مغلظات بکنے والوں کے نام

بات صرف اتنی ہے۔آپ دس بارہ اینکروں اور کالم نگاروں ہی کو صحافی سمجھتے ہیں،پہلےانھیں دودھ پلاتے،ان کے ساتھ کھٹا میٹھا کھاتے رہے ہو۔گویا تم ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے تھے۔آج تک انھیں ہی پوری پاکستانی صحافت سمجھتے رہے ہو اور اب انھیں ہی پورا میڈیا قرار دے کر تمام صحافیوں پر بلا امتیاز مغلظات بک رہے ہو۔

مگرہم آپ کو باور کرانا چاہتے ہیں ،صحافتی برادری ان میں سے بیشتر کو سرے سے صحافی ہی نہیں سمجھتی۔ وہ تو دہاڑی باز ہیں،تو پھر تمام صحافیوں پر تبّرے بازی کیوں؟ سوشل میڈیا پر کیوں مغلظات بک رہے ہیں آپ؟صحافی تو وہ رپورٹر ہے جو سارا دن خبر کی تلاش میں شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک خاک چھانتا ہے، پھر صحافی وہ ہے جو آٹھ آٹھ گھنٹے ڈیسک پر بیٹھتا ہے، رپورٹر کی لائی خبر کی نوک پلک سنوارتا اور اخبار یا ٹی وی سکرین کی زینت بناتا ہے۔ وہ جب اٹھتا ہے تو کمر خمیدہ ہوچکی ہوتی ہے۔ان میں کی اکثریت کو وقت پر تن خواہ بھی نہیں ملتی۔



سچ تو یہ ہے کہ میر شکیل الرحمان کے اداروں میں بھی گذشتہ کئی ماہ سے ہمارے صحافی بھائیوں کو بروقت تن خواہیں نہیں مل رہی ہیں۔خبریں اور نوائے وقت ایسے ادارے تو رہے ایک طرف۔اب جب تُم ، جی ہاں تُم کسی صحافی کو گالی بکنا چاہتے ہو تو اس کا نام لے کر بکو۔(کیا کریں اردو کا درست محاورہ گالی بکنا ہی ہے) اوراس پر دشنام طرازی کرو جس سے تمھیں کوئی تکلیف پہنچی ہے،جس نے کسی مالی منفعت کے لیے ایسے ہی تمھاری پگڑی اچھالی ہے ، جس نے کسی سیٹھ کے مفادات کا تحفظ کیا ہے ، جو ابن الوقت ہے اور ارباب اقتدار وسیاست کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوتا ہے۔

جس نے مدح سرائی کے فن کو بام عروج پر پہنچایا ہے،جو عام آدمی نہیں اشرافیہ کی نمایندگی کرتا ہے۔اگر کسی جاہل سے تمھارا پالا پڑا ہے تو اس میں تمھارا اپنا قصور ہے۔وہ اس لیے کہ تمھیں پاکستان کے صحافتی اداروں میں ایم اے، ایم ایس سی ، ایم فل ، ایم ایس،پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کے حاملین نظر نہیں آتے۔افسوس کہ تم کو میر سے صحبت نہیں رہی اور کسی نے تمھاری تربیت نہیں کی۔ تم ادھ کچرے کو ٹویٹر پر ، فیس بُک پر بلا تمیز سب پر دشنام طرازی کے لیے کھلا چھوڑ دیا ہے۔

تم اپنی نالائقیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے صحافیوں کے خلاف غلیظ ٹرینڈ بناتے اور بنواتے ہو،لگے رہو منے بھائی دام مل جائیں گے لیکن وہ وقت بھی یاد رکھو ، جب اس سب کا حساب دینا پڑے گا۔ انگلیوں کی پوروں کا بھی حساب دینا ہوگا جو تم کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کے کلیدی تختے پر گھساتے یا گھماتے ہو۔