کرونا وائرس کا وزیر اعظم کے نام خط

سر
میں جا رہا ہوں۔

اب مزید یہ سب کچھ سہا نہیں جاتا۔

آپ کو شاید یقین نہ آئے لیکن یہ حقیقت ہے کہ پوری دنیا پھرا ہوں، اتنا ذلیل و رسوا کہیں نہیں ہوا۔ ہر جگہ لوگ کھل کر میرے سامنے آئے، مجھے بھی مقابلے کا مزا آیا۔ ٹھیک ہے چین میں مجھے پسپا ہونا پڑا۔ اسی طرح ولادی میر پوتین نے بھی مجھے قدم نہیں جمانے دیے۔ لیکن میں مایوس نہیں ہوا۔ اس کے باوجود امریکہ کو بھی للکارا اور بیک وقت یورپ پر بھی حملہ کیا۔ جانتا ہوں انجام کار مجھے میدان چھوڑنا پڑے گا لیکن جتنا لڑ چکا ہوں اور جو زندگی کے باقی دنوں میں جدوجہد ہو گی اس میں کوئی حسرت نہیں رہی۔ میں نے بھی ان کی سانس بند کرنے کی کوشش کی لیکن اعتراف کرتا ہوں کہ وہ بھی بھرپور دلیری سے میرے مقابل آئے۔ خاموشی اور وقار سے لڑنے کے لیے اپنے دفاع کو مضبوط کرتے رہے۔ ساتھ ساتھ ویکسین نامی ٹینکوں، ڈائیگناسٹک کٹس نامی لڑاکا طیاروں اور دیگر دفاعی مشینری اور ریسرچ کے ذریعے انہوں نے مجھے اکثر مقامات پر کامیابی سے روکا۔ اپنے اپنے شہریوں کو میرے حملے سے بچانے کے لیے سب کو صابن، سینی ٹائزر اور دیگر ذاتی ہتھیاروں سے مسلح کر دیا۔



سچ کہتا ہوں بہت سی جگہوں پر جب میں جاتا تو مجھے کوئی کمزور پشتہ نہ ملتا جہاں سے میں دشمن پر حملہ آور ہو سکوں۔ میرے اطلاعات کے مشیروں نے بتایا ہے کہ ٹرمپ نے پانچ منٹ کے اندر اندر میرے خفیہ ٹھکانوں کا پتہ لگانے کے لیے ایک نیا ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے جو یکم اپریل سے میری فوج کے خلاف میدان میں لایا جائے گا۔ یہ بھی سنا ہے کہ یہ ہتھیار آپ کے ایک صوبے سندھ کے کسی جمیل نامی بندے نے بنایا ہے جو آج کل امریکہ ہوتا ہے۔ اور تو اور آپ کے دوست ایم بی ایس نے بھی تیل سے مالامال اپنا ملک بند کر دیا ہے تاکہ میں ادھر نہ جا سکوں۔

آپ کے ملک میں البتہ لگتا تھا کہ میں بہت جلد بڑی بڑی کامیابیاں سمیٹ پاؤں گا۔ پہلے پہل تو رائے ونڈ سے کراچی گورنر ہاؤس تک سے مجھے امید افزا خبریں ملیں۔ شروع میں میرے سپاہی ایران اور یورپ سے آپ کے شہریوں کی ملی بھگت سے آپ کی سرحدوں میں داخل ہوئے۔ پی ایس ایل میں بھی مجھے کافی رونق لگانے کا موقع مل سکتا تھا لیکن وہ تو خیر غیر ملکی بزدل کھلاڑیوں کی وجہ سے جلدی بند ہو گیا اور مجھے تھوڑی مایوسی ہوئی۔ تاہم عام شہریوں نے بھی بھرپور ساتھ دیا اور مجھے زبان حال سے خیر مقدمی پیغامات بھیجتے رہے۔ بازاروں اور میلوں میں اکٹھے ہو کر مجھے بلاتے رہے۔ لیکن سر اس کے باوجود آپ نے جو ہاتھ رکھا ہوا ہے اس سے میں بہت دل برداشتہ ہوا ہوں۔

مجھے غصہ ہی یہ تھا اس دنیا کے لوگوں پر کہ اپنے تکبر میں یہ مجھے کچھ سمجھتے تک نہ تھے۔ بے وقعت جرثومہ، نزلے کا وائرس، گندگی وغیرہ وغیرہ جیسے توہیں آمیز نام دیتے تھے۔ اس توہین پر مجھے خیال آیا کہ ان کھوکھلے اور گھمنڈی انسانوں کا دماغ درست کروں۔ جب انہوں نے میرا بھرپور حملہ دیکھا تو پھر انہیں میری قوت کا احساس ہوا۔ پھر وہ اکٹھے ہوئے۔ پھر انہوں نے متحد ہو کر دفاع کی کوشش کی۔ پھر انہوں نے پیسے لگائے۔ ان اقدامات سے یقینا مجھے پسپائی اختیار کرنا پڑ رہی ہے لیکن دل میں خوشی بھی ہے کہ اب انہیں پتہ چلا کہ میں اتنا بے وقعت جرثومہ بھی نہیں ہوں۔ یعنی شکست میں بھی اپنے پندار کی تسکین سے مجھے اطمینان نصیب ہوا۔

لیکن سر آپ نے تو مجھے اب تک بے وقعت جانا ہے۔ آج بھی کہا کہ یہ بزدل صرف بوڑھوں یا بچوں کو ہی ذرا تنگ کرتا ہے۔ حالانکہ آپ کے جواں بھی قرنطینوں میں منہ پر ماسک باندھے لیٹے ہیں۔ پھر جب باقیوں نے میرے خلاف فوجیں کھڑی کیں آپ نے مجھے بددعاؤں سے بھگانا چاہا۔ چین میں نرسوں اور ڈاکٹروں کے دستے میرے خلاف نکالے گئے آپ نے مجھے طعنے دے کر اور مجھے بزدل بزدل کہہ کر بھگانا چاہا۔ وہاں وبائی امراض کے ماہرین میرے مقابل آئے تو مجھے بھی لڑنے کا سواد آیا۔ یہاں آپ بچوں کو ٹائیگر کہہ کر مجھے دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔

یارا جی یہ کوئی طریقہ نہیں۔ جرثومہ ہی سہی لیکن نر بچہ ہوں۔ اتنی بے عزتی برداشت نہیں ہو سکتی۔ میں جا رہا ہوں۔ ہاں ایک دلیر جنگجو کی طرح پیٹھ پر وار کا قائل نہیں اس لیے وارننگ دے رہا ہوں کہ یہ آپ کی ساری دنیا احمق نہیں جو میرے ڈر سے دبکی ہوئی ہے۔ میں تو چلا جاؤں گا لیکن میرے جو سپاہی آپ کے شہریوں کے پھیپھڑوں میں گھس بیٹھیے بن گئے ہیں انہیں لائٹ نہ لینا۔ ورنہ پچھتاؤ گے

والسلام

آپ کا دشمن جاں

نوول کورونا المعروف کرونا وائرس