موجودہ سیاسی نظام، کچھ اور دے نہ دے

شہباز شریف صاحب کا تازہ ترین انکشاف، جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ہے۔ یہ اب طے ہو گیاہے کہ موجودہ سیاسی نظام، کچھ اور دے نہ دے، جمہوریت نہیں دے سکتا۔ قوم کو چاہیے کہ اب اس جواں مرگ کے لیے اجتماعی دعائے مغفرت کا اہتمام کرے اورمولاناطارق جمیل صاحب سے درخواست کرے کہ وہ اس کی امامت فرمائیں۔


اس ملک کے رائے ساز شایداس انٹرویو کی سنگینی کا پوری طرح ادراک نہیں کر سکے۔ یہ جاوہد ہاشمی صاحب کے اس انکشاف سے کہیں بڑھ کر ہے، جو انہوں نے 2014 ء کے دھرنے کے بارے میں کیا تھا۔ وہ انکشاف سے زیادہ ان واقعات کی تصدیق تھاجو گلی گلی بیان ہو رہے تھے۔ شہباز شریف صاحب نے تو فی الواقعہ انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے جو کچھ فرمایا، میں اسے نکات کی صورت میں دہرادیتا ہوں۔

1۔ 2018 ء کے انتخابات سے پہلے ہی یہ طے کیا جا رہا تھا کہ ملک کا آئندہ وزیراعظم کون ہو گا اوراس کی کابینہ میں کون کون شامل ہوگا۔ آئینی طور پر ان مناصب پر وہی لوگ بیٹھ سکتے ہیں جو انتخابات جیت کر آتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہار جیت کا فیصلہ پہلے ہی کر لیاگیا تھا۔

2۔ شہبازشریف صاحب اس مشاورتی عمل کا حصہ تھے اورانہیں بھی وزارت عظمیٰ کی پیش کش کی جا رہی تھی۔ یہی نہیں، ان کی کابینہ بھی طے ہوگئی تھی۔

3۔ ایسی ہی مشاورت عمران خان صاحب سے بھی کی جا رہی تھی۔

4۔ قریب تھا کہ شہباز شریف صاحب وزیراعظم بن جاتے، نواز شریف صاحب کا بیانیہ ان کے راستے میں حائل ہو گیا۔ یوں اقتدار کا ہما خان صاحب کے سر کے اوپر سے گزار دیا گیا۔

5۔ مشاورت کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور شہباز شریف صاحب اس کا حصہ ہیں۔

یہ بات تو خیر اس قوم کو اچھی طرح معلوم ہو چکی کہ یہاں حکومت بنانے کے فیصلے کون کر تا ہے، لیکن اس میں انکشاف یہ ہے کہ شہباز شریف صاحب بھی اس عمل میں برابر کے شریک رہے ہیں۔ ماضی بعید میں نواز شریف صاحب بھی طویل عرصہ اس عمل کا حصہ رہے لیکن انہوں نے شعوری طور پر اس سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ شہباز شریف صاحب کا انٹر ویو اس کی تائید کر رہا ہے کہ 2018 ء میں نواز شریف مکمل طور پر اس سے علیحدہ ہو چکے تھے۔

میرا تجزیہ ہے کہ 1999 ء میں، انہوں نے حکومتوں کے بناؤ اور بگاڑ کے اس نظام سے نکلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ 2014 ء میں وہ حق الیقین کے درجے تک پہنچ گئے کہ اگر انہوں نے سیاست کر نی ہے تواس نظام کا حصہ نہیں بننا جس میں حکومتوں کے فیصلے انتخابات کے بعدنہیں، پہلے ہو تے ہیں۔ اس کے لیے وہ ہر قربانی دینے پر آمادہ ہوگئے اوراس کا عملی ثبوت بھی فراہم کر دیا۔ عزیمت کا مظاہرہ کیا اوربیٹی سمیت جیل کی صعوبتوں کو برداشت کیا۔

شہباز شریف صاحب نے اب اس معلوم حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ وہ بڑے بھائی سے بغاوت تو نہ کر سکے لیکن ا ن کے سیاسی موقف کی تائید بھی نہ کر سکے۔ انہوں نے محض اس لیے وزارت عظمیٰ قربان کی کہ وہ بھائی سے بے وفائی کا الزام سر لینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ورنہ اس سیاسی نظام کے تحت وزیراعظم بننے میں انہیں کوئی اخلاقی قباحت محسوس نہیں ہوئی۔ یہ کوئی تجزیہ یا الزام نہیں، شہباز شریف صاحب نے اپنے انٹر ویو میں اس کا ا عتراف کر لیا ہے۔

نواز شریف صاحب نے اگرچہ عزیمت کا مظاہرہ کیا لیکن ملک سے باہر جانے کے بعد، ان کی سیاست مسلسل شبہات کی زد میں ہے۔ ان کی خاموشی تو قابل فہم ہے کہ ان کی صحت دگرگوں ہے لیکن مریم کیوں خاموش ہیں، اس کی کوئی قابل فہم توجیہہ سامنے نہیں آ سکی۔ معلوم یہی ہوتا ہے کہ نواز شریف صاحب معاملات کو شہباز شریف صاحب کے حوالے کرنے پر آمادہ ہو چکے ہیں۔

شہباز شریف صاحب کے اس انکشاف سے انتخابی عمل کی حقیقت بھی پوری طرح واضح ہو گئی۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت سازی اسی طرح ہونی ہے تو پھر انتخابات پر اربوں روپے خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ عوام کی آنکھوں میں دھول کیوں جھونکی جا تی ہے؟ جب سیاست دان بھی اس پر راضی ہیں تو ان کی مشاورت سے اس فیصلے کا اعلان کر دیا جائے جو انتخابات سے پہلے ہوجا تاہے۔

شہباز شریف صاحب کے اس انٹر ویو سے ہماری معلومات میں بس اتنا اضافہ ہوا کہ جو لوگ حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں، ان کے لیے اس نون لیگ میں تو کوئی کشش باقی نہیں رہی جس کی قیادت شہباز شریف صاحب کے پاس ہے۔ انہیں اس بات کی داد ضرور دینی چاہیے کہ انہوں نے اپنے خیالات کو کبھی چھپایا نہیں۔ اب مزید واضح ہو گیا کہ جو جماعت ان کی قیادت میں سیاست کرے گی، اس کا جمہوریت سے کتنا تعلق ہو گا۔

اس طرز عمل کے جواز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اقتدارکی سیاست ہمیشہ حقیقت پسندی کے ساتھ ہو تی ہے۔ اس لیے اس طرز سیاست پر اعتراض غیر سیاسی سوچ کا اظہار ہے۔ اس جواز کو تسلیم کر نے کے باوصف، میرا کہنا یہ ہو گا کہ اس موقف کو بعد از خراب ئی بسیار کیوں اپنا یا گیا؟ پھر شہباز شریف صاحب ہمت دکھاتے اور 2018 ء کے انتخابات سے پہلے ہی نون کو اس پر آمادہ کرتے۔ اسی طرح نواز شریف صاحب نے اگر خاموش ہی ہونا تھا تو یہ خاموشی اس وقت کیوں اختیار کی، جب وہ سب کچھ گنوا بیٹھے؟

چلیے، یہ سب ماضی ہوا، اب سوال یہ ہے کہ جب نون لیگ شہباز شریف صاحب کی سیاسی فکر کے تحت آگے بڑھنے پر آمادہ ہے تو انہیں کیا ملے گا؟ کیا یہ سیاسی نظام ان کے لیے کوئی خیر لا سکتا ہے؟ میراجواب نفی میں ہے۔ اس نظام میں سردست ان کے لیے کچھ نہیں ہے۔ بطوراپوزیشن نون لیگ نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیاہے، اس کے بعدیہ واضح ہو چکا کہ غالب خستہ جاں کے بغیر بھی کوئی کام بند نہیں۔

میرا خیال ہے کہ نون لیگ کے ساتھ چوہے بلی کا نیا کھیل شروع ہو چکا۔ اس کی مزاحمتی قوت کو حیلوں بہانوں سے برباد کیا جا رہا ہے۔ نواز شریف صاحب کے بیانیے سے دست بردار ہو کر وہ اپنی اخلاقی قوت کھو دے گی۔ اس کے بعد وہ مکمل طور پر ان کے رحم وکرم پر ہوگی جن سے شہباز شریف صاحب انتخابات سے پہلے حکومت سازی کے لیے مذاکرات کرتے رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ نواز شریف کے بھائی کے لیے ان کے دل میں کوئی جگہ نہیں۔

نون لیگ صرف ایک صورت میں بچ سکتی ہے۔ شاہد خاقان کو اس کا صدر بنا دیا جائے اور معاملات کو مریم نواز، پرویز رشید اورمشاہد اللہ خان کی مشاورت سے چلا یا جائے۔ کاش میں سعدرفیق صاحب کا نام بھی اس فہرست میں شامل کر سکتا۔ پھرنون لیگ اس بیانیے کے لیے یک سو ہو جس نے غیر سازگار حالات میں بھی اسے زندہ رکھا ہے۔ اس کے بعد اگر وہ کسی مذاکراتی عمل کا حصہ بنے گی تو اپنی شرائط پر۔

شہبازشریف صاحب کے اعتراف کے بعد، اب نون لیگ کا سیاسی امتیاز ختم ہو گیاہے۔ اب وہ کسی کو، سلیکٹڈ، کا طعنہ نہیں دے سکتی۔ شہباز شریف صاحب نے بتادیا ہے کہ وہ بھی سلیکٹ ہونے کے لیے آمادہ تھے، سلیکٹ کرنے والے تیار نہیں ہوئے۔ اب، اگر کوئی امتیا زباقی ہے تو وہ کارکردگی کا ہے۔ تحریک انصاف کی دو سالہ حکومت نے اس امتیاز کو پوری طرح نمایاں کر دیا ہے۔

رہے میری طرح کے جمہوریت کے شیدائی توانہیں مطمئن رہنا چاہیے کہ انہوں نے ایک فیصلہ کن موڑ پر جمہوریت کا ساتھ دیا۔ اب انہیں اس جمہوریت کے لیے دعائے مغفرت کرنی چاہیے۔ مولانا طارق جمیل اگر دعا کی امامت پر آماد ہ ہوں تو اس دعا میں مزید رقت پیدا ہو جائے گی۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو تنہائی میں انہیں فیض صاحب کی نظم پڑھنی چاہیے : ”ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار۔ ۔ ۔ اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا“ ۔ کورونا نے اس کے لیے پہلے ہی سازگار ماحول فراہم کر دیا ہے۔