کراچی طیارہ حادثہ

آخری لمحات میں کیا کچھ ہو رہا تھا؟ اہم سوالات اور ان کے ممکنہ جوابات

آخر ایک پائلٹ کیوں اپنی موت کا سامان کرے گا؟ مشین خراب بھی تو ہو سکتی ہے؟



یہ اور اِن جیسے دیگر ان گنت سوالات دنیا بھر میں پی آئی اے کے طیارے کو کراچی میں پیش آنے والے حادثے کے بعد کیے جا رہے ہیں۔ اس حادثے میں عملے کے اراکین سمیت 97 افراد ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوئے تھے۔

ان سوالات کا محور تین اشخاص ہیں: حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے کیپٹن سجاد گل، فرسٹ آفیسر عثمان اعظم اور ایک نامعلوم ایئر ٹریفک کنٹرولر جو اس بدقسمت پرواز کو آخری لمحات میں ہدایات جاری کر رہے تھے۔

فلائیٹ ریڈار نے سوموار کو نیا ڈیٹا جاری کیا ہے جس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے طیارہ رن وے پر سطح سمندر سے کم از کم 21 فٹ کی اوسط بلندی تک آیا تھا۔ اس ڈیٹا سے ان مبینہ خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ طیارے نے کراچی ایئرپورٹ کے رن وے کی سطح کو چھوا تھا اور رگڑ کھائی تھی۔

اس رپورٹ کی تیاری کے لیے ہم نے ایئر بس اے تھری ٹوئنٹی اڑانے والے پائلٹس کے علاوہ پی آئی اے، ایمرٹس اور ترکش ایئر لائنز کے چند انجینیئرز اور سول ایوی ایشن حکام سے بات کی ہے۔ تاہم یہ افراد بوجوہ اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

اب تک ہمیں ڈیٹا اور دوسرے ذرائع سے کیا کچھ معلوم ہوا ہے، آئیے اس پر نظر ڈالتے ہیں۔

طیارے کی پہلی بار لینڈنگ کی کوشش

فلائیٹ ریڈار کی جانب سے جاری کردہ چارٹ میں واضح ہے کہ طیارے کے لاہور سے ٹیک آف (اڑان) کرنے کے بعد اس کی پرواز میں ایک تسلسل ہے جبکہ کراچی میں اس طیارے کی پرواز اور لینڈنگ بہت ہی عمودی اور بے ربط ہے۔ چارٹ کو بغور دیکھنے پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی شے تیزی سے طیارے کو نیچے لا رہی تھی۔

بلندی بتانے والا یہ چارٹ واضح کرتا ہے کہ جب طیارے کی لینڈنگ سے قبل اس کی بلندی دو ہزار فٹ ہونی چاہیے تھی اس وقت طیارے کی بلندی دس ہزار فٹ تھی۔ اس کے بعد طیارہ بہت تیزی سے بلندی کھوتا ہے، جو کہ عام حالات میں بالکل نہیں ہوتا۔

ایئر بس اے تھری ٹوئنٹی کو اڑانے والے ایک پائلٹ نے بتایا کہ ’اس فاش غلطی کے نتیجے میں پائلٹ ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہو گیا جس میں آپ کے پاس فیصلہ کرنے اور سوچنے کے راستے محدود ہوتے جاتے ہیں، ایسی صورتحال میں آپ کو اپنی تمام تر توانیاں مرکوز کر کے عمل کرنا پڑتا ہے اور پراسیس فالو کرنے پڑتے ہیں۔‘

ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک کی جانب سے جاری کیے گئے ایک گراف میں کسی بھی اے تھری ٹوئنٹی طیارے کی نارمل لینڈنگ اور حادثے کا شکار ہونے والے پی آئی اے طیارے کی لینڈنگ کا موازنہ کیا گیا ہے۔

اس موازنے میں ایک بات بہت واضح ہے کہ پائلٹ کی اپروچ ہی غلط تھی اور ماہرین کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرولر کو اس صورتحال میں انھیں لینڈ کرنے کی اجازت ہی نہیں دینی چاہیے تھی۔

اے ٹی سی لائیو پر دستیاب ایئر ٹریفک کنٹرولر کی پائلٹ سے گفتگو کا آغاز ہی اس جملے سے ہوتا ہے جس میں پائلٹ ایئر ٹریفک کنٹرولر سے کہتا ہے کہ ’ہم آرام سے کر لیں گے، انشااللہ۔‘

امکان یہی ہے کہ پائلٹ نے شاید یہ بات اس وقت کی ہو گی جب ایئر ٹریفک کنٹرول نے پائلٹ کو جہاز کی اونچائی کے بارے میں یاد دہانی کروائی ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹEPA

ہم یہ بات اس لیے کہہ سکتے ہیں کیونکہ چند منٹ کے بعد ایئر ٹریفک کنٹرولر سے پائلٹ کہتے ہیں کہ ’ہم اب (لینڈنگ پروفائل) پر آرام سے ہیں، ساڑھے تین ہزار سے تین ہزار پر اور پچیس لیفٹ رن وے پر آئی ایل ایس پر ایسٹیبلیش کریں۔‘

ایک پائلٹ، جنھوں نے کیپٹن سجاد گل کے ساتھ کئی پروازیں کی ہیں، اس گفتگو کا مطلب کچھ اس طرح سمجھاتے ہیں کہ ’اس گفتگو کا مطلب یہ ہے کہ پائلٹ اپروچ پر آ رہا ہے یعنی اس فضائی راستے پر جس پر وہ بالآخر لینڈ کرے گا۔ پائلٹ کہہ رہا ہے کہ ہم آرام سے اتر سکتے ہیں اور انسٹرومینٹ لینڈنگ سسٹم پر سیٹ ہو چکے ہیں۔ انسٹرومینٹ لینڈنگ سسٹم سے مراد فضا میں بنا وہ راستہ ہے جو طیارے کو آہستہ آہستہ اتار کر لینڈ کرواتا ہے۔ یہ روشنیوں اور ورچول نکات کا ایک مجوعہ ہوتا ہے جس کی مدد سے طیارے اترتے ہیں۔ اس میں بھی کئی درجہ بندیاں ہیں۔‘

پائلٹ کی جانب سے بھیجے گئے پیغام کے جواب میں ایئر ٹریفک کنٹرول کہتا ہے کہ ’بائیں 180 کے زاویے پر مڑیں۔‘

اس سے مراد یہ ہے کہ ایئر ٹریفک کنٹرولر پائلٹ سے کہہ رہا ہے کہ آپ بائیں مڑ جائیں یعنی دوبارہ چکر لگا کر آئیں۔ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ایئرٹریفک کنٹرول کے مطابق جہاز زیادہ بلند تھا اور مقررہ یا متوقع بلندی پر نہیں تھا۔

اس کے جواب میں پائلٹ ایئر ٹریفک کنٹرولر کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ وہ پرسکون ہیں اور انسٹرومینٹ لینڈنگ سسٹم پر ایسٹیبلیش ہو چکے ہیں۔

اس کے بعد ایئر ٹریفک کنٹرولر کہتا ہے کہ ’سر آپ ٹچ ڈاؤن سے پانچ میل کے فاصلے پر ہیں اور ابھی تک 3500 فٹ کی بلندی پر ہیں۔‘

ایئر ٹریفک کنٹرولر ہر طیارے پر نظر رکھتا ہے اور ریڈار کی مدد بھی لیتا ہے اسی لیے اس نے پائلٹ کو بتایا کہ طیارے کی بلندی زیادہ ہے اور رن وے سے طیارے کا فاصلہ کم ره گیا ہے۔ اسی لیے وہ پائلٹ کو ہدایت جاری کرتے ہیں کہ طیارے کی بلندی زیادہ ہے، بائیں مڑ کر ایک اور چکر لگا لیں اور مطلوبہ بلندی پر طیارہ لا کر لینڈ کرنے کے لیے دوبارہ واپس آ جائیں۔

پی آئی اے کے پائلٹ نے اس کے بعد ’روجر‘ کہا اور پھر ٹریفک کنٹرولر نے اسے لینڈ کرنے کی اجازت دے دی۔

اس کے کچھ دیر بعد طیارے کی آڈیو میں ایک سائرن کی آواز سنائی دیتی ہے، جس کے بعد پائلٹ کی آواز آتی ہے کہ ہم دوبارہ چکر لگا کر لینڈ کرنا چاہتے ہیں۔

دو اہم منٹ

اس سارے عمل کے دوران وہ دو منٹ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جن کے دوران طیارے نے رن وے پر رگڑ کھائی اور فلائٹ ریڈار کے تازہ ڈیٹا چارٹ کے مطابق طیارہ رن وے کے اوپر 21 فٹ کی بلندی تک آیا۔

ان دو منٹوں کے دوران کیا ہوا یہ ایک معمہ ہے۔

تاہم اس دوران سامنے آنے والی گفتگو کے نتیجے میں چند اہم سوالات جنم لیتے ہیں:

کیا پائلٹ نے طیارے کے لینڈنگ گیئر یعنی پہیے کھولے تھے یا نہیں؟

اگر نہیں تو کیوں نہیں کیا اس کے وجہ تکنیکی خرابی تھی یا انسانی غفلت؟

کیا ایئر ٹریفک کنٹرولر نے طیارے کو دوربین لگا کر دیکھا تھا جو کہ قواعد و ضوابط کے تحت لازمی عمل ہے؟

اگر دیکھا تو اسے کیا نظر آیا، آیا لینڈنگ گیئر کھلے ہیں یا نہیں۔ اگر لینڈنگ گیئر نہیں کھلے تھے تو اس نے اس پر کیا ردِ عمل دیا؟

اگر نہیں دیکھا تو کیوں نہیں دیکھا اور کیا اس پر اس کی گرفت ہو گی؟

انہی تمام سوالات کے جواب حاصل کرنے کے لیے حکومتی انکوائری کمیٹی کے ممبران نے سب سے پہلے رن وے کا دورہ کیا اور جائزہ لیا کہ وہاں پر کیا شواہد موجود ہیں۔

رن وے کی تصاوير، رگڑ، ایندھن کے گرنے اور دھات کے ٹکرانے کے نشانات واضح طور پر دکھاتی ہیں۔ جس سے اس ڈیٹا کو تقویت ملتی ہے جس کے مطابق طیارے نے رن وے سے رگڑ کھائی تھی۔

طیارے کی حالت

طیارے کی صحت اور حالت کے بارے میں بہت سے باتیں کی جا رہی ہیں مگر اس کے انجن کے حوالے سے ایک بات اس سارے واقعے سے ثابت شدہ ہے کہ انھوں نے رگڑ کھانے اور رن وے پر گھسٹنے کے باوجود طیارے کو اٹھایا اور تین ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچانے میں کامیاب رہے۔

یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔

ایمیرٹس ایئرلائن کا بوئنگ ٹرپل سیون طیارہ پرواز 521 لے کر ترونتاپورم سے دبئی پہنچا تھا اور لینڈنگ کے وقت طیارے نے اتر کر رن وے پر لگنے کے آٹھ سیکنڈز بعد دوبارہ پرواز کرنے کی کوشش کی تھی مگر 80 فٹ تک بلند ہونے کے بعد طیارہ دوبارہ زمین پر گرا اور رگڑ کھا کر رن وے پر جا کر رک گیا تھا اور اس میں آگ گئی تھی۔

کراچی میں پی آئی اے کے طیارے کے حادثے میں ہلاک مسافروں کی شناخت کا عمل جاری
اس سے ممکنہ طور پر یہ واضح ہوتا ہے کہ پی آئی اے کے طیارے میں مبینہ طور پر کوئی خرابی نہیں تھی کیونکہ اب تک سامنے آنے والے شواہد سے یہ پتا چلتا ہے کہ ظاہری طور پر طیارے نے آخری لمحے تک کپتان کا ساتھ دیا۔ٹچ ڈاؤن کے بعد انجن کے رن وے سے رگڑ کھانے کے بعد دوسری کوشش میں بھی طیارہ بظاہر آخری لمحات سے قبل تک پائلٹ کے کنٹرول میں رہا۔

لیکن اس کے لینڈنگ گیئر کے بارے میں سوالات کا جواب بلیک باکس سے ملے گا کہ کیا انہیں کھولا گیا اور اگر کھولا گیا تو کھلے یا نہیں اور اگر نہیں تو کیوں نہیں۔

کیا پائلٹ ابتدا میں لینڈنگ گیئر کھولنا بھول گیا؟

رابطہ کرنے پر چند پائلٹس اور انجنیئرز کا کہنا تھا کہ تکنیکی طور پر ایسا ممکن نہیں کہ لینڈنگ سے قبل پائلٹ لینڈنگ گیئر کھولنا بھول جائے۔

انھوں نے کہا کہ اگر لینڈنگ گیئر نہ کھلے تو طیارے میں لگے سینسرز متنبہ کر دیتے ہیں، طیارے میں ایک سے زیادہ سینسرز ہونے ہیں اگر ایک خراب بھی ہو جائے تو دوسرا سینسر تنبیہ جاری کرتا ہے۔

مگر چند ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ تھکن، پریشانی، اور توجہ ایک جانب مرکوز ہونے کی صورت میں ایسا ممکن ہے کہ طیارے میں بجنے والے الارم کو نظر انداز کر دیا گیا ہو۔

اس قسم کی کیفیت کو ’ٹنل ویژن‘ کہا جاتا ہے جس کے شکار فرد کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ ایک سرنگ میں دیکھ رہے ہیں جس کا محور اس کے آخر پر نظر آنے والی روشنی ہے۔

شاید بلیک باکس میں موجود فلائٹ وائس ریکارڈر سے اس بات کا جواب مل جائے۔ وائس ریکارڈر میں طیارے کے کاک پٹ میں ہونے والی تمام گفتگو ریکارڈ ہوتی ہے۔ اس سے پتا چلے گا کہ ان آخری لمحات میں ایئر ٹریفک کنٹرولر سے بات کرنے کے علاوہ پائلٹس کے درمیان کیا بات ہو رہی تھی۔

آخری لمحات میں کارفرما عوامل

اس طیارے نے جب رن وے سے اڑان بھر کر دوبارہ پرواز کرنے کا فیصلہ کیا تو ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ درست نہیں تھا۔

ماہرین کے مطابق اگر پائلٹ دوبارہ اڑان بھرنے کی بجائے طیارے کے انجن بند کر دیتے تو ممکنہ طور پر طیارہ گھسٹتا ہوا رن وے کے آخر تک پہنچتا اور شاید اتنی تباہی نہ ہوتی۔

فضا میں طیارے کے انجن بند ہونے کے بارے میں پائلٹ نے بالکل آخر میں بتایا اور اس پر ایئر ٹریفک کنٹرولر کے انتہائی اہم سوال کہ ‘کیا بیلی لینڈنگ کریں گے؟’ کا پائلٹ کی جانب سے جواب نہیں دیا گیا۔

اس دوران پائلٹ نے اپنے طیارے کے دونوں لینڈنگ گیئر کھول لیے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ لینڈنگ گیئر ٹھیک تھے، جس سے طیارے کے گرنے کا عمل تیز ہو گیا۔

لینڈنگ گیئر کھلنے سے طیارے کی ’ڈریگ‘ یعنی فضائی رگڑ میں اضافہ ہو گیا اور طیارہ ایک وزنی بوری کی طرح زمین کی جانب گرتا چلا گیا۔

ڈریگ کو فضائی رگڑ کہا جا سکتا ہے اور اس میں کارفرما دو عوامل ہوتے ہیں۔ جو فضا میں موجود مالیکیولز اور طیارے کی چکنی سطح ہیں۔ یہ ڈریگ کو کم کرتے ہیں اور ان کے برخلاف ہر چیز ڈریگ میں اضافہ کرتی ہے اور طیارے کی اڑان کو کم کرتی ہے۔

اس کی ایک بہت اچھی مثال ایئر کینیڈا کی پرواز 143 کی ہے جسے ’گملی گلائیڈر‘ کہا جاتا ہے جو ایندھن کم ہونے پر بھی کئی میل تک پرواز کرتا ہوا بالآخر اترنے میں کامیاب ہوا۔ مگر اس صورتحال میں بھی پائلٹس نے بالکل آخر میں لینڈنگ گیئر کھولے تاکہ ڈریگ پر اثر نہ پڑے۔

اس معاملے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے بتایا کہ ’بارہا پی آئی اے کی جانب سے اپیل کی گئی ہے حادثے کی اصل وجہ کا تعین صرف تحقیقات کے نتیجے میں ہو گا۔ محدود معلومات اور چند ویڈیوز کی بنا پر ذمہ داری کا تعین کرنا نامناسب ہے۔ یہ ایک قومی المیہ ہے اس وقت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا یا ایک گروہ کی جانب سے اپنے مفادات کو فروغ دینا قابل مذمت عمل ہے۔‘

تحقیقات درست نہج پر ہیں؟

طیارہ حادثے میں ہونے والی تحقیقات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن پائلٹ ایسوسی ایشن (پالپا) کی جانب سے اس حوالے سے قائم کردہ کمیٹی میں متعلقہ ماہرین کی کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

پالپا کے ایک رکن نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بات انتہائی افسوسناک بات ہے کہ پائلٹ کے روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کو مسئلہ بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا ہر سال دنیا بھر میں فضائی کمپنیاں مسلمان پائلٹس اور پی آئی اے اپنے پائلٹس کو سرکلر جاری کر کے ہدایت کرتی ہے کہ روزہ رکھ کر پرواز نہ کریں۔

(طاہر عمران)