قومی زبان

جو انسان عزت نفس سے ہی عاری ہو اس کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے، اس کے کسی قول یا فعل پر کیا تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔

آدمی ساری عمر کوشش کرتا ہے، دولت کمانے کی، شہرت حاصل کرنے کی، عزت کمانے کی۔ انگریزی کی ایک بہت مشہور کہاوت ہے کہ :-



جب دولت جاتی ہے تو کچھ نہیں جاتا،

جب صحت جاتی ہے تو کچھ نقصان ہوتا ہے،

مگر جب عزت چلی جائے تو انسان سب کچھ کھو دیتا ہے۔

کبھی وہ خود کو کھڑوس بڈھا کہتا ہے، کبھی اپنے تئیں موالی گردانتا ہے، اور کبھی اپنے آپ کو ایک آوارہ شخص کے طور پر متعارف کرواتا ہے۔ کالم کا عنوان بھی “سب جھوٹ “ہے، اب اگر تو وہ اپنے آپ کو وہی کہتا رہے جو وہ ہے اور اپنا سب کہا اسی ترنگ میں بتاتا رہے تو پھر خیر ہے، ہمیں کیا پرواہ، مسئلہ جب پیدا ہوتا ہے جب وہ اچانک اپنے چہرے پر سنجیدگی طاری کرتا ہے، آواز کو بھاری کرتا ہے اور ایک بوڑھے پروفیسر کی طرح ہمیں بھاشن دینا شروع کر دیتا ہے۔

ایسے موقعوں پر ہم جیسوں کی سٹی گم ہو جاتی ہے کہ ہم اسے کھڑوس بڈھا سمجھیں یا ناکارہ پروفیسر۔

موصوف نے پچھلےچند ہفتوں میں جو تاریخ ایجاد کی ہے اس کی دھجیاں تو محترم ڈاکٹر صفدر محمود اور جناب عزیز ظفر آزاد صاحب اڑا چکے ہیں۔ آج مجھے جس بات نے بے چین کیا ہے وہ ان کا ہماری تحریک کے بارے میں وہ بیانیہ ہے جو موصوف نے خود ہی ایجاد کیا اور خود ہی ہمارے پلے باندھ دیا۔
فرماتے ہیں،

“آج کل بظاہر اردو کے حق میں ایک ایسی تحریک بھی چلائی جا رہی ہے جس کی بنیادپاکستانی قوم کی دوسری زبانوں سے نفرت کی بنیاد پر رکھی گئی ہے”۔

آگے چل کر مزید گوہر افشانی کی ہے، کہتے ہیں،

“ایک تحریک کی طرف سے یہ مطالبہ کہ اردوکے ہوتے ہوئے انگریزی کی کیا ضرورت ہے! انگریزی کو قطعی طور پر خارج کر دیا جائے!یہ مطالبہ پڑھنے لکھنے، تعلیم و تربیت، مواصلات، بین الاقوامی محرکات اور تعلقات کی نفی کرتا ہے۔ آپ دنیا سے کٹ جائیں گے۔ اکثر چین، جاپان، جرمنی، فرانس وغیرہ کے حوالے دیے جاتے ہیں جہاں بنیادی تعلیم سے اعلیٰ ترین تعلیم تک تدریس کا ذریعہ ان کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ یہ درست ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جو ٹیکنالوجی اور اقتصادیات پر عبور رکھتے ہیں۔ ہم نے کیا ایجاد کیا ہے؟ ہماری مالی حیثیت کیا ہے؟ جس طرح برصغیر میں اردو رابطہ کی زبان ہے، اسی طرح انگریزی بین الاقوامی رابطوں کی زبان ہے۔چین، جاپان، کوریا، جرمنی ،فرانس، وغیرہ میں تو اب انگریزی بطور ایک مضمون اعلیٰ سطح تک پڑھائی جاتی ہے۔حال ہی میں پاکستان اور چین میں جو تحریری معاہدے ہوئے ہیں وہ دستاویزات انگریزی میں ہیں۔ جس طرح اردو کے بغیر ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں کا کام نہیں چل سکتا، اسی طرح انگریزی کے بغیرپاکستان کا دنیا میں کام نہیں چل سکتا۔ آکسفورڈ، کیمبرج، ہارورڈ جیسی بڑی یونیورسٹیوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم انگریزی میں دی جاتی ہے، اردو میں نہیں۔ اردو کو انگریزی کے مدمقابل لانے کی تحریک چلانے سے کچھ اچھا حاصل نہیں ہوگا”۔

آئیے میں بتاؤں کہ موصوف نے جو الفاظ ہمارے منہ میں ڈالنے کی کوشش کی ہے وہ ہمارا بیانیہ ہے کہ نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ہم اردو کے حق میں ایک ایسی تحریک چلا رہے ہیں جس کی بنیاد دوسری پاکستانی قوموں سے نفرت پر ہے۔ ہم کیا کہتے ہیں؟ ہمیں پاکستان سے پیار ہے، اس کے ہر باسی سے پیار ہے کہ وہ پاکستانی ہے۔ اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم کسی پاکستانی سے تو پیار کریں، مگر اس کی زبان سے نفرت کرنا شروع کر دیں۔ بہتر ہے کہ میں اپنی بات قدرے تفصیل سےکروں۔

پاکستان میں کتنی زبانیں بولی جاتی ہیں، آئیے شمار کرنے کی کوشش کریں، پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو، براہوی، مکرانی، دراوڑ، سرائیکی، پوٹھوہاری، ہندکو، پہاڑی، ہزارہ وال، کوہستانی، شینا، بلتی، گوجری، ملتانی، ڈیروی، میواتی یہ 19 زبانیں ہیں اور مجھے یقین کامل ہے کہ یہ فہرست نامکمل ہے، کیونکہ کہنے والوں کا کہنا ہے کہ صرف گلگت بلتستان میں 12 زبانیں بولی جاتی ہیں اور جیسے ابتدا میں سمجھا جاتا تھا کہ پنجاب میں صرف پنجابی بولی جاتی ہے، مگر شعور بڑھنے پر پتا چلا کہ پنجاب میں سرائیکی، ریاستی، ملتانی، پوٹھوہاری، میواتی، پہاڑی بھی بولی جاتی ہیں جن کا پنجابی سے کوئی تعلق نہیں ہے، بالکل اسی طرح سندھی، پشتو اور بلوچی کے بھی کئی لہجے اور کوئی تلفظ ہیں۔ (پاکستان میں کل 76 زبانیں بولی جاتی ہیں- ڈاکٹر رؤف پاریکھ)

ہمیں تو ان سب زبانوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے، اب اگر ان زبانوں کو مقامی سطح پر یا صوبائی سطح پر کسی بھی طور پڑھایا جاتا ہے، ان کی تعلیم دی جاتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں کہ آئین پاکستان کی شق 251 اس بات کی پہلے ہی اجازت دیتی ہے اور ہمارا مطالبہ ہی یہ ہے کہ آئین کی شق 251 کو من و عن اور اس کی روح کے مطابق نافذ کیا جائے۔ آئیے آئین کی اس شق پر ایک نظر ڈالیں تاکہ ہمیں پتا چلے کہ آئین کی اس شق کا مطالبہ کیا ہے اور یہ ہمیں کیا کرنے کو کہتی ہے۔

آئین پاکستان کی دفعہ 251

251. قومی زبان.

(1) پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، اور اسے سرکاری اور دیگر مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے لئے (آئین کے) اجرا کے پندرہ سال کے اندر اندر انتظامات کئے جائیں۔

(2) شق (1) کو مد نظر رکھتے ہوئے انگریزی کو سرکاری مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے تا آنکہ اس کو اردو کے ذریعے بدل دینے کے انتظامات کئے جائیں۔

(3) قومی زبان سے کوئی تعصب برتے بغیر ایک صوبائی اسمبلی قانون سازی کے ذریعے قومی زبان کے ساتھ ساتھ کسی صوبائی زبان کی تعلیم، فروغ اور استعمال کے لئے اقدامات تجویز کر سکتی ہے۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب سال (2014ء) کے اوائل میں ماروی میمن نے قومی اسمبلی میں آئین کی شق 251 میں ترمیم کے لئے ایک ایسابل پیش کیا جس کی تحریر (ڈرافٹ) جیسی بے سروپا، مہمل اور اغلاط سے بھری ہوئی کوئی تحریر آج تک نظر سے نہیں گزری۔ اب اس میں ایسی کیا بات تھی میں بتا دیتا ہوں۔

پہلی بات تو یہ کہ اس بل میں انگریزی کو اس ملک پر مزید 15 سال تک مسلط رکھنے کی بات کی گئی تھی، جو کہ ایک محل نظر بات تھی، وہ یوں کہ معاشرے کے کسی طبقے کی طرف سے ایسا کوئی مطالبہ کبھی پیش کیا گیا نہ کبھی اس کی کوئی ضرورت محسوس کی گئی ۔

دوسری بات یہ کہ اس بل میں اسکولوں میں بیک وقت پانچ زبانوں کوپڑھانے کی بات کی گئی، جس سے یوں لگتا تھا کہ محترمہ کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف اور صرف زبانیں ہی پڑھانا رہ گیا ہے اور ریاضی، سائنس ،، کمپیوٹراور معاشرتی علوم کی تدریس ان کے نزدیک ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔
ایک بات یہ کہ علاقائی زبانوں کو قومی زبانیں کہا گیا اور لسانی گروہوں کو قوم کہا گیا جو کہ پاکستان کے تصور قومیت کی نفی کرتا ہے اور اس بل کے ذریعے پاکستانی قو م کے وجود سے یکسر انکار کیا گیا جو کہ حقیقت کے سراسر منافی بات ہے۔

ہم نے اس بل میں موجود تضادات کی نشان دہی کی اور اس میں مضمر ان گھناؤنے عزائم کو آشکار کیا جن کے بروئے کار آنے کی صورت میں اس ملک میں خون کی ندیاں بہہ جاتیں، اب ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ باباجی اور ان کے قبیلے کے کورچشم اور بے بصیرت لوگوں نے اس بات کو ہماری علاقائی زبانوں سے دشمنی پر گمان کیا حالانکہ ہم علاقائی زبانوں کے تحفظ، فروغ اور تعلیم کے حق میں ہیں۔

اب آجاتے ہیں دوسری بات کی طرف، گو کہ انگریزی اتنی بھی بین الاقوامی زبان نہیں ہے، جیسا کہ موصوف اور ان کے قبیلے کے دوسرے لوگوں کا خیال ہے، مگر چلیں ان کی بات کو ایک لمحے کے لئے صحیح بھی تصور کر لیں تو پھر بھی پاکستان پر انگریزی کے اس تسلط کا جواز نہیں بنتا جس طرح وہ ہم پر مسلط ہے۔ آئیے دیکھیں کہ انگریزی پاکستان پر کس طرح مسلط ہے۔
سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ انگریزی کسی پاکستانی کی مادری یا پدری زبان نہیں ہے۔ اس کے بعد اگلی بات کرتے ہیں۔

یہ پہلی جماعت سے ڈگری کی سطح تک ایک لازمی مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں ایسا تماشا کہیں نہیں لگا ہوا کہ کسی غیر ملکی زبان کو ایک لازمی مضمون کےطور پر پڑھایا جائے۔ اس کا نتیجہ میٹرک میں ٪40 طلبا کی ناکامی، انٹرمیڈیٹ میں ٪60 طلبا کی ناکامی اور ڈگری کی سطح پر ٪75 طلبا کی ناکامی ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک بلا مبالغہ کروڑوں طالب علم اس ایک زبان کی وجہ سے تعلیم کو خیرباد کہ چکے ہیں۔

2010 سے اس زبان کو پنجاب میں ذریعہ تعلیم بنا دیا گیا ہے، اور 2014 سے خیبر پختون خا میں بھی ایسا ہی بندوبست کیا گیا ہے۔ اب کیا یہاں بھی یہ بتاناپڑے گا کہ ایسا تماشا بھی ساری دنیا میں کہیں نہیں لگا ہوا کہ ایک ملک میں ایک غیر ملکی زبان کو ذریعہ تعلیم بنا دیا جائے۔

ہم جس بات کے خلاف ہیں وہ انگریزی کا اس بےمحابہ انداز میں اس ملک پر تسلط ہے۔ انگریزی وہ پڑھے جس کو اس کی ضرورت ہو، ساری قوم کو اس زبان کے پیچھے لگا کر جاہل کیوں بنایا جا رہا ہے۔ زیادہ سے زیادہ چند بڑی زبانوں کا ایک گروپ بنایا جائے (جس میں انگریزی بھی شامل ہو)۔اب ان میں سے کسی ایک زبان کو ایک اختیاری مضمون کی حیثیت سے پڑھایا جائے۔ پھر یہ کہ اگر کسی کو کسی دوسرے ملک سے رابطے کی ضرورت ہو، اسے وہاں روزگار، تعلیم یا علاج کے لئے جانا ہو تو وہ وہاں کی زبان سیکھ لے ہر ایک کو انگریزی کے پیچھے لگانے کی کیا ضرورت ہے۔

ایک بات موصوف نے بہت ہی شاندار کی ہے۔ وہ ہے پاکستان چین کے معاہدے کے انگریزی میں لکھے جانے کی۔ حضور معاہدہ کیا بیچتا ہے ہمارے وزیراعظم صاحب اس وقت چینی وفد سے انگریزی میں خطاب فرما رہے تھے جب وہ سب ان سے چینی میں مخاطب تھے۔ تماشا یہ کہ ان (چینیوں) کی چینی میں کی گئی تقریر کا انگریزی میں ترجمہ کیا جا رہا تھا اور ان (وزیر اعظم صاحب) کی انگریزی میں کی گئی تقریر کا چینی میں ترجمہ کیا جا رہا تھا، موصوف بتائیں گے کہ یہ سب کون سی بین الاقوامیت کا اظہار تھا۔

موصوف نے ایک اور بات کا بہت زیادہ غصے اور شدت کے ساتھ اظہار کیا ہے۔ فرماتے ہیں،
” اکثر چین، جاپان، جرمنی، فرانس وغیرہ کے حوالے دیے جاتے ہیں جہاں بنیادی تعلیم سے اعلیٰ ترین تعلیم تک تدریس کا ذریعہ ان کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ یہ درست ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جو ٹیکنالوجی اور اقتصادیات پر عبور رکھتے ہیں۔ہم نے کیا ایجاد کیا ہے؟ ہماری مالی حیثیت کیا ہے”؟

حضور ہم نے اسی لئے کچھ ایجاد نہیں کیا، ہماری کوئی مالی حیثیت نہیں ہے کہ ہم 68 (2015ء) سال سے انگریزی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، اس ملک میں اردو نافذ ہو جائے، آپ دیکھ لیں گے کہ یہ ملک چند سالوں میں ہی ایجادات شروع کر دے گا، اس کی مالی حیثیت بھی بہتر ہو جائے گی۔ جن ملکوں میں اپنی زبان نافذ ہے وہ کیا کر رہے ہیں اس کا ذکر خود آپ نے کر دیا ہے۔
کیا آپ نے کبھی کنویں کا مینڈک دیکھا ہے، اگر نہیں دیکھا تو موصوف کی تحاریر پڑھ لیں آپ کو نظر آجائے گا۔ آئیے ان کی تحریر پڑھیں پھر کنویں کا مینڈک دیکھتے ہیں، فرماتے ہیں،

“جس طرح اردو کے بغیر ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں کا کام نہیں چل سکتا، اسی طرح انگریزی کے بغیرپاکستان کا دنیا میں کام نہیں چل سکتا۔ آکسفورڈ، کیمبرج، ہارورڈ جیسی بڑی یونیورسٹیوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم انگریزی میں دی جاتی ہے، اردو میں نہیں”۔

حضور محترم قبلہ، بزرگوارم ہاتھ اور زبان روکیں، آپ کیا کہہ رہے ہیں، کاش آپ اپنا لکھا لکھ کر پڑھ بھی لیا کریں، حضور آکسفورڈ، کیمرج، ہارورڈ میں اگر اردو میں تعلیم نہیں دی جا رہی تو فرنچ، جرمن، چینی، جاپانی، ترکی، روسی، ڈچ، یونانی، سپینی، پرتگالی میں بھی تعلیم نہیں دی جارہی، اور موصوف اگر آپ کنویں کے مینڈک نہ ہوتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ جاپان،چین، روس، جرمنی، اسپین، فرانس اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کی اعلیٰ ترین معیار کی تعلیم دینے والی یونیورسٹیاں اور دیگر ادارے پائے جاتے ہیں (اور وہاں اپنی اپنی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے)۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ آپ اور آپ کے قبیلے کے لوگوں کو ہر اس بات سے چڑ کیوں ہوتی ہے، خوف کیوں محسوس ہوتا ہے جس سے یہ ملک خوشحال ہو جائے، ترقی کر جائے، مستحکم ہو جائے، متحد ہو جائے۔

بہتر ہے کہ جو چلن دنیا بھر میں رائج ہے اس پر چلا جائے۔ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ممالک میں ان کی اپنی زبان رائج ہے۔(دنیا بھر میں کسی بھی ملک میں زبان کوئی مسئلہ ہی نہیں کہ جو اس ملک کی زبان ہوتی ہے اسی میں سب کام کئے جاتے ہیں، یہ تو پاکستان میں نسلی غلاموں اور غیر ملکی گماشتوں کا کیا دھرا ہے کہ انگریزی مسلط کی ہوئی ہے اور اردو کو یہاں نافذ ہونے سے روکا ہوا ہے، ورنہ تحریک پاکستان کے دوران اور قیام پاکستان کے وقت تمام پاکستانی قیادت اور عوام اس بات پر یکسو تھے کہ پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان اردو ہوگی)۔اسی میں تعلیم دی جاتی ہے، اسی میں کاروبار مملکت چلایا جاتا ہے۔ اسی میں عدالتی اور دفتری امور نپٹائے جاتے ہیں۔

اردو کوئی ایسی بانجھ زبان بھی نہیں، اپنے آپ پر اور اپنی زبان پر اعتماد کی ضرورت ہے، انگریزی ہمارے لئے تعلیم کا ذریعہ ہے نہ ترقی کا یہ ایک سراب ہے اور ہمیشہ سراب ہی رہے گی، بھلا ایک ایسی زبان جو پورے یورپ میں برطانیہ کے علاوہ کہیں نافذ نہیں، حتی کہ سکاٹ لینڈ اور آئر لینڈ تک میں نہیں،پاکستان میں کیوں مسلط ہے؟ پورے ایشیا میں جس طرح یہ پاکستان پر مسلط کی گئی ہے کہیں مسلط نہیں اور ایک ایسی عجیب بات کہ شاید آج تک کسی نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ یہ جہاں ہے بدترین بدعنوانی اور بدانتظامی کو اپنے جلو میں لئے ہوئے ہے، پاکستان، بھارت، فلپائن، نائیجیریا، کینیا، یوگینڈا (یہ فہرست ادھوری ہے، آپ اپنے علم کے مطابق اس میں اضافہ کر سکتے ہیں) اور دنیا کا ہر وہ ملک جہاں اس کی زبان کے علاوہ کوئی اور زبان مسلط ہے اس کا نام لیں اور اس ملک میں بد عنوانی اور بد انتظامی کی انتہاؤں پر غور کریں۔

میں نے پاکستان قومی زبان تحریک کا موقف پیش کر دیا ہے، میں آئندہ بھی حاضر ہوں جب کسی کو ہماری تحریک، اس کی جدوجہد یا اس کے اہداف کے بارے میں کوئی سوال ہو بلاتکلف پوچھے، ہم لوگ صاف اور واضح سوچ اور ذہن رکھتے ہیں اور ہمارے قول و فعل میں کوئی ایسی کجی نہیں جس پر ہمیں ندامت ہو اور جس پر ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے۔