات کو پرسکون دکھایا جائے اور اٹھارویں ترمیم سے کیسے جان چھڑائی جائے۔اسےیہ ہائبرڈ وار کا نام دیں گے۔ پچھلے کچھ سالوں سے یہ تصور آرمی میں بہت مقبول ہوا ہے۔ صوبائی خود مختاری کی وکالت کرنے والوں کو ریاست کے خلاف پراپیگنڈہ تصور کیا جائے گا اور عاصم باجوہ اس قسم کے پراپیگنڈے کے ماہر ہیں۔ جبکہ اپوزیشن سیاسی جماعتیں پہلے ہی کمزور ہیں انہوں نے عاصم باجوہ کی تقرری پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جو پہلے ہی سی پیک اتھارٹی کے چئیرمین کی حیثیت سے بھاری تنخواہ لے ر ہے ہیں۔سیاسی جماعتوں کی خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ مستقبل میں بھی ہونے والی بہت سی تبدیلیوں پر خاموشی ہی اختیار کی جائے گی۔

پاکستان آرمی کو اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے میڈیا منیجمنٹ کرنا ضروری ہے۔جب بھی کوئی افسر میجر کے عہدے سے ترقی کرتا ہوا تھری سٹار جنرل بنتا ہے تو اس کے پاس درجنوں پلاٹ ہوتے ہیں۔ ہر ترقی یا کورس کے خاتمے پر ان کو کچھ نہ کچھ مالی فائدہ دیا جاتا ہے۔ کور کمانڈر کم ازکم ایک ارب روپے کی جائیداد کا مالک ضرور ہوتا ہے۔ آرمی چیف کے پاس تو کہیں زیادہ جائیداد ہوتی ہے۔ کئی جرنیل تو زیادہ دولت کمانے کے لیے نئے راستے تلاش کرتے ہیں۔ان مراعات کے باوجود لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو قومی راز فروخت کرنے کی کوشش کی جس پر اسے عمر قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔

ملٹری اکاؤنٹس کے ذرائع کے مطابق سابق چئیرمین جائینٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چئیرمیں جنرل زبیر حیات کو دو عہدے رکھنے کے عوض لاکھوں رویئے اپنی پنشن میں شامل کروا لئے۔ ہر بار بہانہ یہی کہ ملک کی سلامتی کی خاطر پیسے دئے جائیں تاکہ افسران ملکی روح اپنے سینوں میں سنبھال کر رکھیں۔ اتنے سالوں میں لگتا ہے کہ ملکی سلامتی ایک کاروبار بن کر رہ گئی ہے جس کے قیمت افسران بڑھا چڑھا کر لیتے ہیں اسکے باوجود کہ عام لوگوں کو یہی بتایا جاتا ہے کہ یہ قربانی دے رہے ہیں۔ تاہم ان افسران کو دیئے گئے یہ مالی فائدے آرمی کی کارکردگی بہترنہیں کرتے۔

ان حالات میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان خطرے کی سطح انتہائی کم ہو ملٹری کی جدید ضروریات کی گنجائش رہتی ہے۔ پاکستان ففتھ جنریشن فائٹر طیاروں کی حصول کی کوشش کررہا ہے جبکہ اس نے چین، اٹلی، روس اور ترکی سے جدیدہتھیار خریدے ہیں۔ لیکن ان ہتھیاروں کی درآمدات نہایت محدود ہے بلکہ سال 2010 کے مقابلے میں صرف 30فیصد ہیں۔

اگر فوج اپنے وسائل کے ضیاع کوروک سکتی ہے جو کہ ایک اندازے کے مطابق بیس سے تیس فیصد ہیں تو یہ وصائل ہتھیار لینے یا کارکردگی بڑھانے کیلئے کام آ سکتے ہیں ۔لیکن جی ایچ کیو اس طرح کے آپشنز پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں۔ پاکستان آرمی ہر اس آواز کو خاموش کرنے کی کوشش میں ہے جو کووڈ 19 کی آڑ میں دفاعی اخراجات میں کمی کی بات کرے۔میرے ایک دوست جو سیاسی سوچ والی نہیں انہوں نے بھی حال میں ہونے والے نیوی کے میزائل ٹیسٹ کی بہت مذمت کی۔ آخر جب قوم کو اتنے مسائل درپیش ہیں تو یہ جنگی نمائش کیوں۔ ایک ٹیسٹ نہ کرنے سے پاکستان کوئی کمزور نہیں ہوتا نہ ہی دشمن پر کوئی خاص اثر پڑتا۔ لہذا کووڈ 19 اور اس کے بعد کی صورتحا ل سے نمٹنے کے بڑے اداروں کو نہ صرف قربانی بلکہ سادگی اپنانی ہوگی