بھٹوصاحب: یہی بہار کے دن تھے کہ سرخ رُوہوئے ہم

یہ گڑھی خدابخش ہے‘ سندھ کے شہر لاڑکانہ سے 23 کلو میٹردور ایک خاموش قصبہ۔ یہیں بھٹو خاندان کاآبائی قبرستان ہے۔ یہ1969کے جون کا گرم خُومہینہ ہے۔ ذوالفقارعلی بھٹواپنی بیٹی بے نظیر کے ہمراہ اپنے بزرگوں کی قبروں پرفاتحہ خوانی کررہے ہیں۔ دہکتے ہوئے سورج کے نیچے قبروں کا سکوت ہے۔ اچانک باپ نے بیٹی کی طرف دیکھا اورکہا” تم بہت دور امریکہ جا رہی ہو۔ تم بہت سی ایس چیزوں کو دیکھو گی جو تمہیں حیران کریں گی ۔ تم بہت سی ایسی جگہوں کا سفر کرو گی جن کا کبھی نام بھی نہیں سنا ہو گا لیکن یاد رکھو آخر کار تمہیں یہیں لوٹنا ہو گا”۔



آج ایک مدت بعد میں گڑھی خدابخش آیاہوں۔آج بھی آسمان پر سورج دہک رہا ہے لیکن اب بھٹو خاندان کی قبروں پر ایک خوب صورت مزار تعمیر ہو چکا ہے یہ سائبان قبروں کو موسموں کی شدت سے بچاتا ہے ۔ اس سائبان کی بھی ایک کہانی ہے ۔ بھٹو صاحب کو پھانسی دینے کا حتمی فیصلہ ہو چکا تھا، نصرت بھٹو اور بے نظیر کو آخری ملاقات کے لیے بلایا گیا تھا۔ یہ ایک عجیب ملاقات تھی جہاں کال کوٹھڑی کا دروازہ بند رہا ،صرف سلاخوں کے آر پار باتیں ہوئیں ،بھٹو صاحب نے اپنی بیٹی کو حوصلہ دیا اور کہا ” آج رات پھانسی کے بعد میں آزاد ہو جاؤں گا میں اپنے پُرکھوں کی سر زمین لاڑکانہ چلا جاؤں گا اور وہاں کی دھرتی ، خوشبوئوں اور ہواؤ ں کا حصہ بن جاؤں گا اور وہاں کی دیو مالائی داستانوںکے کرداروں میںشامل ہوجائوںگا‘‘ یہ کہہ کر بھٹو صاحب رُکے اور کہنے لگے”لاڑکانہ میں تو آج کل بہت گرمی ہو گی”۔ بے نظیر کو آنے والی خوفناک حقیقت کا ادراک ہو گیا تھا، انہوں نے آنسوؤں سے رندھی ہوئی آواز میں وعدہ کیا ”پاپا میں آپ کی قبر پر سائے کے لیے سائبان بناؤں گی‘‘۔ بیٹی نے والد سے کیا ہوا وعدہ خوب نبھایا۔

اس مزار کے قریب ایک سکول ہے۔ یہ چھٹی کادن ہے۔ سکول کے لان میں دو چارپائیاں اورکچھ کرسیاں رکھی ہیں۔ میں بھی ایک کرسی پربیٹھ جاتا ہوں۔ میںیہاں پہلی بار آیاہوں میرے علاوہ اس گائوں کے کچھ لوگ اور کچھ اہل سخن بیٹھے ہیں۔ انہی لوگوں میں موجودگڑھی خدابخش کے شاعر منظور علی منگی نے بتایا بھٹو صاحب کی شہادت کے وقت اس کی عمر سترہ سال تھی۔ اسے بھٹو صاحب کی شہادت کا دن اچھی طرح یاد ہے۔وہ بھٹو صاحب کے جنازے میں بھی شریک ہوا تھا ۔ اس نے دوسرے لوگوں کے ہمراہ بھٹو صاحب کا چہرہ دیکھا تھا۔ اسے اب تک یاد ہے ان کے چہرے پر زردی تھی اور اسے یوں لگا تھا جیسے ان کا جسم سکڑ گیا ہو ، بھٹو صاحب نے پھانسی سے دس روز پہلے احتجاجاً کھانا پینا چھوڑ دیا تھا، جسم کی لاغری کا یہ عالم تھا کہ کال کوٹھری سے پھانسی گھاٹ تک چل کر جانا محال ہو گیا۔

اس لئے انہیں سٹریچر پر ڈال کر پھانسی گھاٹ لے جایا گیا۔ ایک کال کوٹھڑی جس کا سائز 7×10فٹ تھا بھٹو کی کل کائنات تھی آخری دس روز کال کوٹھڑی میں چارپائی بھی نہیں تھی‘ فرش پر گدا ہی ان کابچھونا تھا، زندگی میں بھی کیسے اتار چڑھاؤ آتے ہیں‘ اس تنگ وتاریک کوٹھڑی کامکین وہی شخص تھا جس کے خاندان کی وسیع جاگیریں تھیں ۔کہتے ہیں چارلس نیپئرجس نے 1843 میں سندھ کو فتح کیا تھا‘ سندھ کے دورے پر تھا اور وقفے وقفے سے اپنے ہمراہیوں سے پوچھتا تھا یہ زمینیں کس کی ہیں ؟ ہر بار اسے جواب ملتا تھا بھٹو خاندان کی ۔ تنگ آ کر اس نے کہا میں سونے لگا ہوں ، جب بھٹو خاندان کی زمینیں ختم ہوں مجھے جگا دینا کچھ دیر سونے کے بعد وہ جاگا اور پوچھا کہ یہ زمینیں کس کی ہیں تو اسے جواب ملا، بھٹو خاندان کی ۔ اور اب دنیا کی وسعتیں سمٹ کر 7×10فٹ کی کال کوٹھڑی تک محدود ہوگئی تھیں۔

ہم سکول کے لان سے اٹھ کر پیدل مزار کی طرف چل د یتے ہیں ۔ کتنے ہی لوگ درد کے رشتے سے بندھے مزار کی طرف آرہے ہیں۔ ہم صدر دروازے میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتارتے ہیں اور مزار کی وسیع عمارت میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ مزار کے اندر گلاب کے پھولوں کی مہک بسی ہے۔ بھٹوصاحب کی لحدپرگلاب کے پھولوں کی سرخ پتیاںنچھاور کی جارہی ہیں۔مجھے بھٹو صاحب کاآبائی گھر المرتضیٰ یادآگیا جس کے وسیع لان میں تاحد نظرگلاب کے پھولوں کے تختے تھے۔ گلاب کی بے شمار اقسام یہاں موجود تھیں، بھٹوصاحب جب کسی دورے پرجاتے واپسی پرگلاب کی ایک نئی قسم لے کرآتے۔ان کاپسندیدہ پھول نیلے رنگ کا گلاب تھا۔

بہار کے موسم میں المرتضیٰ بہار کے رنگوں اور خوشبوںسے بھرجاتا۔خوشبوئوں میں انہیں شالیمار کلون پسندتھا۔پھانسی سے ایک روز پہلے اپنی آخری ملاقات میں بھٹوصاحب نے ساری کتابیں،رسالے اور سگار کا پیکٹ بینظیرکے حوالے کردیئے صرف ایک سگار اور شالیمار کلون اپنے پاس رکھ لیا۔ صبح ہونے میں ابھی کچھ گھنٹے باقی تھے۔ جیل کی کال کوٹھری میں تنہابیٹھے بھٹوصاحب کی آنکھوں میں بیتے ہوئے دنوں کے عکس روشن ہونے لگے۔ المرتضیٰ کا وسیع وعریض گھر جہاں بھٹو 5 جنوری 1928 کو پیدا ہوئے 9سال کی عمر تک انہیں کسی سکول نہ بھیجاگیا۔سکول کاآغاز ممبئی میں کیتھڈرل سکول سے ہوا۔بھٹو کویاد آیا کیسے قائداعظم محمدعلی جناح مسلم نوجوانوں کے ہیروبن گئے تھے۔

یہی اپریل کامہینہ تھا اور 1943کاسال جب نوجوان بھٹونے اپنے قائدکوخط لکھا جس میں قائداعظم کوخراج تحسین پیش کرنے کے بعد لکھا کہ میں سکول میں زیرتعلیم ہونے کی وجہ سے ارضِ پاک کے حصول کے لیے اتنا موثرکردارادا نہیں کرسکتا لیکن ایک وقت آئے گا جب میںپاکستان کے لیے اپنی جان بھی قر بان کردوںگا۔نوجوان بھٹو کے لیے وہ دن حیرت اورفخر کاتھا جب اس کے محبوب قائدنے اس کے خط کاجواب دیاتھا۔کال کوٹھڑی میں انہیں وہ دن بھی یاد آئے جب وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کی برکلے یونیورسٹی اورپھر انگلستان کی آکسفورڈ یونیورسٹی گئے۔

انہیں 1951 کاسال یاد آیا جب ان کی شادی نصرت بھٹوسے ہوئی جو سیاسی سفرمیں ان کی رفیق رہیں۔ 1957 میں وہ پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ جانے والے وفدکے کم عمرترین ممبرتھے اور پھر 20دسمبر 1971کادن جب یحییٰ خان سے اقتدار بھٹوصاحب کومنتقل ہوا۔

بھٹو صاحب کووہ شاداب لمحے یاد آئے جب مشکل حالات میںانہیں کامیابیاں ملیں۔ ہندوستان سے90ہزار قیدیوں کی پاکستان واپسی، 1973 کا متفقہ آئین، ایٹمی پروگرام کا آغاز، اسلامی سربراہی کانفرنس کاانعقاد۔ اورپھر قتل کا عدالتی مقدمہ اور فیصلہ۔ یہ فیصلہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میںایک انتہائی غیرخوش کن باب کے طورپر یادرکھاجائے گا۔پرانے دنوں کویاد کرتے کرتے بھٹو صاحب کی آنکھیں بوجھل ہونے لگیں اور وہ پھر فرش پہ بچھے گدے پردرازہوگئے۔

اگلی صبح سہالہ ریسٹ ہائوس میںنظربند بے نظیر بھٹوکے دروازے پردستک ہوئی دروازہ کھلاتو سامنے جیل کا ایک کارندہ کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں بھٹو صاحب کے وہ کپڑے تھے جوانہوں نے آخری بار پہنے تھے۔بیٹی کوصورتحال سمجھ آگئی اس نے اپنے والدکے کپڑوں کوسینے سے لگاکر بھینچ لیا کپڑوں سے شالیمار کلون کی وہی مانوس خوشبو آرہی تھی۔ جیل کے کارندے نے بتایا۔ تدفین گڑھی خدابخش کے قبرستان میں ہوگی جس میں آپ شرکت نہیں کرسکتیں۔

ملک بھر میںمیں ایک سکتے کاعالم تھا۔ مصاجبین شاہ اس سکتے کو سکون سے تعبیرکررہے تھے۔ افتخار عارف نے اس سکون کی خبرلندن میں سنی اور اگلے روز بی بی سی اردو میںاپنی نظم سنائی:
“مصاجبینِ شاہ مطمئن ہوئے کہ سرفراز سربریدہ بازوئوں سمیت شہرکی فصیل پرلٹک رہے ہیں اورہرطرف سکون ہے۔

سکون ہی سکون ہے

فغانِ خلق اہل طائفہ کی نذرہوگئی

متاعِ صبروحشتِ دعا کی نذرہوگئی

امیدِاجربے یقینی جزا کی نذرہوگئی

نہ اعتبارِ حرف ہے نہ آبروئے خون ہے

سکون ہی سکون ہے”

کسے معلوم تھا یہ سکون دراصل ایک گہرا سناٹا ہے جوحدسے بڑھتا ہے توکہرام میں بدل جاتاہے