ارضِ اسلام آباد کی تاریخ

اسلام آباد کو مملکتِ خداداد پاکستان کا دارالحکومت بنانے کا اعلان 1959 ء میں ہوا ۔ اس سے قبل اس سرزمین پر کم وبیش 160 دیہات آباد تھے ۔

ارضِ اسلام آباد کا قدیم نام راج شاہی تھا ۔


صدیوں سے یہ سرزمین آباد چلی آرہی تھی ۔ کئی نسلیں پیوند زمیں ہوئیں ۔ برفانی دور۔ ۔ ۔ ارتقائے انسانی کا ثانوی دور۔ ۔ ۔ ۔ پتھر دور کی تہذیب۔ ۔ ۔ ۔ قدیم آریا تہذیب۔ ۔ ۔ ۔ ،رگ ویدک دور ۔ ۔ گندھارا تہذیب ۔ ۔ ۔ ایرانی تہذیبی دور۔ ۔ ۔ ۔ یونانی دور کے اثرات۔ ۔ ۔ موریہ دورحکومت۔ ۔ ۔ ۔ سائیس تھین دور۔ ۔ ۔ پارتھیائی دور۔ ۔ ۔ کشان دور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔سفید ہنوں کا دور ۔ ۔ ۔ ۔ ترک شاہی دور۔ ۔ ۔ ۔ اسلامی دور حکومت کا آغاز ۔ ۔ ۔ ۔ غوری اور مغلیہ دور ۔ ۔ ۔سکھوں کا دور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔برطانوی دور سے لیکر پاکستان کے وجود میں آنے تک اس دھرتی پر اربوں انسانوں کے قدم پڑے ۔ اس دھرتی نے ہزاروں نشیب و فراز دیکھے ۔

یہ دھرتی پوٹھوہار کی سواں تہذیب وتمدن کا مسکن رہی ہے ۔ ماہرین ارضیات کی تحقیق کے مطابق یہاں پر لاکھوں سال پرانے انسانی قدموں کے نشانات ملے ہیں۔ یہاں انسانی زندگی کے آثار 20 لاکھ سال پرانے ہیں ۔ اس تحقیق کی بنیاد وہ فوسلز تھے جو دریائے سواں کے ارد گرد کے علاقے مورگاہ گڑھی شاہاں سواں کیمپ سے ملے ہیں۔ ماہر ارضیات ڈی ۔این واڈیا نے 1928 میں دریائے سواں کے کنارے ایسے اوزاروں کا پتہ چلایا ہے جو پتھر کے بنے ہوئے اوزار استعمال کرنے سے بھی قبل کا زمانہ ہے ۔ راجہ راول جس کے نام سے راولپنڈی مشہور ہوا سے پہلے یہاں سوہا قوم حکمران تھی ۔ اسی کے مقبوضات میں دریائے سوآں بھی شامل تھا سوہا قوم کی مناسبت سوآں ,سوہان سوہاوہ اور پیرسوہاوہ کا نام مشہور ہوا ۔ یہ سوہاقوم بعدازاں اٹھ کر جلسیمر چلی گئی ۔

583 ء میں موجودہ اسلام آباد کے علاقے میں ہنوں کے امیر مہر گل یا مہار گلا کو جو پوٹھوہار اور کشمیر کا حکمران تھا ۔ گپتہ راجہ یا شودھر من نے پوٹھوہار میں شکست دی اور شمالی ہند سے ہنوں کا قلع قمع کر دیا ۔ مارگلہ کا نام اسی مہر گل یا مہار گلا کی مناسبت سے پڑا اور یہ اس وقت سے رائج ہے ۔

خطہ پوٹھوہار میں واقع ارضِ اسلام آباد کے تاریخی پسِ منظر کا جس قدر جائزہ لیا جائے اور اس کی جغرافیائی ،لسانی، تہذیبی تمدنی اور قدیم معاشرتی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ان اسباب کی اہمیت اور بھی دوبالا ہو جاتی ہے جن کی بنا پر اسے پاکستان کا وفاقی دارالحکومت قرار دیا گیا ہے ۔

کسے معلوم تھا اس دھرتی کے سنگُ و خشت سے ابھر کر ایک نیا خوبصورت شہر جنم لے گا ۔ 1960 ,ء میں اسلام آباد کے تعمیر کے ابتدائی مراحل کے دوران وفاقی ترقیاتی ادارہ سی ڈی اے نے اکثر دیہاتوں کی زمینیں ایکوائر کر لیں ۔ اس کے بدلے میں یہاں کے مکینوں کو ملتان ،جھنگ اور سرگودھا میں الاٹیاں عطا کی گئیں ۔۔ لیکن مکمل قدیم آبادی کی شہر سے باہر منتقلی موجودہ دور تک مکمل نہیں ہو سکی ۔ بعض دیہات ابھی تک سی ڈی اے کی ایکوائرشدہ زمین پر اسی طرح آباد ہیں۔ البتہ اکثر دیہاتوں کا نام و نشاں مٹ چکا ہے ۔

مورخ اگر اس دھرتی کے ماضی پر نظر دوڑائے تو اسے ہر سیکٹر یا سب سیکٹر میں ایک گاوں آباد نظر آئے گا ۔ بلکہ اس کے اولین آباد کار بمعہ اپنے شجرہ نسب کے آباد دکھائی دیں گے ۔ دیہاتوں کے ناموں کی وجہ تسمیہ بھی اپنی الگ شناخت ظاہر کرے گی ۔ اسلام آباد کے مضافات کے طویل العمر باسی قدیم تہذیب و تمدن اور آثارِ قدیمہ کی خاموش زبان میں بہت سی پرانی اور معنی خیز داستانیں سناتے ہیں ۔

اس دھرتی پر طویل عرصہ اپنا تخقیقی آئینے کو فِٹ کیا تو مجھے اس دھرتی پر آباد ضعیف العمر افراد کی میموری سے قدیم مناظر دستیات ہوئے ۔ ۔ ۔وہی کھیت کھلیان ۔ ۔ ۔ اونچی نیچی پگڈنڈ یاں ۔ ۔ ۔ ہری بھری فصلیں ۔ ۔ ۔ کچے گھروندے ۔ ۔ مال مویشی ۔ ۔ پھلدار درختوں کے باغات ۔ ۔ ۔ ۔ انتہائی سادہ طرز زندگی ہاں ۔ ۔ ۔ بالکل وہی مناظر جو 1959 میں فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے شکرپڑیاں سے دوربین کے ذریعے ملاحظہ فرمائے تھے ۔ میں نے ان مناظر کو قلمبند کیا ۔ دیہاتوں کی تفصیلات مرتب کیں ۔

اسلام آباد کے مشہور دیہات میں سیدپور، نورپورشاہاں ،شکر پڑیاں، ملپور، بہارہ کہو، گولڑہ شریف ،سری سرال ،باغ بٹاں ،ملکاں ہانس، بھیگاسیداں ، کٹاریاں، گیدڑ کوٹھا، شاہ اللہ دتہ، شامل ہیں ۔شہر کی تعمیر کے دوران مارگلہ کے دامن میں واقع بہت سے دیہات جیسے نورپور شاہاں، شاھدرہ سیدپور اور گولڑہ شریف کو اسلام آباد کا دیہی علاقہ قرار دیکر ان کی اصل شکل کو برقرار رکھا گیاہے ۔ اس دیہی علاقے کا مجموعی رقبہ ٣٨٩٠٦ مربع کلومیٹر ہے۔

سیدپور اور شاہ اللہ دتہ قدیم ترین دیہات ہیں سید پور کا پرانا نام فتح پور باولی تھا اسے پہلے پہل مغلوں کے ایک بزرگ مرزا فتح بیگ نے 1530 میں آباد کیا تھا ۔ 1580 میں مان سنگھ نے کابل جاتے ہوئے سید خان گکھڑ کو یہ جاگیر عطا کی ۔ بعد میں سید خان کی مناسبت سے اس کا نام سیدپور رکھا گیا ۔ سید خان سلطان سارنگ خان کی اولاد میں تھے۔ سیدپور کو قدیم دور سے ہی اہمیت حاصل رہی ہے ۔ ،1849 میں یہاں انگریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر قبضہ کیا تھا ۔ یہاں ہندوں کے مشہور استھان رام کنڈ ، لچھمن کنڈ اور مندر تھا جس کے آثار اب بھی موجود ہیں ۔ مشرف دور میں سیدپور کو ماڈل ویلیج کا درجہ دیکر اپ گریڈ کیا گیا ۔ اس گاوں میں گکھڑ برادری کی اکثریت ہے جبکہ جنجوعہ راجپوت، اعوان، پیرکانجن مغل، دھنیال، گوجر، منہاس، راجپوت، بھٹی اور سید بھی آباد ہیں ۔ سیدپور سے منسلک قدیمی آبادیوں میں چک ، بیچو، میرہ ، ٹیمبا ،بڑ ، جنڈالہ ہیلاں شامل تھے چک اور بیچو موجودہ جی 6/3 اور جی 6/4 اور موجودہ ایف سکس مرکز کا ایریا ہے میرہ ،ٹیمبا میں پاکستان کی سب سے بڑی مسجد فیصل مسجد قائم ہے بڑ موجودہ ایف 5 کا علاقہ ہے ۔سیکٹر ای سیون میں ڈھوک جیون نام کی بستی تھی جسے جیون گوجر نے گجرات سے آ کر آباد کیا تھا۔ بابا جیون کے ساتھ ہمارے چیچی گوت کے آباواجداد گاوں کوٹلہ اور مسلم آباد کے اولین آباد کار عاصی ،باسی فیروز تہوری ،حسین ،بلاقی بھی کوٹلہ گجرات میں قحط سالی کے دوران نکل مکانی کر کے ڈھوک جیون میں آباد ہوئے یہ بستی فیصل مسجد سے چڑیا گھر تک پھیلی ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ اس آبادی کا قدیمی قبرستان آج بھی شاہین مارکیٹ کے قریب پارک میں موجود ہے ۔

سیکٹر جی 5 میں کٹاریاں گاوں آباد تھا آج کل یہاں وزارت خارجہ کے دفاتر ہیں کٹاریاں گاوں کے باشندوں کو سیکٹر آئی نائن کے سامنے راولپنڈی کی حدود میں متبادل جگہ دی گئی ۔ جسے آجکل نیوکٹاریاں کہا جاتا ہے ۔ یہ گوجروں کی کٹاریہ گوت سے منسوب ہے۔چڑیا گھر کے سامنے سیکٹر ایف 6 میں بانیاں نام کی بستی تھی جس کے اولین آباد گوجروں نے اپنی گوت بانیاں کے نام پر اس کا نام رکھا ۔اسلام آباد میں گوجر قوم کی آباد کردہ بستیوں میں ٹھٹھہ گوجراں، کنگوٹہ گوجراں ،کٹاریاں بھڈانہ بانیاں ،نون، بوکڑہ،داداں گوجراں،گوراگوجر ،جہاری گوجر ، بھڈانہ کلاں ،بھڈانہ خورد ،پوسوال ،ڈھوک گوجراں ، ڈھوک جیون ، جبی، بڈھو ،روملی، نڑیاس ،نڑیل شامل ہیں ۔راولپنڈی گزیٹئر 1884ءکے مطابق ضلع راولپنڈی کے109 دیہات کے مالکان گوجر تھے اور 62 دیہات گکھڑوں کی ملکیت تھے ۔ سیکٹر جی 10 کا پرانا نام ٹھٹھہ گوجراں تھا۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور سیکٹر آئی ایٹ میں سنبل جاوہ نڑالہ خورد اور نڑالہ کلاں کے گاوں آباد تھے موجودہ ایچ ایٹ قبرستان اور ایجوکیشن کے دفاتر کے ساتھ چک جابو آباد تھا ۔زیروپوائنٹ کے ساتھ پتن کوٹ نام کا گاوں تھا ۔ موجودہ میریٹ ہوٹل کے قریب پہالاں نام کی بستی تھی ۔ ایچ 10 میں بھیگا سیداں آباد تھا ۔ چراہ کے ساتھ ترار پیجا پنڈ ملکاں دروالہ آری سیداں کی آبادیاں ہیں ۔ مارگلہ ٹاون کے ساتھ اوجڑی خورد اور اوجڑی کلاں کے گاوں آباد ہیں ۔،1770ء میں سکھوں نے گکھڑوں پر مکمل بالادستی حاصل کی تو فتح پور کلوری کے پرگنوں اور 600 ,دیہات پر مشتمل اکبرآباد میں ملکا سنگھ نے مختلف قبائل کو جاگیریں عطا کیں ۔اور طے شدہ خراج جسے مُشخصہ کا نام دیا گیا وصول کیا سیدپور کے گکھڑوں کو 22 دیہات تمیر کے رونیال قبیلے کو ا گولڑے کے اعوانوں کو ،22_دیہات منڈلا چنیاری اور پھلگراں کے گکھڑوں کو،10 دیہات بطور جاگیر عطا کیے گئے ۔ پھلگراں کے قریب دو دیہات ڈھونڈ قبیلے تھے رتہ ہوتر کے مالک پیر صدر دین جو ایک اعزازی مجسٹریٹ تھے شکرپڑیاں میں گکھڑوں کی بگیال شاخ کے لوگ آباد تھے انہیں ملک بوگا کی اولاد بتایا جاتا ہے.شاہ اللہ دتہ اسلام آباد کا قدیم ترین گاوں متصور کیا جاتا ہے ۔ یہ تقریباً 650 سال قدیم گاوں ہے جہاں سینکڑوں سال پرانی غاریں قدیم فطری تہذیب اور مذاہب کا پتہ بتلاتی ہیں ۔

اسلام آباد سے بہارہ کہو جاتے ہوئے مری روڈ پر ملپور کی قدیم بستی واقع ہے۔ یہ گاوں بھی ابتدا میں قطب شاہی اعوانوں کا تھا اور راول ڈیم کی حدود کے اندر واقع تھا ۔بعد ازاں اسےنیو ملپور کے نام سے بسایا گیا ۔ یہ گاوں سردار بدھن خان اعوان نے پہلے پہل آباد کیا تھا بعد میں یہ گکھڑوں کی ملکیت میں آ گیا یہاں کمیال، گکھڑ، شیخ اور ملیار بھی آباد تھے 1976ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اسے ماڈل ویلج کا درجہ دیا تھا ۔ ٹیال اور کونجڑے نام کی آبادیاں داخلی ملپور کا حصہ ہیں ۔

موجودہ کنونشن سنٹر کے قریب ڈھوک کی چھوٹی قسم ًڈھوکریً کے نام کا چھوٹا سا گاوں آباد تھا ۔ جو جو اسی ٨٠ کی دہائ تک ایک مزدور بستی کے طور پر آباد رہا بعد ازاں اس کا نشاں مٹ گیا ۔ البتہ ڈھوکری سٹاپ نے اس کے نام کو ذندہ رکھا ہوا ہے۔ موجودہ آبپارہ کے قریب باگاں یا باغ کلاں نام کی بستی تھی ۔اسلام آباد شہر کی تعمیر کی ابتدا اکتوبر 1961 میں اسی باغ کلاں گاوں سے کی گئی ۔ نور پور شاہاں حضرت شاہ عبدالطیف کی آمد سے قبل چور پور مشہور تھا ۔یہ علاقہ ایمان کی روشنی سے منور ہو کر نور پور کہلانے لگا ۔ چور پور سے قبل یہ ُکہا ہوت ْ کے نام سے مشہور تھا ۔ نورپور شاہاں اورنگ زیب عالمگیر کے عہد سے آباد چلا آرہا ہے سیدپور نورپور اوربہارہ کہو کا مفصل تذکرہ میری کتاب خیابانِ مارگلہ میں موجود ہے.راول ڈیم نالہ کورنگ پر تعمیر کیا گیا ہے ۔ یہ نالہ مارگلہ اور مری کی زیریں پہاڑیوں کے چشموں اور برسات کے پانی سے سارا سال بھرا رہتا ہے ۔ڈیم کے موجودہ رقبے میں کئی گاوں آباد تھے جن میں پھگڑیل ،شکراہ ،کماگری، کھڑپن اور مچھریالاں شامل تھے ۔

اسلام آباد کی حدود میں مارگلہ ہلز پر کئی دیہات زمانہ قدیم سے آباد ہیں جن میں تلہاڑ ،گوکینہ ،ملواڑ سرہ ، ، گاہ ،نڑیاس بڈھو شامل ہیں ۔ فیصل مسجد کے مغرب میں پہاڑوں پر کلنجر نام کی بستی آباد تھی ۔ فاطمہ جنح پارک کے قریب روپڑاں نام کی بستی تھی ۔ اس نام کی اسلام آباد گے گردونواح میں تین آبادیاں ہیں ۔ قرین ازقیاس یہی ہے اس کے اولین آبادکار انبالہ روپڑ انڈیا سے آ کر آباد ہوئے ۔ پارک کے قریب قدیمی شیرِ ربانی مسجد اور قبرستان بھی موجود ہے ۔گولڑہ شریف کے مالکان قطب شاہی اعوان تھے۔ ان کے اولین آباد کار نے اپنی شاخ گوڑہ کے نام پر اس مقام کا نام رکھا گیا ۔ میرا جعفر گولڑہ کے قریب ایک چھوٹا سا گاوں ہے اس کے ساتھ میرا سمبل جعفر نام کی بستی ہے ان دونوں گاوں کو جعفر نامی شخص نے آباد کیا ۔ملک پور عزیزال کو ترکھان قبیلے نے آباد کیا ۔ یہاں کوکنیال اور مکنیال لوگ بھی آباد ہیں ۔موہڑہ نگڑیال کو راجپوت قبیلے کی نگڑیال شاخ نے آباد کیا ۔

میرا بیگوال سملی ڈیم روڈ پر واقع ہے یہ پہاڑی کے قریب خوبصورت محل وقوع پر واقع ہے اسے دھنیال قبیلے نے آباد کیا ۔موضع تمیر کو دھنیال قبیلے کی شاخ رونیال نے آباد کیا ۔ کوری ، کرور،کرپا بند بیگوال چارہان اور میرا بیگوال دھنیال قبیلے کے مشہور دیہات تھے ۔جھنگی سیداں موٹروے کے قریب اہم گاوں ہے اس کے مالکان سید تھے۔ جن کے نام پر اس کا نام رکھا گیا یہاں پر ان کی واضع اکثریت ہے ۔شاہ اللہ دتہ بھی سادات کی ملکیت ہے ۔ہون دھمیال سہالہ ٹریننگ کالج کے قریب گاوں ہے اسے دھمیال قبیلے نے آباد ہے یہاں مٹھیال شاخ کے لوگ آباد ہیں ۔ ہردو گہر سہالہ کے قریب گاوں ہے یہ سواں ندی کے دو حصوں میں تقسیم ہے ڈھوک قاضیاں گہر راجگان چہال یاراں گہر نئی آبادی گھڑی اور دندی اس کی ذیلی بستیاں ہیں یہ کہوٹہ روڈ پر واقع ہے.

علی پور اور فراش دو علیحدہ علیحدہ گاوں ہیں راول ڈیم سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر لہتراڑ روڈ پر واقع ہیں۔ ان کی زمینیں ایکوائر کر لی گئی تھیں اس کے قریب پنجگراں نام کی بستی ہے ۔ علی پور کو اس کے اولین آباد بابا علی محمد کے نام پر رکھا گیا ۔ ابتدائی طور پر یہاں کھوکھر ،ملک آباد تھے بعد میں ڈھونڈ راجپوت بھٹی قاضی اور جنجوعہ بھی آباد ہوئے کری اور ترلائی کے قریب علی پور کو مرکزی حیثیت حاصل ہےشاہ اللہ دتہ کے قریب پنڈ سنگڑیال ,دھریک موہری جودھاں نام کے دیہات آباد ہیں جودھاں قدیم گاوں ہے یہاں شیرشاہ سوری عہدکے اوزار دریافت ہوئے ہیں ۔ سنگ جانی جسے انگریز نے جانی کا سنگ لکھا ہے اسلام آباد کے مغربی سلسلے کا آخری گاوں ہے ۔

اسلام آباد کی حدود میں آباد دیہاتوں اور قصبوں کی فہرست بہت طویل ہے اکثر بستیوں کی شناخت مٹ چکی ہے ان کی جگہ ماڈرن سیکٹر تعمیر ہو چکے ہیں ۔ چند اہم دیہاتوں میں لوہی بھیر ،ملوٹ ،ہون دھمیال، اراضی مسنالی ،بگونال موہڑہ ،بیگوال موہڑہ ،باکری بدھال ،چک شہزاد ،علی پور فراش، جگیوٹ ،جھنگی سیداں، میرا بیگوال ،ملک پور عزیزال ،ملپور ،میرا جعفر ،موہڑہ نگڑیال، پھلگراں ،پنڈ بھیگوال، رحمان ٹاوں ،سید پور ،شاہ اللہ دتہ ،نورپور شاہاں ،شاہدرہ، ماندلہ ،نڑولہ ،رتہ ہوتر ،نڑیل، جبی ،کملاڑی ،روملی، منڈیالہ، سرہ،بنی گالا ، ملواڑ ،گوکینہ، تلہاڑ، نڑیاس ،بڈھو، بہارہ کہو سترہ میل,چک جابو , ٹیال ،موہڑہ شاہ ولی ،موہری گکھڑاں ،نیلور ،گڑھی شاہاں، اڑھا، ہمک، جاوہ، روات کنالہ ،موہڑہ نور ،کرپا ،چراہ ،ٹھنڈا پانی ،سملی ،سہالہ، ترنول ،سری سرال ،میراآبادی ،سوہان ،چھتر، شاہ پور، سکریلہ ،دوہالہ ،اٹھال ،چونترا ،بابری پیٹھا ،کرلوٹ ،ہوتراں، کیتھر منگال ،چنیاری ،تمیر، مٙیرا شامل ہیں ۔