قبولہ

تحصیل عارفوالہ سے نو کلومیٹر دور 50 سے 60 فٹ اونچی ڈھکی پر واقع قبولہ برصغیر کے قدیم ترین قصبوں میں سے ایک ہے۔



قبولہ کا شہر بعض روایات اور تاریخی واقعات کے مطابق تقریباً 2 ہزار سال پرانا ہے۔

غلام یحیٰی چشتی اپنی کتاب تاریخِ قبولہ میں بتاتے ہیں کہ رگ وید آف انڈیا کے مطابق پہلے اس علاقے کو کڑھی کہا جاتا تھا۔ محمد بن قاسم کی آمد کے بعد کیکری قوم سے تعلق رکھنے والے کچھ ہندو یہاں آکر آباد ہو گئے اور رفتہ رفتہ اس کا نام کیکری مشہور ہو گیا۔

مشہور ہندوستانی بادشاہ غیاث الدین تغلق نے اپنی زندگی کے ابتدائی چند سال کڑھی کیکری میں گزارے۔ بعد ازاں جذباتی وابستگی کے باعث بادشاہ نے اپنے گورنر قبول خاں کو یہاں پختہ قلعہ تعمیر کرنے پر تعینات کیا۔

قبول خاں نے بادشاہ کے حکم کے مطابق 1353ء سے 1369ء کے دوران یہاں قلعہ تعمیر کروایا اور آبادی کو منظم شکل دی۔ قبول خاں کی نسبت سے پہلے پہل اس علاقے کو مقبولہ پھر کوٹ قبولہ اور اب ٖصرف قبولہ کہا جاتا ہے۔

قبولہ میں موجود واحد بازار۔

تاریخِ قبولہ کے مصنف بتاتے ہیں کہ قبولہ ہیر رانجھا کی نسبت سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کے مطابق رانجھا جب ہیر کو اس کی شادی کے بعد بھگا کر لے جارہا تھا تو یہاں آکر پکڑا گیا۔
ہیر کا پتن، رانجھے کا کھوہ اور رانجھے کا ٹویا جیسے مقامات کی باقیات آج بھی قبولہ سے بھی جوڑتے ہیں۔

حدود اربعہ:

تین سو بارہ ایکڑ رقبہ پر محیط قبولہ کے مشرق میں پاکپتن شہر، مغرب میں بورے والا، شمال میں عارفوالا اور جنوب میں بہاولنگر واقع ہیں۔

آبادی و رجسٹرڈ ووٹرز:

ایک اندازے کے مطابق قبولہ کی موجودہ آبادی تقریباً 75 ہزار ہے اور الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق اس وقت یہاں پر 23 ہزار ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔
برادریاں:

قبولہ کی مشہور برادریوں میں قاضی، جموں، سید اور چشتی شامل ہیں۔

قبولہ میں موجود پیر محمد شفیع کا مزار۔
اہم پیشے:

میاں نور جمال پٹواری کے مطابق شہر کی تقریباً پچاسی فیصد آبادی بلواسطہ یا بلاواسطہ زراعت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ ملازمت سے دو فیصد اور ذاتی کاروبار سے چار فیصد لوگ وابستہ ہیں جبکہ نو فیصد لوگ بے روزگار ہیں۔

قبولہ کے گرد و نواح میں گزشتہ بیس سال سے صابن اور کھل کھاد بنانے کی صرف ایک ہی فیکڑی ہے۔
یہاں کی بڑی فصلوں میں مکئی کا شمار ہوتا ہے تاہم گندم اور چاول بھی کاشت کیے جاتے ہیں۔

اہم بازار و چوراہے:

بتاتے جائیں کہ قبولہ پاکستان کا واحد شہر ہے جس کا صرف ایک ہی بازار ہے۔ فیصل چوک اور گولا چوک کے نام سے شہر میں دو ہی نامدار چوراہے ہیں۔

دربار:

اہم درباروں میں شاہ موسٰی ابوالمکارم رحمتہ اللہ علیہ، پیر دیوان دستگیر اور پیر محمد شفیع کے دربار قابل ذکر ہیں۔

دربار شاہ موسٰی ابوالمکارم رحمتہ اللہ علیہ۔

قابلِ ذکر عمارات:

1: قلعہ

قبولہ کی مشہور عمارات میں سب سے قدیم گورنر قبول خاں کا تعمیر کیا گیا قلعہ ہے۔ دورِ حاضر میں اس قلعے کا ٖصرف ایک حصہ باقی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس قلعہ کے چار برج تھے لیکن اب صرف ایک ہی برج رہ گیا ہے۔

2: سکھ کی مڑھی

گولا روڑ پر ڈیڑھ سو سال پرانی سکھ کی ایک مڑھی بھی ہے تاہم اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ یہ کس سکھ کی مڑھی ہے۔

واضح رہے کہ سکھ اپنے مردوں کو جلا کر ان کی راکھ کو جس قبر میں دفن کرتے ہیں اس کو مڑھی کہا جاتا ہے۔

3: شہنشاہ بلبن کا محل

مصنف تاریخِ قبولہ کے مطابق یہاں شہنشاہ بلبن کا ایک محل بھی تھا جو اس وقت محمود الحسن گیلانی کی ملکیت ہے۔

شہنشاہ بلبن کا محل اور قلعہ۔

4: غلام دستگیر رحمتہ اللہ علیہ کا گھر اور مزار

برصغیر کے مشہور روحانی پیشوا سید غلام دستگیر رحمتہ اللہ علیہ کا گھر اور مزار قبولہ میں ہے۔ ان کے بیٹے سید سلمان محسن گیلانی 2007ء میں حلقہ این اے 165 سے ممبر نیشنل اسمبلی رہ چکے ہیں۔

فنکار اور کھلاڑی:

ٹی وی کے مشہور گلوکار بوبی خاں اور جوجی خاں کا تعلق اسی شہر سے ہے۔