اسلام_کا_ایک_سپاہی_

اسلام کاایک سپاہی_جو مرتے دم تک قبلہ اول کی چوکیداری کرتا رہا

“حسن غدرلی” خلافت عثمانیہ کی فوج میں ایک سپاہی تھے اور القدس کا دفاع کررہے تھے، خلافت کے انہدام کے بعد بھی مسجد اقصی کو چھوڑنے سے انکار کیا اوپر سے آنے والے تمام احکامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کچھ بھی ہوجائے وہ تاحیات مسجد اقصی کی حفاظت کرے گا. 1982 میں 93 برس کی عمر میں القدس میں ہی فوت ہوگٸے.



1917 میں پہلی جنگ عظیم میں القدس پر برطانیہ نے قبضہ کیا اور 53 عثمانی فوجیوں نے واپس ترکی جانے سے انکار کیا کہ مسجد اقصی کو نقصان پہنچ سکتا ہے، 1972 میں ایک ترک صحافی” الھان بردکجی” نے حسن سے ملاقات کی اور سوال کیا کہ خلافت کی شکست اور انہدام کے بعد آپ اپنے ملک کیوں نہیں گئے تو حسن نے کہا:

“میں نے یہ سوچ کر یہاں تاحیات رہنے اور مسجد اقصی کے دفاع کا فیصلہ کیا کہ دنیا یہ نہ کہے کہ خلافت مسجد اقصی کی حفاظت سے دستبردار ہوگئی حلانکہ خلافت نے 400 سال تک مسجد اقصی کی حفاظت کی۔۔۔ میں نے یہ سوچا کہ سلطان الانبیاء ﷺ ناراض نہ ہوں اور مسجد اقصی کے کفار کے ہاتھوں میں جانے سے عالم اسلام غمگین اور پریشان نہ ہوں پھر یہ عرصہ بھی گزر گیا اس دوران میرے ساتھی بھی میرے ساتھ تھے مگر موت نے ان کو مجھ سے جدا کیا میں مرتے دم تک مسجد اقصی کی دیکھ بھال کروں گا امت میرے لیے دعا کرے پھر حسن 1982 تک مسجد اقصی میں رہے مگر موت تو سب کو آتی ہے غداروں کو بھی اور مخلص لوگوں کو بھی مگر مخلص لوگوں کو امت یاد رکھتی ہے
اس لیے حسن قیامت تک امت کے دل میں زندہ رہیں گے۔