ورلڈ کپ 1992 سے میٹرک تک

پاکستان سے 10 ہزار 875 کلومیٹر دور ، کرکٹ کے اس گراونڈ میں 87 ہزار 182 تماشائی بیٹھے تھے۔ رات کے سوا دس بجے تھے۔مہینہ مارچ کا تھا اور دنیا کے اس حصے میں ان دنوں خزاں کا موسم۔ اسٹیڈیم میں چلنے والی ہلکی ہلکی ہوا نے موسم کو خوشگوار بنا دیا تھا۔میچ کا آخری اوور تھا اور ، اوور کی دوسری بال ۔ ہاتھ میں گیند تھامے باولر نے ممبرز اینڈ سے بھاگنا شروع کیا۔



رفتار مجتمع کی۔ امپائر کے پاس سے گزرا۔ اپنے مخصوص بالنگ ایکشن میں جمپ کی۔ اور ہاتھ سے گیند کو چھوڑ دیا۔ کریز پر موجود مخالف ٹیم کے گیارھویں کھلاڑی نے کریز سے باہر نکلتے ہوئے ایک زوردار ہٹ لگانے کی کوشش کی۔ گیند ہوا میں اوپر کی جانب گئی۔ مڈ آف پر کھڑے فیلڈر نے اپنی دائیں طرف بھاگنا شروع کیا تو ٹی وی کمنٹیٹر کے منہ سے جو جملے نکلے وہ مجھے آج 25 برس بھی یاد ہیں۔ ( دیٹس اپ ان دا ایئر،،، از گوئنگ آوٹ،،،دس کڈ بی دا وکٹری،،،پاکستان ونز دا ورلڈ کپ،،،ایٹی سیون تھاوزنڈ پیوپل،،، عمران خان از ویری ایکسائیٹڈ )۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ساجدہ، دل کے نہاں خانوں میں، پچپن کی یاد کی صورت، دور کہیں گم ہوچکی تھی اور لڑکپن اے حمید کی عنبر ، ناگ، ماریا۔۔۔ اشتیاق احمد کی انسپکٹر جمشید، انسپکٹر کامران مرزا اور شوکی سیریز کو دوسری محبوبہ جان کر، کسی دل پھینک عاشق کی مانند،،، ہاکی، کرکٹ اور فٹ بال میں تیسری محبوبہ ڈھونڈنے کی سعی حاصل میں مصروف تھا۔ اسی کی دہائی سے ابھی دل کا بہت کچھ سننا ، کہنا اور پھر لکھنا باقی ہے مگر کوئی تو وجہ ہوئی ہوگی کہ آج ، وقت کی سوئی نوے کی دہائی کے اوائل برسوں میں جا اٹکی ہے۔

یوں یہ بتانا شاید لازم ٹہرا کہ انمول یادوں کی ڈائری فیاضیاں کی دسویں قسط گزشتہ برس مارچ کے مہینےمیں لکھی گئی تھی۔ ٹھیک ایک برس بعد، ڈائری کی اگلی قسط نے یادوں کے دریچوں پر دستک دینا شروع کردی۔ گیارھویں قسط کے لئے ذہن بنا تو سماعتوں میں “دی ولڈ از کمنگ ڈاون ” کی خوبصورت اور دلفریب دھن نے رقص کرنا شروع کردیا۔ یہ 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ کا تھیم سانگ تھا جس کو سن کر ان دنوں میری عمر کے لڑکے بے اختیار جھومنے لگتے تھے۔

آج سے ٹھیک 28 برس پہلے 1992 کے اس کرکٹ ورلڈ کپ میں بہت کچھ پہلی دفعہ ہوا تھا۔ جیسے پہلی دفعہ کسی کرکٹ ورلڈ کپ کے لئے تھیم سانگ کا اجرا، جیسے پہلی دفعہ کسی کرکٹ ورلڈ کپ میں افریقہ کی کسی ٹیم ( جنوبی افریقہ ) کی شرکت، جیسے پہلی دفعہ کسی ورلڈ کپ میں ڈے اینڈ نائٹ میچز اور سب سے بڑھ کر پہلی دفعہ کسی کرکٹ ورلڈ کپ میں سفید کرکٹ بال اور ہر ملک کے لئے اپنی الگ الگ رنگ برنگی اور دیدہ زیب کرکٹ یونیفارم۔۔۔غرض 1992کا ورلڈ کپ ان دنوں ہمارے لئے ہیری پورٹر کے کسی نئے ناول، ومپی کڈ ڈائری کے کسی نئے ایڈیشن یا پھر آئی فون، پوڈ یا ٹیب کے کسی جدید ترین ماڈل سے بھی آگے کی کوئی چیز تھی۔

بینسن اینڈ ہیجز کرکٹ ورلڈکپ 1992 کے نام سے جانا جانے والا یہ ٹورنامنٹ پہلی اور آخری دفعہ لیگ سٹم کی بناید پر کھیلا گیا تھا یعنی ٹورنامنٹ میں شریک ہر ایک ٹیم ایکدوسرے کے مدمقابل آئی تھی۔ اس ورلڈ کپ میں پہلی دفعہ دنیا کی 9 کرکٹ ٹیموں نے شرکت کی جن میں آسڑیلیا، انگلیںڈ، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، پاکستان، بھارت، ویسٹ انڈیز، سری لنکا اور زمبابوے کی کرکٹ ٹیمیں شامل تھیں۔ یوں راونڈ رابن اسٹیج کے 36 میچز اور پھر دوسیمی فائنل اور ایک فائنل سمیت، ٹورنامنٹ میں کل 39 میچز کھیلے گئے تھے۔

میری سولہویں سالگرہ کے صرف تین دن بعد 22 فروری 1992 کو شروع ہونے والا یہ کرکٹ ورلڈ کپ 25 مارچ 1992 کو ختم ہوا تھا۔ میں ان دنوں دسویں جماعت کا طالب علم تھا اور یوں ہمارے میٹرک کے امتحانات اور کرکٹ ورلڈ کپ 1992 کے میچز، گویا ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر، سلامی دینے کے لئے ،دل کے چبوترے کی جانب بڑھتے چلے آئے تھے۔ مجھے آج بھی یاد ہے، میرے امتحانی گتے کی بیک سائیڈ پر، اوپری حصے میں، میڑک کے سالانہ امتحانات کی ڈیٹ شیٹ چسپاں تھی اور نچلی جانب کسی اخبار میں چھپنے والا ورلڈ کپ میچز کے شیڈول کا دیدہ ذیب کیلینڈر جس پر پاکستان کے میچز کو سرخ بیک گراونڈ کے ساتھ ہائی لائٹ کیا گیا تھا۔

اسکول لیبارٹیری کے انچارج اخلاق صاحب جانتے تھے کہ میٹرک سائنس کا یہ طالب علم، سائنس کے تینوں مضامین میں سے بیالوجی میں بہتر، فزکس میں قدرے بہتر جبکہ کیمسٹری میں بس گزارے لائق تھا۔ ان دنوں 100 نمبروں کے امتحانی پرچے میں 75 نمبر تھیوری کے جبکہ 25 نمبر پریکٹیکل کے ہو اکرتے تھے۔ میرا کیمسٹری کا تھیوری کا پیپر بہت ہی برا ہوا تھا جس میں مجھے بمشکل پا س ہونے کی موہوم سی امید تھی۔ کیمسٹری کے مضمون میں 100 میں سے قابل عزت مارکس حاصل کرنے کے لئے میں کیمسٹری کے پریکٹیکل پر پتہ نہیں کیوں تکیہ کئے بیٹھا تھا حالانکہ بالکل تھیوری ہی کے پیپر کی طرح ، میری، کیمسٹری کے پریکٹیکل کی تیاری بھی بس ایویں ہی تھی۔

21 مارچ 1992 کو ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان نیوزی لینڈ کے مد مقابل تھا۔ کیسمٹری کے پریکٹیکل کا امتحان دینے، اپنی باری پر لیبارٹری میں پہنچا تو ذہن میں میچ ہی چل رہا تھا۔ لیبارٹری انچارج اخلاق صاحب کے ساتھ والی سیٹ پر ایک سمارٹ سے نوجوان ممتحن براجمان تھے، پریکٹیکل کے بعد جن کا نام امجدصاحب معلوم ہوا تھا۔ امجد صاحب نے میرے سیٹ پر بیٹھنے کے بعد سب سے پہلے، کیمسٹری کی پریکٹیکل کاپی مانگی جو میں نے انہیں تھماد ی۔ دوستوں کے منت ترلے اور کچھ اپنی محنت سے بنائی کیمسٹری پریکٹیکل کی یہ کاپی امجد صاحب محترم نے اچھی طرح ورق گردانی کرنے کے بعد انتہائی بے دردی سے، بیچوں بیچ کے صفحات ہاتھ میں لیکر درمیان سے پھا ڑ ڈالی۔ اس طرح سے کاپی درمیان میں سے پھاڑ ڈالنا ان دنوں پریکٹیکل کا امتحان لینے والے ممتحن حضرات کا ایک خاص ہتھیار ہوا کرتا تھا تاکہ آئندہ برس کوئی اور طالب علم یہی پریکٹیکل کاپی، اپنی بتا کر ، نہ چیک کراسکے۔ اس وقت میری حالت دیکھنے کے لائق تھی۔

اگلے ہی لمحے انہوں نے پریکٹیکل کی کاپی سائیڈ پر رکھتے ہو ئے، ایک حیران کن سوال پوچھا!۔ کرکٹ کھیلتے ہو؟۔ میں نے گھبراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ بولے ، آج کے میچ میں کس کس بیٹسمین نے کیا کیا اسکور کیا؟ میں نے ہکلاتے ہوئے سب دہرا دیا۔ پھر بولے۔ ورلڈ کپ کون جیتے گا؟ ۔ میں نے پوری قوت مجمتع کی اور مکمل اعتماد سے بولا۔ اس بار ورلڈ کپ پاکستان ہی جیتے گا۔ انہوں نے غور سے میری آنکھوں میں دیکھا اور سر ہلا کر مجھے کمرہ امتحان سے باہر جانے کا اشارہ کردیا۔ میں ذہن میں کیمسٹری کا پریکٹیکل اور اس میں کامیابی اور ناکامی کے ملے جلے جذبات لے کر باہر آگیا۔

25 مارچ 1992 کو پاکستان میں موسم بہار کی خوشگوار شام تھی اور یہی کوئی پانچ بجے کا وقت ۔ ہزاروں میل دور ،میلبورن کرکٹ گراونڈ میں ،عمران خان کی گیند پر ،رمیز راجہ کے ،برطانوی بلے باز، رچرڈ النگ ورتھ کا کیچ پکڑنے سے پہلے ، پاکستان میں کروڑوں لوگ، 18 ویں روزے کی افطاری کی تیاری چھوڑ کر ، دم سادھے ٹی وی اسکرینز اور ریڈیو سیٹس پر آنکھیں اور کان لگائے بیٹھے تھے۔رمیز راجہ کے کیچ کے بعد جب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران خان نے جیت کی خوشی میں ہاتھ ہوا میں بلند کئے تو ٹینچ بھاٹہ میں ہمارے گھر کے صحن میں لگی وال کلاک پر سوا پانچ بج رہے تھے۔

ابو، امی اور ہم سب بہن بھائی مارے خوشی کے جھوم اٹھے تھے۔ اس دن افطاری اور اس کے بعد ادا کی گئی نماز مغرب کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔ عشا کی نماز اور پھر تراویح پڑھنے کے بعد رات گئے تک پاکستان کا ورلڈ کپ جینتنا ہی ہم سب دوستوں کی گفتگو کا موضوع تھا۔

تین ماہ بعد میٹر ک کے امتحانات کا نتیجہ آیا تو میں گزٹ میں رزلٹ دیکھنے آخری بس اسٹاپ پر واقع ارشد بک اسٹیشنرز پر جا پہنچا تھا۔ جتنی دیر میری رول نمبر سلپ ہاتھ میں پکڑے، دکاندار ، گزٹ پر میرا نتیجہ ڈھونڈ رہا تھا میرے دل کی دھڑکنوں کی ترتیب بالکل وہی تھی جو 25 مارچ 1992 کی شام ، ٹینچ بھاٹہ کے گھر میں بیٹھ کر میلبورن کرکٹ گراونڈ میں عمران خان کا آخری اوور دیکھتے وقت تھی۔

اسی اثنا میں دکاندار نے سر اوپر اٹھایا اور بولا۔ آپ فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوگئے ہیں۔ میری آنکھوں میں ستارے سے چمک اٹھے۔ دکاندار کے ہاتھ پر رزلٹ کی فیس رکھتے ہوئے میں نے اس کے عقب میں دیکھا تو دیوار پر لگی وال کلاک کی سوئیاں ٹھیک سوا پانچ بجا رہی تھیں۔ اور ہاں ! میٹرک امتحانات کی تفصیلی مارکس شیٹ ملی تو کیمسٹری کے پریکٹیکل میں میرے 25 میں سے 21 نمبر آئے تھے۔