بیویاں کیوں مر جاتی ہیں

مرد روتے نہیں ہیں ۔۔۔ اس نے انگلی کی پوروں سے میرے آ نسو چن لیئے جب میں پہلونٹھے کو بازوؤں میں بھر کر دفنا کر آ یا تھا ۔۔ اور میں اس دن کے بعد واقعی نہیں رویا ۔۔ ہیجان میں دریا بہت دفعہ ابل پڑتا ہے مگر میں آ نکھوں کے کناروں کو ابلنے نہیں دیتا ۔۔ منصور احمد نے بھری آ نکھیں سختی سے میچ لیں ۔



ثریا ہفتے بھر سے بیمار تھی پہلے بھی ہوتی رہتی تھی چھوٹی موٹی ہائے ہائے بھی چلتی رہتی تھی لیکن بارشوں بھری ٹھنڈ میں یوں ایک دم ہاتھ چھڑا کر ٹھنڈی قبر میں جا سوئے گی اس نے سوچا بھی نہ تھا ۔۔۔ تینوں بچے ملک سے باہر تھے بروقت پہنچ گئے لیکن قُلوں تک رک نہیں سکے تھے۔ اسے ادھر ادھر بے چینی سے صبح شام کرتے دیکھ کربھتیجے تمسخرانہ نظروں سے دیکھتے ۔۔ بولتے تو مذاق اڑاتے ۔۔ چچا چچی ہمیں بھی بہت یاد آتی ہیں ۔ ہمارے خوابوں میں آ تی ہیں اور کہتی ہیں میں جنت میں بہت خوش ہوں تمہارے چچا سے جان چھوٹ گئی ۔۔ بڑے نے چھوٹے کو آ نکھ ماری ۔۔ کیا آپکے خواب میں آ ئیں ؟؟؟
جوان اپنی جوانی کے زعم میں بڑوں کو عقل سے ، جذبات سے بالکل عاری سمجھنا شروع کر دیتے ہیں ۔۔ اس نے بے بسی سے سوچا۔ ثریا کو گئے آ ج چوتھا روز تھا ۔ اسے لگ رہا تھا اسکے اوپر سے صدیاں گزر گئی ہیں ۔۔۔ وقت میں کوئی ربط نہیں رہا تھا پتہ ہی نہیں چلتا شام ہے رات ہے کہ سویر یا دوپہر ۔۔۔ چمکتے دن میں دنیا کیسے اندھیر ہو جاتی ہے معلوم ہو رہا تھا وہ ثریا کا کوئی ایسا عاشق بھی نہیں تھا کہ گھٹنوں سے لگا پوجا پاٹ ہی کرتا ہو ۔ نہ ہی ثریا چونچال فطرت تھی پورے گھر کا خیال رکھتی تھی ۔ بس عام سا جوڑا تھا لاکھوں کروڑوں جوڑوں کی طرح ۔۔۔ عام سی لگی بندھی زندگی تھی ۔ مگر ثریا کے بعد اسے تو جیسے نظر آ نا بھی بند ہوگیا ۔ سامنے رکھی چیز نظر نہ آ تی ۔ کوئی کیا بات کر رہا ہے دماغ سے باہر ہی رہ جاتی ۔۔ پاؤں کہیں رکھتا لڑکھڑا کے کہیں اور جا پڑتا ۔۔۔ جیسے ثریا اس کا عصا تھی جو اب کہیں گم ہو گئی تھی یا شاید اسکی آ نکھوں میں رکھا دیا تھی ۔۔۔ بینائی ہی چلی گئی ۔۔۔ اس نے آ نکھیں رگڑ ڈالیں یہ سب کچھ مندھا مندھا کیوں نظر آ نے لگا ہے ۔۔اس نے زچ ہوکر سوچا ۔ پتہ نہیں کب وہ بیوی سے آ کسیجن بن گئی ۔۔ اس نے چھاتی مسلتے ہوئے مسلسل سوچا ۔۔۔ سیانے کہا کرتے ہیں بیوی کی موت کہنی کی چوٹ ہوتی ہے لیکن اسکی تو ریڑھ کی ہڈی ٹوٹی تھی جیسے وہ الگ انسان نہیں اسکی ریڑھ میں موجود اسکے جثّے کو سنبھالے کھڑی تھی ۔۔۔ اب وہ کچلے سانپ جیسا حقیر رہ گیا تھا ۔ سینتالیس سال بھی کوئی عمر ہوتی ہے جانے کی پچپن سالہ منصور نے ایک بار پھر آ نکھیں رگڑیں ۔۔ گزرے ماہ و سال اسکی آ نکھوں میں موبائل گیلری کی مانند چلنے لگے ۔۔ کل کی بات لگتی ہے اس نے بے بسی سے ایک بار پھر آ نکھوں کے دریا پر بند باندھا ۔۔

کسی نے ایک وقت بھی ڈھنگ سے کھانا نہیں دیا تھا ۔۔ جیسے بیوی مر جائے تو شوہر کی بھوک ، پیاس بھی مر جانی چاہیئے ۔۔۔ عجیب رویہ تھا گھر میں رہنے والوں کا ۔ اسکی بنیادی ضروریات سے بھی لاتعلقی چاہ رہے تھے اور اس عمر میں بیوی کے جانے کا صدمہ لینے پر مذاق بھی بنا رہے تھے ۔۔۔ اس کا صدمہ کم کرنے کے لئیے رُکے تھے لیکن مسلسل نمک پاشی کر رہے تھے ۔۔۔ جنازے والے روز سے انہی کپڑوں میں گھوم رہا تھا اسکے اپنے کمرے میں بھی بھانجیوں ، بھتیجیوں نے قبضہ جمایا ہوا تھا ۔ قل والے روز جھجھکتے ہوِئے اس نے دروازہ بجا دیا تاکہ کپڑے بدل لے نہانے کی شدید خواہش ہو رہی تھی لیکن وہ اپنے ہی گھر میں اجنبیت محسوس کر رہا تھا ۔ کئی دستکوں کے جواب میں بھتیج بہو نے بدمزہ ہوتے ہوئے ذرا سی درز کر کے جھانکا ۔۔۔۔ جی چچا میاں کچھ چاہیئے ۔۔۔ اور وہ چپ چاپ بنا دیکھے نفی میں سر ہلا کر مردانے میں آ بیٹھا ۔۔۔

ثریا اپنی بیماری میں بھی اس کا بھرپور خیال رکھتی تھی ۔ کھانے کی ٹرے ، صاف ستھر ے رومال میں لپٹی چپاتیاں چھوٹے ڈونگے میں سالن ، نمک دانی اور ٹشو پیپر ۔ اسے ہمیشہ دھلا ہوا استری شدہ جوڑا تیار ملتا تھا ۔ بچے چھوٹے تھے تو بچوں کی مصروفیات میں کبھی کبھار کوتاہی ہو جاتی تھی ۔۔ لیکن جب ایک ایک کر کے تینوں بچے اڑ گئے تب سے ثریا کی زندگی کا محور و مرکز منصور ہی تھا ۔۔۔ اب ثریا کو سینے پرونے کے لیئے عینک کی ضرورت پڑتی تھی ۔۔ اس کا معمول تھا دھلنے کے بعد اسکے کپڑے باسکٹ میں ڈال کر اپنے قریب رکھ لیتی اور الماری میں رکھنے سے پہلے بٹن اور سلائیوں کی مضبوطی جانچ لیتی ۔ بیڈ پر اسکی مخصوص جگہ ہی اسکی سرگرمیوں کا مرکز تھی ۔

منصور کی آنکھوں میں ایک ریل سی چلنے لگی ۔۔ جب ثریا آ نگن میں دلہن بن کر اتری تو اس سادہ سے پلستر ہوئے آنگن میں افشاں سی چھڑکی نظر آ تی ۔۔۔ گھر میں رنگ ہی رنگ بکھرے نظر آ تے ۔ کبھی پراندے کا پھندنا گر جاتا کبھی قندھاری انار کی رنگت والی چوڑی دروازے کے کنڈے میں اٹک کر ٹوٹ جاتی ۔۔ جو اس سُونے صحن میں لو دیتی رہتی ۔ کبھی پازیب کے گھنگرو بج اٹھتے ۔۔۔ رانگلی مدھانی چاٹی میں گھومتی تو سات سروں کا گمان ہوتا ۔۔ سیڑھیوں کے قدمچوں پہ موسم کے جوڑوں سے میچنگ چپلیں یا جوتے پڑے رہتے ۔۔۔ جنہیں جوڑوں کے ساتھ ہی بدل ڈالتی ۔ الگنی پہ دوپٹے بہار دیتے رہتے ۔۔۔ جہاں کھڑی ہو جاتی وہ جگہ خوشبو سے بھر جاتی ۔ یوں گھر کے کونے کونے میں اسکی موجودگی محسوس کی جاسکتی تھی ۔۔۔ ماں کو ثریا سے والہانہ محبت تھی ۔ وہ اس محبت کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ۔ ہلکا سا بخار معمولی سا سر درد ہوتا وہ شور ڈال ڈال کر پورے گھر کو بخار چڑھا دیتی ۔۔۔ اس میں زندگی کے رنگ بھرے تھے ۔ اندر باہر سے ایک جیسی ۔ خوش ہوتی تو لگتا بانسری کا سُر ہے جو پورے گھر کو اپنے سحر میں جکڑے ہوئے ہے ۔ پورے گھر اور محلے کو خبر ہوتی کہ آ ج ثریا بڑی خوش ہے ۔ اداس ہوتی تو گھر کے ساتھ ساتھ پوری گلی کو اداس کر دیتی۔۔۔ یہ دیکھو سلمیٰ راسلک کی شلوار جل گئی ۔۔تمہیں بھی پسند تھی ناں ۔۔۔ سلمیٰ افسوس سے سر ہلاتی ۔۔ ہائے چاچی ماربل کے ڈنر سیٹ کی کوارٹر پلیٹ ٹوٹ گئی اپنی پسند سے خریدا تھا دکانوں دکانوں گھوم کے ۔۔۔ اسکی آنکھوں میں اداسی کے ڈورے تیرتے ۔۔۔ اور چاچی بھی ملول ہو جاتی ۔۔۔

منصور کو شاپنگ کرنے کا کوئی ڈھنگ نہیں تھا بلکہ وہ گھبراتا تھا شادی کے پہلے ہفتے میں ہی یہ ڈیوٹی ثریا کے سپرد کر دی ۔۔۔ اور اس نے منصور کی وارڈروب میچنگ جوتوں کپڑوں ٹائیوں اور موزوں ، رومالوں سے بھر دی تھی ۔ دیکھا دیکھی اماں نے گھر کے سودے سلف سے جان چھڑا لی ۔۔
چالیسویں پر منصور احمد کے چچا چچی ثریا کے پُرسے اور منصور کی خبر گیری کو آئے ہوئے تھے ۔ بڑوں کو سامنے دیکھ کر وہ بچہ ہی بن گیا چہکوں پہکوں رونے لگا تھا ۔ چچا گلے سے لگائے پیٹھ سہلاتے رہے ۔ جہاندیدہ تھے بھڑاس کو نکاس کا راستہ دیتے رہے یہاں تک کہ اس نے آ نسوؤں بھری آ نکھیں خود سے آ ستین سے سمیٹ لیں ۔

چچا کے کندھے سے اچانک سر اٹھا کر بولے ثریا کی سلائی مشین رکھی ہے اس کا کیا کرتے ہیں ۔۔۔ عجیب بے بسی تھی منصور احمد کی آ نکھوں میں ۔۔ زیورات تو بہو بیٹیوں نے بہت پہلے بانٹ لیئے تھے ۔۔۔۔ اب اسکی تمام یادیں سمٹ کر دو ٹرنکوں میں بند ہیں۔ کھولتا ہوں تو کھل جاتی ہیں ۔۔۔ پورے دماغ میں زلزلہ آ جاتا ہے ۔۔۔ جیسے تیز آ ندھی چل رہی ہو ۔۔ ایک واقعہ اپنے پیچھے یادوں کی پوری فلم دوڑا دیتا ہے ۔۔ لگتا ہے پورے گھر میں واقعہ اپنے پورے تاثر کے ساتھ بکھر گیا ہو ۔۔۔ اسکی کتنی ادھ سلی قمیصیں ہیں اس سوٹ کیس میں ۔۔۔ لون کا ایک سفید برّاق کُرتا جس پہ تار کشی شروع کی تھی اس نے یونہی سب ادھورا چھوڑ گئی ۔۔۔ منصور احمد کے حلق نے ایک بے ساختہ سسکاری بھری جو شدید ترین کھانسی میں بدل گئی ۔ بھتیج بہو کو جلدی ہے سوٹ کیس باہر پھینک کر جگہ خالی کرنا چاہتی ہے اسے یہ بیگ پرانے فیشن کے لگتے ہیں ۔۔ گھر میں انکی جگہ نہیں بچی ۔۔۔ اسکے تیوروں سے لگتا ہے مجھے بھی جلد ہی کاٹھ کباڑ میں سمیٹ دے گی ۔۔ بیٹوں نے جاتے وقت کہا تھا ابا گھر سعید( منصور احمد کے بڑے بھائی کا بیٹا ) کو دے دیجئے گا ہم نے کون سا واپس آ نا ہے سعید بیچارا بچیوں میں گھرا ہے گھر نہیں بنا پائے گا ۔۔ جیسے بیوی کے بعد منصور احمد کو گھر کی ضرورت ہی نہ ہو ۔۔۔ اس نے کونسا گھر قبر میں لے کر اترنا تھا بس وہ اپنے جیتے جی گھر دینا نہیں چاہتا تھا مگر بچوں نے حالات ایسے بنا دئیے کہ دئیے بِنا چارہ نہیں تھا ۔۔۔ انکار کرتا تو روٹی کون بنا کر دیتا ۔۔۔ شاید سونے کو جگہ بھی نہ دی جاتی ۔۔ گھر اسکی اپنی ملکیت تھا لیکن عجیب بے بسی تھی ۔۔ اور سعید کا رویہ جیسے مالک وہی ہو ۔

بھتیجا اور بہو بچوں کے ساتھ ناشتے میں مصروف تھے ۔۔ برآمدے کے اس پار زندگی کی رونقیں چل رہی تھیں شور شرابا مچا ہوا تھا کسی کی وین چھوٹ رہی تھی کسی کی جرابوں کی جوڑی ادل بدل کے جھنجھٹ میں تھی ۔۔ اور وہ عجیب سا بد رنگا فالتو سا پرزہ بنا سب تماشے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اگر ثریا موجود ہوتی تو تمام رونقوں کا ماخذ منصور احمد کی ذات ہوتی ۔۔۔
یہ بیویاں کیوں مر جاتی ہیں آ خر ۔۔۔ اس نے جھنجھلا کر ایک بار پھر سر جھٹکا ۔۔