ماں جیسا رشتہ کوئی اور نہیں

ایک بار امی سے پوچھا

امی ہمارے دور میں پیمپرز نہیں ہوتے تھے تو آپ کیا کرتیں تھیں۔۔۔


امی کہنے لگیں ویسے ہی ان کے بغیر سنبھالتے تھے۔اگر تم چارپائی پہ جگہ گیلی کردیتے تھے تو گیلی جگہ پہ میں چلی جاتی تھی اور تمھیں دوسری طرف کردیتی تھی۔۔

پوچھا اماں کچھ تو کیا ہوگا کہ کافی عرصہ یہ پیمپرز والا سلسلہ چلتا ہے۔
کہنے لگیں ایک دن تم نے پشی کردی۔۔۔

سردیاں تھیں۔۔

میں نے تجھے باھر صحن میں لگے ہینڈ پمپ (نلکے)پہ لے جاکر صاف کیا اور نہلایا۔اس سردی میں ٹھنڈے پانی سے نہلانے کے بعد تم نے جب بھی کچھ ایسی حرکت کرنا ہوتی۔مجھے سوئی ہوئی کو جگا کے کہتے کہ اماں مجھے باھر لے جاو مجھے پشی کرنی ہے۔۔۔
سلام ہے ماوں کو۔۔۔

خاص طور پہ ہماری ماوں کو۔۔۔۔ہمارے بچوں کی مائیں تو تب آئیں جب پیمپرز ،فیڈرز،سیریلک،موجود تھا۔۔۔۔ہمارے پاس تو ایک گرائپ واٹر ہوتا تھا۔جس پہ ایک بچہ دو سانپ پکڑ کہ بیٹھا ہوتا تھا ۔جب وہ ختم ہو جاتا تو اسی بوتل کے اوپر نپل لگا کر اماں فیڈر کا کام لے لیتیں۔۔
ہماری مائیں بہت عظیم تھیں۔۔

گھر کچھ نہ ہوتا تو آلو شوربہ بنا لیتیں۔۔اور یقین جانیں جتنا ٹیسٹی وہ ہوتا تھا۔اتنا مٹن شوربہ بھی نہیں ہوتا۔۔۔ہماری ماوں کی ایجاد ہیں یہ مٹرپلاو ،چنے والے چاول۔دال چاول اور آپ دیکھ لیں آپ جو بھی کھالیں۔۔لیکن ان کا ٹئیسٹ اپنا ہی ہوتا ہے۔۔
ماں کی ممتا۔۔۔
کیا ہے؟؟؟

ہمیں سمجھ نہیں آئی۔۔۔لیکن ملٹی نیشنل کمپنیز کو سمجھ آگئی۔۔اسی لئے وہ کہتے ہیں جہاں ممتا وہاں ڈالڈا۔۔۔۔خیر انہوں نے تو اپنا پراڈیکٹ بیچنا ہوتا ہے۔لیکن سچ یہ ہے کہ ممتا ایک ایسا لفظ ہے جس کی تشریح کریں تو کئی صفحات بھر جائیں۔ممتا ماں کی فیلنگز،ماں کا پیار اور ماں کی محبت کا نچوڑ ہے۔آپ دیکھیں صرف ماں کے لئےممتا ہے۔ آپ سوچیں ابا کے لئے اببتا کیوں نہیں۔۔بھائی کے لئے بھھبتا کیوں نہیں۔۔بہن کے لئے بہبنتا کیوں نہیں.۔۔بیوی کے لئے بیوبتا کیوں نہیں۔۔۔کیوں کہ ممتا بس ممتا ہے۔۔۔ماں کی محبت، ماں کا پیار ماں کا لاڈ ،ماں کی ہر ادا ممتا ہے۔۔۔۔یہ صرف انسانوں تک محدود نہیں۔آپ جیوگرافک ورلڈ دیکھیں آپ دیکھتے ہیں کہ کئی ہرنیاں اپنے بچوں کو بچاتے بچاتے خود شیر کے آگے ہوجاتی ہیں۔اور اپنی جان دے دیتی ہیں اپنے بچے کو نقصان نہیں پہنچنے دیتیں۔۔۔بلکہ یہاں تک دیکھا گیا کہ وہ شیرنی جو ماں بن چکی ہوتی ہے۔اس کو بھوک بھی لگی ہو اور ہرن کا معصوم بچہ اس کےمنہ کے آگے کھڑا ہو تو وہ اس معصوم کو نہیں کھاتی۔کیونکہ وہ ایک ماں بن چکی ہوتی ہے۔۔۔

مائیں کمال ہوتی ہیں۔۔ان کے لئے ایک دن نہیں کم ازکم ایک ہفتہ یا ایک مہینہ مختص کیا جانا چاھیے۔۔سب کو اپنی ماں سے پیار ہوتا ہے
بادشاہوں کو ،فقیروں کو۔۔۔سب کو۔۔۔۔

آپ دیکھ لیں وزیراعظم عمران خان کی زندگی کا مقصد و محور شوکت خانم بن گئی۔۔۔۔اس کی زندگی بدل گئی اپنی ماں کی بیماری کے بعد۔۔۔۔بالکل بدل گئی۔۔۔آپ نواز شریف کو دیکھیں جہاں جاتا ہے ماں سے پیار لے کر جاتا ہے۔بی بی بھی ایسے ہی کرتی تھی۔بلاول جیسا بچہ اماں کو یاد کرتا ہے تو اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔

ماں ماں ہے۔۔۔۔۔
ماں کا تھپڑ بھی پیار ،ماں کی ڈانٹ بھی پیار، ماں کا غصہ بھی پیار اور ماں کی سزا بھی پیار۔۔۔۔
ماں کیا ہے۔۔۔
اس بات سے اندازا لگائیں کہ مثال یہ دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے 70 ماوں سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔
ماں کے قدموں میں جنت ہے۔۔۔بس بات ختم۔۔۔
ماں سب سے افضل رشتہ ہے۔۔
ماں اپنے اولاد کی آنکھیں پڑھ لیتی ہے۔۔چہرہ پڑھ لیتی ہے۔۔۔۔
ہم نےماں کو محدود کردیا۔۔۔ایک مدر ڈے۔۔بس ایک۔۔۔

ہم اپنی ماں کے سب احسانوں کا بدلہ چکا بھی دیں تو ان 9 ماہ کا نہیں چکا سکتے جن 9 ماہ میں اس نے اپنے پیٹ میں اپنے خون سے ہماری پرورش کی۔۔۔۔اپنی راتوں کی نیندیں برباد کیں۔۔۔اور اگر اس کے بعد اس بات پہ آجائیں کہ اس کے پلائے دودھ کے ایک قطرے کا حساب ہم نہیں چکا سکتے۔۔۔
ماں کی تعریف کی ہی نہیں جاسکتی۔

ماں بس ماں ہے۔۔۔
ہم اس دنیا میں رھتے ہیں جہاں خود غرضی ہے۔۔
دھوکہ ہے ،فراڈ ہے۔۔۔بےایمانی ہے۔۔لیکن جب ماں کا چہرہ نظر آتا ہے تو سب بھول جاتا ہے۔۔۔ماں کی محبت بے لوث ہے۔۔۔
ہم نے سن رکھا ہے کہ ماں کی محبت تب دیکھی جب سیب 4 اور ہم بندے 5 تھے تو ماں نے کہا کہ مجھے سیب پسند ہی نہیں۔۔۔
ارے یار۔۔۔

یہ کیا بات ہوئی ہم نے ایسی مائیں دیکھیں جن کے گھر ایک روٹی کا آٹا تھا
تو وہ خود بھوکی رھی اور اس نے اپنے بچوں کو کھلایا۔۔۔ہم۔نے وہ مائیں دیکھی ہیں جو اپنے بچوں کے لئے اپنی کئی معصوم خواہشات چھپا کے رکھتی ہیں۔آپ ماوں کی دعا دیکھیں۔۔وہ ہمیشہ یہ دعا کرتی ہیں کہ وہ اپنی اولاد کا دکھ نہ دیکھیں۔۔۔
انور مسعود کی نظم جو ممتا کی محبت پہ لکھی ہےوہ پتھر سے پتھر دل انسان کو رلا دیتی ہے۔۔
جس میں وہ بچہ ماں کو مار مار کے سکول چلا جاتا ہے۔
اور ماں تڑپتی ہے کہ آج وہ ناراض ہوکر بھوکا سکول چلا گیا ہے۔اور اس کے لئےروٹی بھیجتی ہے۔۔۔

کہا ناں ماں کی محبت ۔۔۔۔

بس یہی محبت ہے۔۔۔

باقی تو بس ۔۔۔۔۔

ایویں ہی ہے۔۔۔۔

ہوسکتا ہے کہ کوئی میرے رائے سے اختلاف کرتا ہو۔۔۔لیکن یہ سچ ہے کہ ماں کی محبت جیسی کوئی محبت نہیں۔۔۔۔ماں جیسا رشتہ کوئی اور نہیں۔۔اللہ سب کی ماوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔۔اور جن کی وفات پاچکی ہیں۔اللہ ان کو جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے۔آمین۔۔۔۔
(شہزادعلی اکبر)