سنتوش دیوی کی کامیابی

بھارتی ریاست راجھستان کے ضلع جھنجھنو کے ایک چھوٹے سے گاؤں کیلاشیاء میں ایک کسان رہتا تھا۔اسے دہلی پولیس میں نوکری مل گئی اور یہ کھیتی چھوڑ کر اپنے بچوں کو لے کر دہلی چلا آیا۔پر اس کی ایک چھوٹی سی بیٹی سنتوش دیوی کا دل ہمیشہ اپنے گاؤں کی ہریالی میں اٹکا رہتا۔پانچویں جماعت تک آتے آتے اس کا دل پڑھائی سے اچاٹ ہو گیا،اور اس نے اپنے والد سے درخواست کی کہ اسے واپس اپنے دادا جی کے پاس گاؤں بھجوا دیاجائے۔

گاؤں واپس آ کر اس نے اپنے دادا جی کے ساتھ کھیتوں میں جانا شروع کر دیا۔

12 سال کی عمر میں اس نے کھیتی باڑی کے بارے میں کافی بنیادی باتیں سیکھ لیں۔1990 میں صرف 15 سال کی عمر میں اس کی شادی ہو گئی،اور وہ اپنے شوہر ‘رام کرن کیدار’ کے ساتھ اپنی سسرال کے کے ‘بیری’ گاؤں چلی آئی۔بیری گاؤں راجھستان کے ضلع ‘سیکر’ میں واقع ہے۔سنتوش دیوی کے شوہر اپنے تین بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ باقی دو بھائی اچھی ملازمتوں پر تھے، جبکہ ‘رام کرن’ ذیادہ پڑھ لکھ نہ پائے اور کھیتوں پر ہی کام کرتے رہے۔



سنتوش دیوی اپنے شوہر کے ساتھ مل کر 5 ایکڑ کی اس مشترکہ زمین پر کھیتی کرنے لگیں۔اس دوران ان کے ہاں ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کی ولادت بھی ہو گئی۔لیکن تھوڑے ہی عرصے کے بعد بھائیوں میں علیحدگی ہو گئی،زمین تقسیم ہوئی،اور ‘رام کرن’ کے حصے میں محض اڑھائی بیگھے زمین آئی۔
پانچ ایکڑ زمین سے پہلے ہی مشکل سے پیٹ بھرنے کو اناج ملتا تھا۔اب وہ بھی تقسیم ہو گئی تھی۔یہ چھوٹا سا گھرانہ سخت مشکل حالات میں گھر گیا تھا۔

رام کرن نے 3000 روپے تہوار پر ایک گھر میں چوکیدار کی ملازمت کر لی تھی۔زندگی کی گاڑی کسی طور چلنے لگی۔۔بھارتی ریاست راجھستان کا زیادہ تر علاقہ سوکھا بیابان اور صحرائی ہے۔پانی کی دستیابی بے حد مشکل ہے،اور آب و ہوا سخت خشک اور گرم،جیسا کہ پاکستان میں تھر اور چولستان ہے۔

ان سخت حالات میں سنتوش دیوی نے معاملات خود سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔صرف تھوڑی سی زمین تھی،جو کہ تقریباً بنجر تھی۔پانی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔اس نے خدا کا نام لے کر سب سے پہلے زمین پر اُگی ہوئی جھاڑیاں اور جڑی بوٹیاں صاف کیں۔اس نے اپنے دادا کی زمینوں پر یہ دیکھا تھا کہ وہ کوئی کیمیاوی کھاد استعمال نہیں کرتے، بلکہ صرف قدرتی کھاد کا استعمال کرتے تھے،اور ان کی فصل شاندار ہوتی تھی۔جبکہ اس کی سسرالی زمینوں پر کیمیاوی کھادوں کا زیادہ استعمال ہونے کی وجہ سے یہ زمینیں اپنی زرخیزی کھو چکی تھیں۔اس نے کیمیاوی کھاد کا استعمال ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔اس نے زمین پر محنت کرنا شروع کی،مگر روایتی فصلوں،باجرہ اور جوار سے ہونے والی آمدن سے بیج،کھاد اور مزدوری کا خرچ بڑی مشکلوں سے پورا ہوپاتا تھا۔حالات بہت مشکل ہوتے گئے۔اس گھور اندھیرے میں ضلع ‘سیکر’ کے زراعت افسر اس بدحال گھرانے کے لئے روشنی کی کرن ثابت ہوئے۔جنہوں نے اس گھرانے کو ‘انار’ کاشت کرنے کا مشورہ دیا۔2008 میں انہوں نے وہاں کے زرعی ادارے سے انار کے 220 پودے خریدے،جن کی کل قیمت 8000 روپے بنی۔اگرچہ وہاں کے فروغ کاروبار کے ادارے’ادیان کیندر’ نے ان کو اس خریداری کے لئے ‘سبسڈی’ بھی دی مگر پھر بھی بقایا رقم پوری کرنے کے لِے ان کو اپنی واحد بھینس بھی فروخت کرنا پڑی۔ان کی زمین پر آبپاشی کے لئے پانی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔

بھینس کی فروخت سے حاصل ہونے والی بقایا رقم سے انہوں نے ایک چھوٹا سا ٹیوب ویل لگوا لیا۔پانی کی ایک ایک بوند قیمتی تھی۔سو انہوں نے ڈرپ ایریگیشن پر جانے کا فیصلہ کیا،مگر مشکل یہ تھی کہ گاؤں میں اس وقت بجلی نہیں تھی۔انہوں نے ایک پرانا جنریٹر خریدا اور اپنے ایک پڑوسی کے راشن کارڈ پر جینریٹر کے لئے مٹی کا تیل خریدا، اور اس کے ذریعے سے پانی کا نظام چلانے لگے۔قدرتی کھاد کا انتظام کرنے کے لئے انہوں نے دو عدد دیسی گائیں خریدیں۔ ایک گڑھا بنا لیا گیا تھا، جس میں ان گائیوں کے گوبر، پیشاب، بچے ہوئے چارے اور گھر کے نامیاتی کوڑے، جیسا کہ سبزیوں کے پتے،چھلکے وغیرہ کو ڈال کر نامیاتی کھاد تیار کی جانے لگی۔جبکہ ان کے دودھ سے پورے گھرانے کی کھانے پینے کی ضروریات پوری ہونے لگیں۔ ۔یہ بہت سخت وقت تھا۔

رام کرن اپنی ملازمت کے علاوہ جو بھی وقت ملتا، اپنی بیوی کا ہاتھ بٹاتے، بعد میں بچے بھی اسکول سے واپسی پر آ کر اپنے ماں باپ کا ہاتھ بٹانے لگے۔ پودے بڑے ہونے لگے۔ سنتوش دیوی ہر پودے کو ہر چھ ماہ کے بعد گوبر سے بنائی گئی 50 کلو گرام کھاد ڈالتیں۔ انہوں نے شاخ تراشی کی تکنیک استعمال کرنا شروع کی تاکہ پھلدار شاخوں کے علاوہ غیر ضروری شاخیں پودے کو دی گئی خوراک میں مفت کی حصے دار نہ بنیں۔پودوں پر کیمیاوی زہروں کے اسپرے کی بجائے، قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیار شدہ دوائی کا چھڑکاو کیا جاتا۔ سنتوش دیوی نے اس اسپرے میں گڑ کی آمیزش کر دی۔ جس کی وجہ سے شہد کی مکھیاں زیادہ سے زیادہ تعداد میں آکر پھولوں کی بارآوری میں حصہ دار بننے لگیں۔صرف قدرتی کھاد کے استعمال نے زمین کی زرخیزی کا کام کرنے والے کینچووں کو دوبارہ زمین کی طرف آنے پر مائل کیا، نتیجہ زمین کی زیادہ زرخیزی کی صورت میں نکلا۔اس ساری محنت کا نتیجہ اچھی مقدار اور اچھے میعار کے خوش ذائقہ پھل کی صورت میں نکلا۔

اس گھرانے کو اپنی محنت کا پہلا پھل تین سال کی کڑی محنت کے بعد ملا جب یہ گھرانہ2011 میں اپنی پہلے سال کی فصل کو فروخت کر کے 3 لاکھ روپے کا منافع کمانے میں کامیاب رہا۔بالآخر بظاہر ایک معمولی تعلیم یافتہ عورت اپنے عزم، ہمت، محنت اور استقلال کی بدولت ایک مفلوک الحال گھرانے کو غربت کے تاریک گڑھے سے نکال باہر کرنے میں کامیاب رہی تھی۔لیکن بہتری اور ترقی کا سفر تو ابھی شروع ہوا تھا۔

سنتوش دیوی نے اپنے باغ کے گرد آڑور کے پودوں کی باڑ لگائی۔ اس کے کئی فائدے ہوئے۔ ایک تو آڑو کے پودوں نے پورے باغ کو جھلساتی ہوئی گرمی سے بچائے رکھا، دوسرا آڑو کے پودے کی جڑیں زمین میں موجود کیلشیم سے تعامل کر لیتی ہیں، جس سے زمین میں کیلشیم کی کمی نہیں ہوتی، تیسرا اس کے پھل سے اضافی آمدنی بھی ممکن ہے۔

سنتوش دیوی اور ان کے شوہر نے فصل کی فروخت کے لئے اسمارٹ مارکیٹنگ کی تکنیک اپنائی۔ انہوں نے اپنے باغ کا ایک دانہ بھی آڑھتی کو فروخت نہیں کیا۔ کیونکہ ان کے خیال میں یہ آڑھتی ہی ہیں، جو کہ کسان کی بدحالی کے ذمہ دار ہیں۔یہ اپنے پہلے سال کے پھل شہر میں لے جا کر ہر بڑے افسر، شوروم مالک اور ہر اس آدمی کے پاس پہنچے جو اعلیٰ ذائقے کا شائق ہو سکتا تھا۔ وہاں روایتی طور پر مارکیٹ میں دستیاب اعلیٰ درجے کے انار عموماً 400 گرام تک کے ہوتے تھے، ان کے اُگائے ہوئے انار 700 سے 800 گرام تک کے تھے۔ جبکہ مکمل آرگینک یا نامیاتی طریقے سے آگے ہونے کی وجہ سے کوئی بھی انار ان کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جس نے ایک بار ان کے فارم کا انار چکھا وہ ،ان کا مستقل گاہک بن گیا۔ اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سارا پھل لوگ فارم سے آ کر خرید کر لے جانے لگے۔سنتوش دیوی اب دیگر پھلدار پودے بھی لگانا چاہتی تھیں مگر وہ اور زمین خریدنے پر بھاری سرمایہ لگانے پر تیار نہیں تھیں۔ انہوں نے دیکھا کہ 15×15 پر انار کے پودے لگے ہوئے تھے، جن کے بیچ کی خالی جگہ کو جڑی بوٹیوں سے صاف رکھنا پڑتا تھا،جس پر الگ سے محنت اور سرمایہ خرچ ہوتا، انہوں نے اسی خالی جگہ کو استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا، اور موسمبی کے 150 پودے ان خالی جگہوں پر لگا دیے۔اس کے علاوہ دیگر دستیاب جگہوں پر، کینو، لیموں اور بیل گری کے پودے بھی لگائے گئے۔

سنتوش دیوی کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ،اردگر کے کسانوں نے بھی انار لگانے شروع کیے مگر کامیاب نہ ہو سکے۔اس کی وجہ غیر میعاری پودوں کا دستیاب ہونا تھا۔ بالآخر کسان رہنمائی کے لئے ان کے پاس آنے لگے۔ اس سے ‘رام کرن اور سنتوش دیوی کو ایک نئی راہ ملی،اور اس طرح سال 2013 میں’ شیکھاوتی کرشی فروٹ فارم اینڈ نرسری’ کی بنیاد پڑی۔ انہوں نے اپنے پودوں سے قلمیں تیار کر کے پودے تیار کرنے شروع کیے۔تین سال پہلے تک سنتوش دیوی 15000 انار کے پودے سالانہ فروخت کر رہی تھیں۔

اس وقت یہ صورتحال ہے کہ، سنتوش ایک پودے سے پہلے سیزن اگست ستمبر میں 40 کلوگرام تک ،جبکہ دوسرے سیزن نومبر دسمبر میں 30 کلو گرام تک پھل حاصل کر رہی ہیں جو کہ وہ 100 روے کلو میں فروخت کرتی ہیں۔ اس طرح انار کے پھل سے حاصل ہونے والی آمدنی 10 لاکھ تک، نرسری سے 100 روپیہ فی پودا کے حساب سے ہونے والی 15000 پودے سالانہ فروخت کر کے 15 لاکھ روپے تک، موسمبی کے 150 پودوں کا پھل 1 لاکھ 50 ہزار روپے تک، اور لیموں اور دیگر پھل بیچ کر 60سے 70 ہزار روپے تک سالانہ کما رہی ہیں۔اس طرح اخراجات نکال کر یہ رقم 25 لاکھ روپے تک ہو جاتی ہے،پاکستانی روپے میں یہ رقم 56 لاکھ روپے سالانہ ہے۔

اگرچہ گاؤں میں 2013 میں بجلی آ گئی تھی۔ لیکن سنتوش نے اپنا ٹیوب ویل سولر سسٹم پر شفٹ کر دیا تھا۔ ان کے تینوں بچے بی ایس ایگریکلچر کر چکے ہیں، اور آگے ان کا ارادہ زراعت کے شعبے میں ہی جانے کا ہے۔ 2017 میں سنتوش دیوی نے اپنی بڑی بیٹی کی شادی کردی۔ وہ اپنا فارم چھوڑ کر جانے پر بہت اداس تھی۔ ماں نے بیٹی کے دکھ کا مداوا نہ صرف 551 انار کے پودے دے کر کیا، بلکہ شادی میں شامل ہونے والے ہر مہمان کو ،ایک موسمبی اور دو لیموں کے پودے تحفہ کے طور پر بھی دیے گئے۔ان کے کہنے کے مطابق پیسہ تو خرچ ہو کر ختم ہو جاِے گا، جبکہ ایک پھلدار پودے کا پھل آنے والی کئی نسلیں کھائیں گی۔

2016 میں ان کو فروغ باغبانی کے لئے ریاست کی طرف سے ‘کرشی منترا’ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جس کے ساتھ انہیں1 لاکھ روپے نقد بھی ملے۔ جس سے انہوں نے باغ کے درمیان ایک ریسٹ ہاوس بنوا دیا، کیونکہ پورے بھارت سے روزانہ بیسیوں افراد ان کے فارم کو دیکھنے اور کامیابی کی اس داستان کا مشاہدہ کرنے آتے ہیں۔ان میں سے کئی کچھ دن یہاں ٹھہر کر تحقیقی کام سر انجام دینا چاہتے ہیں، ان کو رہائش کی سہولت دینے کے لئے اس عظیم عورت نے نہ صرف وہ سارا پیسہ اس ریسٹ ہاوس کی تعمیر پر لگا دیا، بلکہ لگ بھگ روزانہ آنے والے ان 15 سے 20 مہمانوں کا کھانا بھی وہ اپنے ہاتھوں سے تیار کرتی ہیں۔