آدھی شریعت والے پوری مسلمان

ہمارے ہاں معاشرہ کئی طرح کی ذات پات میں تقسیم ہیں جیسا کہ۔مذہب مسلک، ذات برادی، زبان و لسان، اور عورت و مرد ہے۔ یہ معاشرہ کسی بھی کل یکسوئی کی علامت نہیں۔


عورتوں کے حقوق کے معاملے جو بھی پوسٹ ہو گی اس پر 90 فیصد کمنٹس شریعت کے منافی رسم و راوج کے علمبردار ہوتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سندھ اور پنجاب کے شہروں کے لوگوں کی ذہنیت تبدیل ہو چکی پے اور وہ عورت کے حقوق کے بارے میں آگاہ ہیں، لیکن بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے شہروں قصبوں اور گاوں کا ابھی بھی وہی حال ہے، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں ابھی تک عورت کو ایک اچھوت گنا جاتا ہے۔ ہمارے پختون بیلٹ اور ہندو ازم میں عورت کے حقوق کے حوالے سے تھوڑا سا ہی فرق ہے۔ دونوں پی اور سے تعلق رکھنے والے لوگ یعنی ہندو اور پچتون عورت کو اچھوت ذات سمجھتے ہیں، دونوں پی شادی کرنا فرض اور طلاق دینا حرام بلکہ کبیرہ گنا سمجھتے ہیں۔ ہندو عورت کی خوش قسمتی کہ اسے سٹی کی تو اجازت ہے لیکن پٹھان عورت کو تو مرنا بھی مرد کی اجازت کے بغیر نصیب نہیں۔

آپ نے سنا ہو گا کہ اکثر پٹھان کہتے ہیں کہ ہم افغان پیں اور بعض کہتے جو افغان نہیں و پٹھان نہیں، اسی لئے ہر پشتون کو خود کو پٹھان ثابت کرنے کے لئے اپنا شجرہ ضرور افغانستان سے ملانا پڑتا پے۔ اسی طرح افغانستان اور پاکستانی پشتون بیلٹ کے رسم و رواج بھی ایک جیسے ہی ہیں۔ یہ دونوں لوگ عورت کو فروخت کرتے ہیں، افغانستان میں بھی پٹھان ایسا کرتے ہیں اور پاکستان میں بھی یہی رواج ہے۔ اب پاکستان کے شہری علاقوں میں کم ہے لیکن مضافات میں اب بھی ہے بلکہ میں نے یہاں راولپنڈی میں دیکھا کہ لوگ 2 لاکھ روپے میں سوات، چترال اور چارسدہ کے علاقوں سے لڑکیاں خرید کر لاتے ہیں۔ یہ خریدی گئی بیویوں کے ساتھ نکاح کرتے ہیں اور پھر انھیں طلاق دینا اپنے پیسے کا نقصان سمجھتے ہیں۔ ابھی تک پٹھان اپنی بیٹی کا جنازہ واپس لیکر جاتے ہیں۔ ان ساری خامیوں کے باوجود آپ ان کے کمنٹس دیکھیں گئے تو آپ کو علم ہو گا کہ دین کہ اصل پٹھان ہیں۔

باقی معاشرہ بھی ایسی ہی فرسودہ رسم و رواج کا حامل ہے۔ پنجاب میں مرد کو بیچا جاتا ہے، جو عورت امیر ہے وہ 5 لاکھ کے جہیز کے عوض ایک خوبصورت اور قابل مرد خرید سکتی ہے۔ شادی کا معنی کاروبار ہے۔ کہیں عورت مرد خریدتی پے اور کہیں مرد عورت کو خرید رہا پے جب تک رشتے دولت سے خریدے جائیں گئے اس وقت تک عورت اور مرد کی جنگ جاری رہے گی۔

پورے پاکستان میں پچھلے 3 سال سے عورت کو گالی دی جارہی ہے یہ گالی عورت مارچ کے نام پر دی جارہی ہے۔ عورت مارچ کو محض چند لبرل انتہا پسند عورتوں کی وجہ سے مذہبی مرد انتہا پسندوں متنازعہ بنا دیا ہے۔ ماروی سرمد ایک آزاد خیال لبرل عورت پے جس کے ساتھ مذہبی طبقہ کی ٹسل چل رہی ہے۔ ملا اور ملحد کی اس جنگ نے عورت کے حقوق کے اس عالمی دن کو سخت نقصان پہنچایا۔ عورت نے ایک نعرہ آزادی مارچ میں رکھا کہ میرا جسم میری مرضی۔۔۔ تو ملا نے ہزاروں واہیات نعرے بنائے ایڈیٹ کر کے بنا کر عورت کے ساتھ جنگ چھیڑی۔

ماروی سرمد پورے پاکستان کی سب عورتوں کی نمائندگی نہیں کرتی ہے وہ اپنی مٹھی بھر سیکولر اور لبرل عورت کا۔مقابلہ کر رہی تھی لیکن دوسری طرف جلیل الرحمان قمر کی سربراہی میں پاکستان کے 99 فیصد مرد پاکستان کی تمام عورت کو طعنہ دے رہے تھے۔ ماروی سرمد اپنا مفاد تو حاصل کر رہی تھی ملا ازم بھی اپنی جنگ جیتنے کا جشننا رہا تھا لیکن گھر میں بیٹھی عام عورت اپنے حقوق کی جنگ ہار گئی تھی۔

اصل میں ملا اور سیکولر عورت کا آپس میں گٹھ جوڑ تھا جس کے ذریعے عام عورت کو نقصان پہنچایا گیا۔

سیکولر ازم اور ملا ازم دو انتہائیں ہیں دونوں بیرون فنڈ پر اپنے اپنے مقاصد پر واویلا اور جہاد کرتے نظر آتے ہیں۔ دونوں پی فوج مخالف اور دونوں پی پاکستان مخالف ہیں، آپ موم بتی مافیا کو دیکھیں۔ منظور پشتین اور ماروی سرمد کی سربراہی میں نعرہ لگاتا ہے یہ جو دہشت گردی پے اس کے پیچھے وردی ہے۔۔۔ دوسری طرف ملاں کو دیکھیں سب فوج اور پاکستان مخالف ہیں۔ ڈراون حملے اور قتل عام کا الاپ راگ کر اصل حقیقت چھپا رہے ہوتے ہیں۔ ملا بھی امریکی مفادات کے لئے فوج کے پیچھے اور لبرل اور سیکولر بھی موم بتی جلا کر فوج اور پاکستان کے پیچھے پڑے ہیں۔ دونوں کو ڈالر ایک ہی دوکان سے ملتے ہیں اور دونوں ایک ہی کام کر رہے ہیں لیکن ایک دوسرے کے ساتھ اینٹ اور کتے کا ویر رکھ کر اس عوام کو پاگل بنایا جا رہا ہے۔

لحاظ ملاازم کا جھنڈا اٹھائے لوگ میری پوسٹ پر برائے مہربانی مذہب کا درس نہ دیا کریں۔ وہ خود جو مذہب کا منجن بیچ رہے ہیں اس سے دین اسلام کا کوئی تعلق نہیں اور سیکولر لوگ بھی پوسٹ سے دور رہا کریں۔

یاد رکھیں میں نہ لبرل و سیکولر ہوں اور نہ ہی ملاازم سے تعلق ہے۔ میرا تعلق صرف پاکستان سے ہے اور میں پاکستان آرمی کی حمایت کرنا یا دفاع کرنا میں اپنا قلمی فرض سمجھتی ہوں۔ آپ لوگوں کو گھٹی میں پاکستان۔مفت میں ملا ہے۔ اب آپ پاکستان اور اس کی فوج سے تنگ ہی آپ امریکہ لندن فرانس اور جرمنی کی شہریت کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ لیکن مجھے پاکستان گھٹی میں نہیں ملا میں نے پاکستان کو چوائس پر کے اپنایا ہے۔ میں پاکستان کے نفع و نقصان کو اپنے دماغ کے ساتھ جج کر کے اس کا دفاع کرتی ہوں۔ باقی میں انسان سے ڈرتی نہیں اور مرنا تو ایک دن سب نے ہے۔ آئندہ آپ کی زبان میں آپ۔کو جواب دیا جائے گا اس لئے احتیاط لازم ہے۔