کرونا : انفارمیشن اور کمیونیکیشن نہایت اہم

اب تک کے واقعات ظاہر کرتے ہی‍ں کہ کرونا کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں وائرس کی موجودگی کی انفارمیشن اور اس کی کمیونیکیشن نہایت اہم ہیں. حکومتوں کو جیسے جیسے وائرس کے شکار افراد کا پتہ چلتا جارہا ہے، انہیں چاہئیے کہ وہ یہ معلومات کسی لائیو نقشے کے ذریعے سے عوام تک بھی پہنچاتی رہیں. اب تک ہمیں صرف یہ معلوم کہ پنجاب میں اتنے کیسز ہیں یا سندھ میں اتنے.



زیادہ سے زیادہ شہروں کی سطح تک کی تعداد بتائی جارہی ہے. اگر محلّوں کی سطح تک کی مصدقہ انفارمیشن لوگوں تک پہنچائی جائے تو انہیں اپنی نقل و حرکت محدود کرنے کا فیصلہ لینے میں آسانی ہوگی. مثلاً اسلام آباد کی انتظامیہ اگر ایک لائیو نقشے میں مصدقہ مریضوں، مشتبہ مریضوں اور ان کی ٹریول ہسٹری کی بنا پر وائرس کی جیو میپنگ کردے تو مجھے یہ فیصلہ لینے میں آسانی ہوگی کہ آیا میں ایف ٹین مرکز میں واقع اسپتال جاؤں یا نہیں.

اس نقشے کو مسلسل اپڈیٹ کیا جاتا رہے. ہر سیکٹر/محلّہ جب قرنطینہ مدّت پوری کرلے تو اسے کلئیر قرار دے دیا جائے تاوقتیکہ وہاں دوبارہ کسی فرد کو مرض لاحق ہوجائے. انتظامیہ کے پاس یہ تمام معلومات موجود ہیں. اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کے مطابق کسی مریض کی شناخت پر اس کے حالیہ میل جول والوں کو بھی ٹریک اور ٹیسٹ کیا جارہا ہے. اس طرح کے نقشے شہر، صوبے اور ملکی سطح پر بنائے جاسکتے ہیں. اس طرح سے لوگ اپنے ارد گرد خطرے کی سنگینی کو بہتر محسوس کرسکیں گے اور گھروں سے نکلنے و میل جول کے سلسلے میں زیادہ محتاط ہوجائیں گے.

وائرس کی موجودگی کے ساتھ ساتھ اس نقشے پر اسپتالوں میں دستیاب جگہ، اور قرنطینہ مراکز کی معلومات بھی فراہم کی جاسکتی ہیں. اگر ہمارے ہاں مریضوں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ جاتی ہے تو یہ معلومات بھی بہت اہم ہوں گی. موجودہ حکومت ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے ہمیشہ خاصی پرجوش رہی ہے اور اس سلسلے میں گوگل سے بھی ایک صاحبہ بلائی گئی ہیں.

ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا یہی وقت ہے. اگر کوئی شخص یہ بات اربابِ اختیار تک پہنچانے والا ہو تو اس منصوبے کے تفصیلی بلیو پرنٹس فراہم کیے جاسکتے ہی‍ں. مسئلہ یہ ہے کہ مریضوں کی اس قدر زیادہ اور مصدقہ تفصیلات صرف حکومت کے پاس ہیں، اس لیے ان کی مدد کے بغیر اس منصوبے پر عملدرآمد ممکن نہیں ہے.

نوٹ: مریضوں کی پرائیویسی کے تحفظ کی خاطر اس مجوزہ نقشے کو علاقوں کی سطح پر بنایا جانا چاہئیے. ان کے رہایشی پتوں کو میپ نہ کیا جائے.