سلطان ظاہر الملک بیبرس

اُس دور کے لحاظ سے دنیا میں سب پہلے دنیا کی طاقتور اور ظالم و سفاک ھلاکو خان کی فوج کے آگے بند باندھنے والا اور منگولوں کو کھلے میدان میں پہلی بار شکست دینے والا اور اس وقت کے لوگوں کے دلوں سے منگولوں کا خوف ختم کرنے والا اور ھلاکو خان کے لشکر کے سپہ سالار قط بوغا کو جنگی قیدی بنا کر بعد میں اسکا سر کاٹ کر چوراھے پر لٹکانے والا مردِقلندر مجاھد مصر کا سلطان اور اسلامی لشکر کا سپہ سالار رکن الدین بیبرس تھا۔۔جو اک غلام تھا۔۔وہ غلام سے سپہ سالار اور سپہ سالار سے اس وقت کی دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور اسلامی سلطنت کا سلطان کیسے بنا یہ بہت لمبی داستاں ھے۔۔۔۔



جب اُس وقت ھر طرف منگول ھی منگول تھے۔۔مسلمانوں کا جینا مشکل تھا ھر جگہ سے ھلاکو کے لشکر تباھی مچا رھے تھے ۔۔ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رھے تھے۔سرعام عصمتیں اچھالی جا رھی تھیں۔۔ھر کوئ منگولوں سے خوفزدہ تھا۔۔مسلمان لشکر اور طاقتیں بکھر چُکی تھیں۔۔سمر قند بخارا بغداد شام حلب جوکہ مسلمانوں کی بڑی طاقتیں اور امید تھی ختم ھو چکے تھے۔سب پر ھلاکو خان کا قبضہ ھو چکا تھا اور صرف ھلاکو خان کا حکم چلتا تھا۔

اُس وقت مسلمانوں کی سب سے بڑی طاقت اور واحد اک امید تھی جو ابھی تک منگولوں سے بچی تھی وہ مصر کی سلطنت تھی اور اِدھر اُدھر سے منگولوں کے ستائے ھوئے لوگ مصر میں پناہ لے رھے تھے۔۔۔

لیکن اُدھر منگول لشکر اور ھلاکو خان کی بھی نظر مصر فتح کرنے کی تھی تا کہ مسلمانوں کی پوری طاقت ھی ختم ھو جائے۔۔۔ھلاکو خان نے اپنے ایلچی مصر میں بیجھے اس وقت مصر کا بادشاہ مظفر نام کا شخص تھا۔۔۔رکن الدین مصری فوج کا سپہ سالار تھا۔۔پورا دربار وزیر مشیر بادشاہ فوجی جرنیل سب منگولوں سے سہمے تھے۔۔۔اس وقت رکن الدین بیبرس نے مسلمانوں کے دلوں سے خوف نکالنے کیلئے سب منگول جو ایلچی بن کر آئے تھے۔۔اُنکا سر قلم کر کے مصر کے چوراھوں پر لٹکا دیا۔۔جس وجہ سے لوگوں کے دلوں سے کچھ خوف کم ھوا۔۔

رکن الدین بیبرس نے برکہ خان کے ساتھ اتحاد بنایا۔۔کیونکہ اس وقت برکہ خان کے پاس بھی اتنی طاقت نہیں تھی کہ کُھل کر ھلاکو خان کے لشکر کا مقابلہ کرے۔۔جب سلطان رکن الدین بیبرس نے کھلے میدانوں میں ھلاکو خان کے لشکر کو شکست فاش دی تو پوری دُنیا کے مسلمان سلطان رُکن الدین بیبرس اور برکہ خان کے جھنڈے تلے جمع ھونا شروع ھو گئے۔۔۔اور اس طرح برقائ خان بھی کھل کر ھلاکو کے سامنے آ کھڑا ھوا برکہ خان کے بتیجھے نوگائ نے ھلاکو خان کے لشکر کو قفقار کی پہاڑیوں میں شکست دی ۔۔
اس طرح ھلاکو خان کی قوت ختم ھو نا شروع ھوئ اور مسلمانوں کو ھلاکوخان کے ظلم سے نجات ملی۔۔۔
اور ان جنگوں میں ارتغل غازی بھی سلطان رکن الدین بیبرس اور برکہ خان کے جھنڈے کے نیچے مختلف معاذوں میں حصہ لیا اور جدوجہد کی۔۔۔۔۔۔۔