سوشل ویلفیئر کی تاریخ

پاکستان میں سوشل ویلفیئر ایک دھندہ بن گیا ہے۔ امیر لوگ پیسے کے بل پوتے پر غریبوں سے چندہ جمع کر کے خود بھی کھاتے ہیں اور تھوڑا بہت دوسروں کو بھی دے دیتے ہیں۔ عبدالستار ایدھی کے علاوہ پاکستان میں کسی بھی شخص نے سوشل ویلفیئر کے کام کو زندگی کے مقصد کے طور پر نہیں اپنایا، بلکہ پاکستانی اشرافیہ نے اس پیغمبرانہ کام کو مختلف طریقے سے مال بنانے کے لئے اپنا اور وہ طریقہ ویلفئر ٹرسٹ ہے۔



دنیا میں سوشل ویلفئر کی پہلی تنظیم 1853 میں جرمنی ایک موجودہ شہر میونچ میں بنی تھی جو اس وقت ایک قصبہ تھا۔ اس پہلی تنظیم پر ہالی وڈ نے ایک مووی بھی بنائی پے جس کا نام میں بھول چکی ہوں۔ البتہ جو لوگ اس کا نام جانتے ہیں وہ ضروت کمنٹس میں لکھیں گئے۔ 1853 میں میونچ ایک قصبہ تھا جس کے رہائشی انتہائی غریب تھے۔ میونچ کی مرکزی منڈی پر اڑھتی کا قبضہ تھا۔ اور وہ اسی طرح کسان کو لوٹ رہا تھا جیسے آجکل پاکستان میں اڑھت کسان کو لوٹ رہی ہے۔ میونچ میں سال میں دو فصلیں ہوا کرتی تھیں ایک فضل ربیع اور دوسری خریف۔ لیکن وہاں کا کسان غریب تھا اور کھیت سے منڈی تھی تک روڈ موجود نہ تھی، جس کی وجہ اڑھتی وقت سے قبل ضرورت مند کسان کو قرضہ دے دیتا اور جب فضل پکتی تو بڑی مشکل سے کسان منڈی میں لاکر اڑھتی کو دے کر پرانا قرض خلاف کرتا اور نیا ایڈوانس لے جاتا۔

ان غریب کسانوں میں ایک کسان Carlos تھا۔ کارلوس جب بہت مقروض ہو گیا تو اس نے سب کسانوں کو جمع کیا اور انھیں کہا کہ اب میونچ کی منڈی میں ہمیں پورا ریٹ نہیں ملتا آو ہم سب مل کر اس فضل کی کمائی کا کچھ حصہ کھیت سے منڈی تک سڑک بنانے میں مختص کرتے ہیں۔ سب کسانوں نے اس کی بات مان لی۔طریقہ یہ طے پایا کہ اگر کوئی فضل دے وہ بھی لے لیں، پیسے دے وہ بھی لے لیں اگر کوئی زیادہ مقروض پے اور وہ پیسے یا فضل نہیں دے سکتا تو وہ اس روڈ کی بنوائی میں کچھ دن مزدور کی حثیت کام کرے گا۔ یوں ایک سال میں منڈی سے کھیت تک سڑک بن گئی۔ تو سب لوگ کارلوس کے پاس اکٹھے ہوئے اور اس سے پوچھا اب کیا کرنا ہے۔ کارلوس نے سب کو بتایا کہ اب اس سال اپنی فصل کاٹ کر صاف کر کے ہم اپنے کھیت میں پی ڈھیر لگا کر اس کی حفاظت کا بندوبست کریں گئے تاکہ اس جانور اور بارش سے محفوظ رکھا جا سکے۔

سب لوگوں نے جب فصل اکٹھی کی تو کارلوس اپنے 3 دوستوں کے ساتھ منڈی گیا اور منڈی میں اعلان کیا کہ ہماری فضل تیار ہے اور ہم نے سڑک بنا دی ہے اب جو چاہے آکر فضل خرید سکتا ہے۔ اگر نہیں خریدے گا تو ہم خود استعمال کریں گئے۔سب آڑھتی ڈٹ گئے فضل خریدنے کوئی نہیں آیا، کسان بھی ڈٹ گئے فضل بیچنے کوئی کسان بھی نہیں گیا۔ 3 ماہ گزر گئے تو منڈی میں فصل شارٹ ہوئی تو قصبے میں قحط ہونے لگا۔ اب آڑھتی اکٹھے ہوئے اور کھیتوں میں آئے اور فصل کی اونے پونے قمیت لگائی۔ کارلوس نے اس قمیت کو رد کر دیا۔ کارلوس نے قمیت 10 گنا زیادہ مانگی اور ساتھ بتا دیا کہ اگر فضل لینی ہے تو آپ کی مرضی ورنہ قحط میں ہماری اپنے ضرورت ہے۔ اڑھتیوں نے کسانوں سے اپنا قرض مانگا تو کارلوس نے ڈٹ کر کہا کہ ہم آپ۔کی منڈی میں نہیں کھڑے کہ آپ ہم سے فضل چھین لو گئے۔ فضل فرخت ہوئی تو آپ کا قرض ملے گا کسی سے زبردستی کی تو گاوں کے سارے لوگ آپ کو ماریں گئے۔

یوں آڑھتی بے بس ہو کر واپس چلے گئے۔ کچھ عرصہ بعد پھر آئے اب دام تھوڑے بہتر لگائے لیکن کارلوس نے پھر انکار کر دیا۔ تیسری بار جب قحط نے شدت اختیار کی تو آڑھتی مجبور ہوئے اور کسانوں کے قرض معاف کر کے دس گناہ مہنگے داموں پر فضل خرید کر لے گئے۔ کسان اپنی اس کامیابی پر خوش ہوئے اور انھوں نے اپنی ایک تنظیم بنائی جس کا پہلا چئیرمین خود کارلوس تھا۔ برطانوی نے 1920 میں سوشل ویلفئر کے اس نظام کو تبدیل کر کے موجودہ نظام اس لئے بنایا کہ غریب لوگوں کا مل جانا سامراجی نظام کو کمزور کرتا تھا۔ اب یہی سسٹم پاکستان میں نافذ پے سوشل ویلفئر کو بھیگ بنا دیا گیا ہے اگر ہم اس کام کو روح کے مطابق کریں تو ضرور انقلاب آئے گا۔ لیکن ہماری سماجی ویلفئر کی وزیر ذکوات تقسیم کر رہی ہوتی ہے۔