پاکستان کا جغرافیہ اور پاکستانیوں کے دل

عمران خان اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان جغرافیائی طور پر ایک انتہائی مشکل پوزیشن میں موجود ہے۔ افغانستان ہمیشہ بیرونی قوتوں سے پریشان رہا ہے۔ ایران کی عرب دنیا اور امریکہ کے ساتھ تنازعات ہیں۔ اس کا براہ راست اثر پاکستان میں حکومتی پالیسیوں پر پڑتا ہے۔ ہندوستان ہمارا ہمہ وقتی حریف ہے اور ہم نے اس کے ساتھ جنگیں لڑی ہیں خاص طور پر کشمیر کے مسئلہ کی وجہ سے۔ چین اپنا یار ہے جو کہ آج کل ہم سے پریشان ہے۔



میرے نزدیک پاکستان کا جغرافیہ پاکستانیوں کے دل کی طرح ہے۔ پاکستانیوں میں دل کی شریانوں (کورونری آرٹریز) کی چوڑائی مغربی لوگوں کے مقابلے میں چھوٹی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانیوں کی شریانیں جلدی سے بند ہوجاتی ہیں۔ جس سے دل کا دورہ پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ، نظریہ یہ ہے کہ صدیوں سے ہمارے خطے کے لوگوں کو قحط سالی کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں طویل عرصے بھوک برداشت کرنا پڑی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب ہم کھانے سے پرہیز بھی کرتے ہیں، تو ہم سفید فام لوگوں کے مقابلے میں کم وزن گھٹاتے ہیں۔ جینیاتی طور پر دیکھا جائے تو ، دنیا کے دوسرے حصوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے مقابلے میں پاکستانی امراض قلب کے مرض کا زیادہ خطرہ رکھتے ہیں۔

اس وجہ سے ، یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ پاکستانیوں کو اپنا وزن اور بلڈ پریشر کنٹرول میں رکھنا چاہئے، تمباکو نوشی سے بچنے اور ضرورت سے زیادہ شوگر یا تیل والے کھانے نہ لینے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنی غذا میں نمک کی مقدار محدود رکھنی چاہئے۔ اس کے علاوہ ، پھل اور سبزیاں کافی مقدار میں کھانی چاہئے اور ایک دن میں کم از کم آدھا گھنٹا چلنا چاہئے۔ تاہم ، بدقسمتی سے صرف محدود پاکستانی ہی یہ کام کرتے ہیں لہذا یہ ماحولیاتی عوامل اور پہلے سے موجود جینیاتی عوامل پاکستانیوں کی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں۔

اسی طرح اگر ہم بحیثیت پاکستانی جانتے ہیں کہ ہم جغرافیائی طور پر ایک گرم توے پر واقع ہیں ، تو کیا ہمیں اپنی خارجہ پالیسیوں پے غور نہیں کرنا چاہئے؟ کیا ہمیں واقعتا افغانستان میں اسٹریٹجک گہرائی کی پالیسی کی ضرورت تھی؟ وزیر اعظم واجپائی 1999 میں اور دو دہائیوں کے بعد مودی پاکستان آئے۔ کیوں ہم نے نواز شریف کی ہندوستان سے دوستی کرنے کی کوششوں کو متنازعہ بنایا؟ جب نواز شریف اور ان کی پارلیمنٹ نے اعلان کیا تھا کہ ہم حوثیوں کے خلاف سعودیہ کی لڑائی میں حصہ نہیں لیں گے ، پھر بھی ہم اس مقصد میں سعودیہ کی حمایت کیوں کر رہے ہیں- سابق چیف جنرل راحیل شریف نے سعودیہ کی نوکری کیوں لی اور ممکنہ طور پر ایران کو مایوس کیا؟ عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت نے چین کو کیوں ناراض کیا؟

یہ کہنا بہت آسان ہے کہ بحیثیت پاکستانی ہمیں دل کا دورہ پڑنے کا زیادہ خطرہ ہے لیکن ہم اچھی کوششوں سے اپنے خطرے کو یقینی طور پر کم کرسکتے ہیں۔ اسی طرح یہ کہنا بہت آسان ہے کہ ہمارا جغرافیائی محل وقوع خراب ہے ، لیکن کیا ہم اپنی خارجہ پالیسیوں میں بہتری نہیں لاسکتے ہیں؟ دوسروں سے درخواست نہ کریں کہ وہ آپ کو FATF کی گرے لسٹ سے نکالیں یا ان کے شہریوں کے لئے پاکستان جانے کے لئے ان کی سفری رہنمائی کو بہتر بنائیں۔ ہمیں اپنے کاموں پر غور کرنے اور مثبت تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ دل کے دورے کا خطرہ صرف اس کے بعد ہی کم کیا جاسکتا ہے۔