ناموس قلم

لفظ صحافت، صحیفہ سے ماخوذ ہے۔ اور صحیفے آسمان سے اللہ پاک نے اپنے پیغمبروں پر نازل کئے ہیں۔ صحافت سے بھی مراد ایسے ایک خبر کو زمین یا جائے وقوعہ سے سکرین یا اخبار کی پیشانی تک پہنچانا ہے جیسے صحیفہ بغیر ردوبدل اللہ پاک کے حکم سے فرشتوں نے آسمان سے پیغمبر تک پہنچایا۔ یعنی صحافت جبرائیل امین کا پیشہ پے اور ایک صحافی فرشتے جیسا با کردار ہونا چاہئے۔



اللہ پاک نے جب قرآن نازل کرنا شروع کیا تو پہلے اپنے نبی سے کہا اقرا۔۔۔۔ اور پھر کچھ آیات کے بعد حکم کیا الذی علم باالقلم۔۔۔۔۔ یعنی اللہ پاک نے یہ قلم صحافی، پولیس کے تفتیشی افسر جج اور وکیل کو پکڑنے کا حکم دیا۔

انصاف کرنا اور قلم سے انصاف کرنا 2 مختلف کام ہیں۔ انصاف کرنا آسان اور قلم سے انصاف کرنا بہت مشکل کام ہے۔ قلم ایک ایسی تلوار ہے جس کا زخم کبھی بھرتا نہیں اس لئے قلم سے زخم لگانا کسی سنگ دل انسان کا کام ہی ہو سکتا ہے۔

جب میں نے اپنی پہلی نوکری افغان گروپ آف نیوز پیپر میں شروع کی تھی تو میری امی نے مجھے ایک نصیت کی تھی اور کہا تھا۔۔۔ بیٹا میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔۔۔ اور امید ہے تم کبھی جھوٹ نہیں لکھو گی۔

ابتدا میں تو بہت آسان لگتا تھا لیکن پھر علم ہوا کہ جھوٹ کی بادشاہی ہے۔ یہاں سچ کہنا جرم ہے۔ سچ لکھنے پر حرف بہ حرف سزائے موت اور جھوٹ لکھنے پر حرف بہ حرف انعام و اکرام ملتا ہے۔
پاکستان میں صحافت ایک مافیا کا رخ دھار چکی ہے۔ آپ کسی بھی صحافی سے صحافت کے بنیادی اصول پوچھیں اسے علم نہیں۔ لیکن اس میں کسی بھی صحافی کا کوئی جرم نہیں نہ آپ۔کسی صحافی کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ یہاں صحافت ایک کاروبار ہے۔ جنگ گروپ کے چیف ایڈیٹر خود اپنے ٹی انٹرویو میں سپریم کورٹ کے سامنے کہتے ہیں میں ایک بزنس مین ہوں۔

یہاں تمام نیوز ٹی وی چینل اور اخبارات بزنس مین کے ہیں۔ انھیں خبر سے تعلق نہیں اپنے کاروبار سے تعلق ہے۔ پاکستان میں صحافت کا گورکھ دھندا کچھ ایسا ہے۔ کہ اے آر وائی کے بزنس مقدمات میاں منشا اور نواز شریف فیملی کے ساتھ ہیں اس لئے اے آر وائی ہمیشہ ن لیگ کے خلاف رپورٹنگ کرے گا۔ جیو نیوز کی کے نواز شریف اور میاں منشا کے ساتھ شریک کاروبار ہیں اس لئے وہ ان کی حمایت کریں گئے۔ ڈان نیوز کے مالک کو آرمی میں دال کی سپلائی کا ٹھیکہ نہ ملے تو وہ بی بی سی کو آرمی کے خلاف انٹرویوز دے گا۔ اور نوائے وقت سرکاری اشتہار پر قبضہ کرنے کے لئے حکومتی پالیسی کے ساتھ جبکہ ایکسپریس کے مالک کا بزنس تو آپ سب جانتے ہیں اور مقاصد بھی۔

اب صحافی نے چینل پالیسی پر کام کرنا ہوتا ہے۔ صحافی کو کنٹریکٹ لیٹر کے ساتھ ہی ایک چینل کی پالیسی ٹھکائی جاتی ہے کہ فلاں فلاں لوگوں کے خلاف آپ نہیں لکھ سکتے۔

آج سے کچھ سال قبل پی آئی اے نے روزنامہ۔۔۔۔۔۔۔ اسلام آباد کے تین اخبار خریدنا بند کر دئے۔ ان اخبارات میں روزنامہ ۔۔۔۔۔۔ اسلام آباد، ۔۔۔۔۔۔۔۔اور دوپہر کا اخبار تھا۔ یہ 2 ہزار اخبار روزانہ پی آئی اے خرید رہا تھا۔ یوں روز نامہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلام آباد کے مالک نے پی آئی اے کے خلاف لکھنے کا حکم جاری کیا۔ روز خبر لگتی آج پی آئی اے کا جی ایم لڑکیوں کے ساتھ پکڑا گیا اور کبھی خبر آتی کہ آج ائیر پوسٹس پکڑی گئی۔ یہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کا دور تھا۔ اسی اثنا مجھ سے اس اخبار کے جی ایم نے رابطہ کیا اور سول ایسوایشن اور پی آئی اے کی بیٹ پر نوکری کی آفر کی۔

میں نے 80 ہزار روپے ماہانہ پر یہ اخبار جوائن کیا۔ پہلے دن پی آے کے خلاف خبر دی، سٹوری پی آئی اے کے ان انجن کی تھی جو پی آئی نے ایک سنگا پور کی ایرو ایشا کمپنی سے ریپئر کئے۔ اور اس کمپنی کے واجبات 65 ملین ادا نہ کرنے پر اس کمپنی نے یہ انجن گروی رکھ لئے۔

میں نے دوسرے دن پی آئی اے کے خلا جو خبر دی وہ پی آئی اے مارکیٹنگ کے خلاف اور پھر ٹیکٹنگ کے خلاف سٹور دی۔ ابھی مجھے نوکری کرتے 10 دن ہوئے تھے کہ اخبار کے مالک کی صلح پی آئی اے سے ہوگئی اور پی آئی اے کے جی ایم اسلام آباد اور اس وقت کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ شہباز سنئیر اخبار کے مالک سے میٹنگ کرنے آگئے۔ اخبار کے مالک نے مجھے بھی بلوایا۔ یہ شام کے 7 بجے کا وقت تھا اور شدید بارش تھی کی روزنامہ۔۔۔۔۔ سے کال آئی، میں جے ٹیکسی لی اور چلی گئی۔ جب اسلام آباد کے ایک پوش علاقے ہیڈ آفس میں پہنچی تو وہاں چہل پہل تھی۔

میں ویٹنگ روم میں بیٹھی ۔۔۔ اتنی میں جی ایم آگئے تو وہ مجھے ساتھ لیکر مالک کے کمرے میں گئے تو وہاں شہباز سنئیر جو اس وقت پی آئی اے کے جی ایم مارکیٹنگ تھے وہ اور پی آئی اے کے جی ایم اسلام آباد بیٹھے تھے۔ (پی آئی کے اسلام آباد کے اس وقت کے منیجر کا نام اس لئے نہیں لکھتی کہ وہ اب وفات پا چکے ہیں۔) میں نے سب کو سلام کیا۔ اور بیٹھ گئی۔ اخبار کا مالک بھی موجود تھا اور سب آپس میں خوش گپیاں لگا رہے تھے۔

مجھے مالک نے حکم دیا بیٹا وہ سب ثبوت ان کے حوالے کر دیں اور ان سے اپنا انعام وصول کر لیں۔ یوں جی ایم اسلام آباد نے ایک بلیک رنگ کا شاپنگ بیگ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا یہ 25 لاکھ روپیہ ہے۔ آپ پی آئی اے کے چئیرمین سیلمان قمر راو کے شلٹن ہوٹل کراچی کے 5۔6 ملیں کے بل اور ایرو ایشا کمپنی کا اصل لیٹر ہمیں دے جائیں۔

میں ایک دم آگ بگولا ہو گئی یہاں میرے ضمیر کا سودا ہو رہا تھا اور میں فروخت ہو رہی تھی۔
میں نے شہباز سنئیر سے سوال کیا کہ کرپشن ساڑھ 4 ارب کی اور میرا حصہ صرف 25 لاکھ کیوں؟
شہباز سنئیر نے جواب دیا آپ کیا کہتی ہیں، میں نے کہا نصف میرا۔۔۔۔۔ شہباز سئیر نے کرسی سے چھلانگ لگائی، آپ نے کبھی سوا دو ارب روپے اکٹھے دیکھے بھی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ آپ نے بھی ساڑھے 4 ارب دیکھے ہیں ان کے نصف مجھے دیکھا دیں۔ خدا بخشے جی ایم اسلام آباد کو انھوں نے دھیمے سندھی لہجے میں مجھے کیا بیٹا ثبوت دے دو ورنہ تنگ ہو گی۔

تو میں نے جواب دیا آپ اپنے نام کے ساتھ پٹھان لکھتے ہیں میں اصل افغانی پٹھان ہوں قلم بیچنے سے بہتر اپنا جسم بیچنا سمجھتی ہوں۔ قلم کا سواد مجھ سے نہیں ہوگا۔ اخبار کے مالک نے مجھے کیا بیٹا آپ نوکری کرنا چاہتی ہو۔۔۔ اس کے جواب میں ۔۔۔ میں نے اپنے بیگ سے سفید کاغذ نکالا اور جلدی سے اپنا استعفی لکھ کر ان کی ٹیبل پٹ رکھا اور ساتھ کہا کہ اگر آپ اس خبر کو یہاں ختم کرنا چاہتے ہیں تو مجھے یہی قتل کر کے کہیں پھینک دیں اگر میں باہر نکل گئی تو آپ قانون کے آہنے ہاتھوں سے نہیں بچ سکیں گئے۔

یہ کہہ کر میں غصے سے دفتر سے نکلی لیکن کسی کی ہمت نہ ہوئی کے مجھے آواز بھی دے۔ جب سیڑھیاں اتری تو شہباز سنئیر نے روکا اور کہا میں آپ کا ہیرو ہوں مجھے بے عزت نہ کریں میں ہاتھ جوڑتا ہوں۔ میں غصے سے چیخی کہ تمہاری ہاکی کے ساتھ اس قوم کے دل مچلتے تھے تم نے اس اس قوم کا مال کھایا اور اس قوم کو دھوکہ دیا۔ میں لعنت ڈالتی ہوں تم جیسے چوروں پر جو ہیرو کے لبادے میں قوم کو لوٹ رہے ہیں۔ اور میں ٹیکسی پر بیٹھ گئی۔ اسی دن فیصلہ کیا کہ پاکستان میں اب صحافت نہیں کرتی اور دو ماہ بعد پاکستان چھوڑ کر چلی گئی تھی۔

یہاں صحافیوں کے ہاتھ باندھے ہوتے ہیں۔ ایماندار صحافی بھوکا مر جاتا ہے اسے پریس کلب اپنا کارڈ بھی نہیں دیتا اور قلم کو پیٹ کی خاطر رگڑنے والے حامد میر بن جاتے ہیں۔ کامران خان اور شاہذیب خانزادہ بن جاتے ہیں۔

یہاں صحافت کے نام پر وہ شہرت پاتے ہیں جو اچھے قصیدہ گو ہوں۔ اور مالکان کے مفاد کے لئے ماتم کرنا جانتے ہوں۔