صحافت ایک گناہ

میں ڈاکٹر کے پاس بیٹھی تھی اور ڈاکٹر صاحب میرے بیٹے کا معائنہ کر رہےتھے کہ ان کا ایک ملازم ملایا اور انھیں ایک چیٹ پکڑائی، ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے معذرت کرتے کہا آپ مجھے 2 منٹ دیں۔ اور انھوں نے ملازم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا بلائیں اندر۔۔۔۔


ایک شخص ہاتھ میں کاپی اور پن رکھے اندر گھسا اس کے ساتھ دوسرے آدمی نے کیمرہ اٹھایا تھا، دونوں سخت غصے میں تھے، ڈاکٹر صاحب نے انھیں انتہائی تہذیب سے خوش آمدید کہتے ہوئے ان کے سامنے کھڑے ہو گئے ملے اور بیٹھنے کی دعوت دینے لگے۔ لیکن وہ دونوں افراد ڈاکٹر صاحب کی طرف سے لاپرواہ اس کمرے میں گھور رہے تھے۔ اور سخت غصے میں تھے۔ میں گھبرا سی گئی کہ شاید یہ لوگ کوئی جھگڑا کرنے آئے پین اور میرا بیٹا بیمار ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے ان سے پوچھا کہ خریت پے؟

گھنے مونچھوں والے لمبے تڑنگے نوجوان نے طنزیہ جواب دیا ڈاکٹر صاحب ہم آپ کی خبر لینے آئے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے کہا، اپنا تعارف کروا دیتے تو اس نوجوان نے تلخ لہجے میں کہا سارا شہر مجھے جانتا پے راولپنڈی کا مشہور کرائم رپورٹر ہوں۔

ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا بیٹا میں ہولی فیملی سے ریٹائرڈ ڈاکٹر ہوں کوئی عطائی ڈاکٹر نہیں جو مسئلہ پے بیٹھ کر بیان کرو۔ میرے پاس مریض ہیں اور آپ کی ایسی حرکات میرے لئے شرمندگی کا باعث بن رہی ہیں۔

نوجوان میری طرف مخاطب ہوا، جی بی بی آپ کیوں آئی ہیں کیسے بیٹھی ہیں، میں نے سوچا شاید نرس سے مخاطب ہے تو میں نے توجہ نہیں دی۔ پھر اس نے آواز دی یہ بچے والی بی بی کیوں آئی ہیں۔ جب میں نے دیکھا تو وہ مجھ سے حاکمانہ لہجے میں سوال کر رہا تھا۔ مجھے یہ بہت عجیب سا لگا، میں نے منہ پھیر لیا، پھر اس نوجوان نے مخاطب کیا، آپ ہمیں جانتی نہیں میرے سوال کا جواب دیں، اس کا یہ سوال مجھے آگ بگولا کر گیا۔ میں نے جواب میں کہا کہ اپنے کام سے کام رکھو، آپ مجھ سے پوچھنے کا کوئی حق نہیں رکھتے، نوجوان سامنے آگیا اور کہنے لگا میں بی میں کرائم رپورٹر ہوں میری بات کا جواب دیں۔

میں نے غصے سے کہا کہ صحافی صاحب آپ اگر کرائم روپوٹر ہیں تو آپ کا ایک ڈاکٹر کی کلینک میں کیا کام، یہاں مریض آتے ہیں سماج دشمن عناصر نہیں اور جس کو آپ دھمکیاں دے رہے ہیں یہ ڈاکٹر پے ڈکیت نہیں۔ تم نے کرائم رپورٹر کی رٹ لگا رکھی ہے اور یہاں آپ کا کیا کام۔

بی بی ہم چھاپہ مارنے آئے ہیں آپ خاموش رہیں۔۔۔۔

میں نے سوال کیا؟ آپ کے پاس چھاپہ مارنے کا کیا اختیار ہے؟

میں کرائم رپورٹر ہوں۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب اپنی ڈگری دیکھائیں، ساتھ ہی اس نے ڈاکٹر صاحب سے مطالبہ کیا۔۔۔
میں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا آپ پہلے محکمہ صحت کا ایسا کو کوئی لیٹر دیکھائی جس کی اجازت سے آپ اس کلینک میں آئے؟

نوجوان ۔۔۔ کرائم رپورٹر کہیں بھی گھس سکتا ہے۔۔۔۔

ڈاکٹر صاحب اٹھ کر باہر چلے گئے۔۔۔ تقریبا 10 منٹ تک اندر آئے تو انھوں نے کہا سر میں نے اپنے ڈاکومنٹ گھر سے منگوائے ہیں آپ کو 15 منٹ انتظار کرنا ہے، اور اتنے میں چائے پی لیں۔۔۔ تو سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔ مجھے اجازت دیں میں اس بچے کا چیک اپ مکمل کروں۔۔۔ رپورٹر ڈاکٹر صاحب جب تک آپ کی ڈگری نہیں آتی آپ اس بچے کو چیک نہیں کر سکتے۔

ڈاکٹر صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے بیٹا کوئی کام تو نہیں 10 منٹ انتظار کر سکتی ہو۔۔۔ جی ہاں ڈاکٹر ٹھیک ہے۔ میں حیران تھی کہ ڈاکٹر صاحب مجھے اور نرس کو باہر جانے کا نہیں کہہ رہے تھے۔ اور ہم سب ہی خاموش اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔

اچانک 10 منٹ میں ایک پولیس آفیسر اور تین جوان کانسٹیبل اندر آئے ڈاکٹر صاحب کو سلام کیا اور پوچھا کون ہیں وہ صحافی۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا یہ ہیں وہ دونوں نوجوان۔۔۔

پولیس آفیسر۔۔۔۔۔ کون سے اخبار سے ہیں ۔۔۔۔ نوجوان نوائے وقت سے۔۔۔۔ پولیس آفیسر اپنا کارڈ دیکھائیں۔۔۔ کارڈ دیکھتے پوئے۔۔۔۔ اس کارڈ پر تو روز نامہ ہائی کلاس لکھا ہوا ہے۔۔۔۔ آپ تھانے آجائیں ہمارے ساتھ ۔۔۔۔ وہ ہم یہ وہ آپ بات سنیں ۔۔۔۔۔۔ پولیس آفیسر جناب آپ تھانے آجائیں آپ کے خلاف شکایت پے اور آپ موقع سے گرفتارہو گئے میں یہاں کوئی بات نہیں کرتا یہاں مریض کافی ڈسٹرب پو گئے ہیں۔۔۔۔۔