کرب

کچھ سال پہلے تک ہر گھر میں ایک پیٹیوں والا کمرہ ہوا کرتا تھا جس میں اما ں کے جہیز کی پیٹیاں ، سوٹ کیس اور اضافی چارپائیا ں ہمیشہ رکھی ہوتی تھیں ۔ اس کمرے میں بوقت ضرورت ہی جایا جاتا تھا ورنہ بچوں کو ڈرانے دھمکانے کے لئے ہی استعمال ہوتا۔



مجھے یاد ہے نانی کے گھر میں ایک بڑا سا کمرہ ہوا کرتا تھا جہاں نانی کے جہیز کی لکڑی کی پیٹیاں ہوتی تھیں اور پھر بعد میں ممانی کے جہیز کے سٹیل والی اور سارا اضافی سامان بھی بڑے سلیقے سے سجا ہوتا تھا ۔

اس کمرے میں بچے جاتے ڈرتے تھے ۔ہم کزنز نے جب ایک دوسرے کے ساتھ کھیل کھیل میں لڑ پڑنا تو سزا کے طور پر اس کمرے میں بند کرنے کی دھمکی ملتی ۔ پتا نہیں کیا تھا اس کمرے میں ، ہمیشہ ایک سوگ کی کیفیت ، خاموشی اور عجیب سی مہک ، بدبو نہیں کہ سکتے لیکن ایک ایسی مہک جو گھر کے دوسرے کمروں سے ہر گز نا آتی تھی ۔

نانی کے جہیز کی لکڑی والی پیٹی میں تانبے کے بڑے بڑے برتن ہوتے تھے ۔کھیس اور مخمل کی رضائیوں میں فرنیل کی گولیاں ۔۔۔۔کچھ تکیے جن پر کڑھائی کے پھول ہوتے ۔ پرانے البم اور کچھ کتابیں ۔کہیں کہیں درمیان میں کوئی گوٹا کناری والا بہت پرانا دوپٹہ بھی نکل اتا ۔

یہ تھا نانی کا اثاثہ ، جس کو وہ کسی کو ہاتھ نا لگانے دیتی بس سال میں دو دفعہ دھوپ ضرور لگوائی جاتی ۔ وہ ان چیزوں پر بہت پیار سے ہاتھ پھیرتی لیکن کچھ نا کہتی ۔ کھبی نانا کا ذکر ہوتا تو ٹال جاتی ۔یا شکوہ ہی کرتی ان کی لاپرواہی کا ۔۔پر چیزوں کے ساتھ ایسے محبت مجھے کھبی سمجھ نا ا سکی ۔
ہم چیزوں کو دیمک نا لگ جائے کتنا جتن کرتے ہیں ، ہر چھے مہینے دھوپ اور ہوا لگواتے ہیں ، کیڑے مکوڑے دور رہیں کیا کیا جتن کرتے ہیں۔لیکن اس پٹیوں کمرے میں رہتے نہیں ہیں ۔ کسی مقدس خانقاہ کی طرح بس صاف ستھرا ، جہاں زندگی کی کو رمق بھی نہیں ہوتی ، بس اک خوف ایک ٹھنڈک جو ہڈیوں میں گھس جاتی ہے ۔

۔ڈرتی تو میں بھی بہت تھی لیکن جب بھی اس کمرے میں جانا ہوتا ،تو مجھے ہر طرف آنکھیں نظر آتی ۔اتنا ڈر لگتا کے سانس رکنے لگتا ۔۔لیکن کچھ سالوں بعد مجھے اس کمرے کا دکھ سمجھ ا گیا ۔جب میرے اندر بھی ایک ایسا ہی کمرہ بنتا گیا ۔۔جہاں میں اپر تلے سارا اضافی سامان جما کرتی گئی ۔لیکن جاتے ہمیشہ ڈرتی رہی ۔ اضافی سامان کو دھوپ ضرور لگواتی بڑے اہتمام سے ایک ایک یاد کو سوچتی اور تکیے مزید نمکین کرتے گئی ۔

بلکل نانی کے اس کے کمرے کی طرح جہاں چیزوں کو تو بہت دیکھا بھالا گیا لیکن اس سب میں ان چیزوں سے وابستہ انسانوں کو فراموش کر دیا ۔جن کی یادیں ہر روز ان پٹیوں والے کمروں میں آتی ہیں جہاں ان کے استعمال شدہ تکیے اور رضا ی کے بیچ میں زہریلی فرنیل کی گولی ہر بار ان کا مونھ چڑھا جاتی ہے ۔ یادیں آنسو لئے چپکے سے کمروں سے رخصت ہو جاتی ہیں اور اپنے پیچھے گیلی مٹی اور کافور کی مہک چھوڑ جاتی ہیں ۔ مجھے اب سمجھ آیا میرے شنیل میں کافور کی بو کہاں سے آتی ہے اور اکثر راتوں میں جب کھڑکیوں پر دھند کے بادل چھائے ہوتے ہیں ان کے درمیان کوئی گوٹے کناری والا دوپٹہ کہاں سے لہرانے لگ جاتا ہے ۔۔