دیہاڑی دار کو گاہک کہاں سے دو گے؟

1؛- لاک ڈاؤن نہیں کروں گا، 25 فیصد دیہاڑی دار کام نہ ملنے پر بھوک سے مر جائیں گے۔

2:- صاحب استطاعت لوگ اپنے طور پر گھروں تک محدود ہو جائیں۔

سنا ہے یہ 2 باتیں مرکزی نکات بیان کیے گئے ہیں دوسرے جراثیم کش خطاب میں۔

کامن سینس کو قرنطینے میں بھیج کر اس “حکمت عملی” پر ایمان لانے والوں سے پوچھنا ہے:



⁦✔️⁩ کہ اگر 75 فیصد صاحب استطاعت لوگ درست فیصلہ کرتے ہوئے اپنے گھروں تک محدود ہو گئے تو چھلی بیچنے والے، بوٹ پالش والے، بیلچہ کرنڈی والے، سفیدی کرنے والے، چھان بورا اکٹھا کرنے والے دیہاڑی داروں کا گاہک کون ہو گا؟

⁦✔️⁩ کیا آئسولیشن میں جانے والے 75 فیصد ان 25 فیصد کو گھر بلائیں گے؟

⁦✔️⁩ کیا دیہاڑی دار ایسی ناگزیر خدمات فراہم کرتے ہیں جنہیں خریدنے کے لیے وائرس کے ڈر کے باوجود لوگ باہر نکلیں گے؟

⁦✔️⁩ نہیں معلوم تو خود تصور کریں کہ آپ صاحب استطاعت ہیں اور کرونے کے ڈر سے گھر بیٹھ گئے ہیں تو اس “فرصت” کو آپ پشاور موڑ سے پینٹ والے چار مزدور گھر لا کر سفیدی کرانے میں استعمال کریں گے؟

⁦✔️⁩ کیا بنی گالے کے جن ان دیہاڑی داروں سے خریداری کریں گے اور انہیں مزدوری دیں گے؟ خود تو یہ ایک دوسرے سے کچھ خریدنے جوگے ہوں گے نہیں، بس “بارٹر سسٹم” کے تحت ایک دوسرے کو کرونا منتقل کرنے کے خطرے کی زد میں رہیں گے۔

خدارا مہاتما کو سمجھائیں کہ دنیا بھر کے تجربات سامنے ہیں۔ لاک ڈاؤن نہیں کرو گے تو وائرس کے پھیل جانے کی صورت میں خدانخواستہ ایس صورت حال بن سکتی ہے جس میں تمہارا نروس بریک ڈاؤن ہو جائے گا۔

دنیا بھر میں پھیلے اس خوف کے عالم میں لاک ڈاؤن نہ کرنے سے بھی معیشت میں کوئی حیات بخش بہتری نہیں آنی۔ ابھی لاک ڈاؤن نہیں ہوا لیکن شہروں میں سرگرمی واضح طور پر کم ہو گئی ہے۔

درست کہ ہم چین نہیں لیکن ہم اٹلی بھی تو نہیں۔ اٹلی میں گھر بیٹھے مزدوروں کی کفالت ہو رہی ہے جن میں پاکستانی تارکین وطن بھی ہیں۔ تم ان کی کفالت سے گھبرا رہے ہو جو ابھی صحت مند ہیں۔ کل بیمار پڑ گئے تو کیسے ان کو سنبھالو گے؟

جیئے مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی جو اپنی بساط بھر ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ جیئے الخدمت فاؤنڈیشن جس کے رضاکار ملک بھر میں چیلنج کے مقابلے میں پاکستانیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جئیں وہ ان گنت پاکستانی جو انفرادی طور پر خیر کے اس کام میں جتے ہوئے ہیں۔ اور جئیں وہ ان گنت کمیونٹی اور ملکی سطح کی تنظیمیں جو اپنے اپنے دائرہ کار میں مصروف کار ہیں۔

شرم سے ڈوب مریں وہ تاجر جنہوں نے دوائیں، ماسک، سینی ٹائزر اور دیگر اشیا دخیرہ کیں

شرم سے ڈوب مریں وہ اہلکار اور حکام جنہوں نے معلومات چھپائیں اور صورت حال کی درست عکاسی نہیں کی

شرم سے ڈوب مریں مذہبی جذبات سے کھیلنے والے جعلی متقی جو سستے جذبات ابھار کر آئسولیشن کی حکومتی اپیلوں کے خلاف ماحول بنا رہے ہیں

شرم سے ڈوب مریں وہ حکمران جن کی لاف زنی اور بڑھک بازی ختم نہیں ہوتی لیکن اجتماعی بقا کی اس جنگ میں ایک اہم اقدام لاگو نہیں کروا سکتی

اور شرم سے ڈوب مریں وہ گیدڑ مزاج “لیڈر” جو پوری قوم کو گیدڑ بنانے پر تلے ہوئے ہیں

حل صرف اس وقت ناداروں اور معاشی کمزور طبقات کی کفالت کرنے اور ملک بند کرنے میں ہے۔ خدا کی قسم یہ قوم اس کفالت کو تیار ہے، کر رہی ہے اور کرے گی۔ اس قوم کو ناکام کیا تو گیدڑ مزاج کرے گا