کرونا.. کب .. کہاں.. کیسے؟

فان زنگ مسلم ایسوسی ایشن، نہا چانگ، ویتنام کے چیئرمین جناب استاد حسینی حال ہی میں ملائشیا میں ہونے والے ایک تبلیغی اجتماع میں گئے تھے۔ وہاں سے واپس آ کے وہ کچھ وقت اپنے گھر گزار کے ویتنام کی ایک اور مسجد میں سہ روزہ لگانے چلے گئے۔ تیسرے دن جب بخار چڑھا اور جسم میں درد شروع ہوا تو اسپتال تشریف لے گئے۔ پتہ چلا استاد حسینی صاحب کو کرونا لاحق ہو گیا ہے۔



استاد حسینی صاحب نے ویتنام کی عوام کے لئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے : ”مجھے معاف کر دیجیئے۔ میری وجہ سے میرے پورے گاؤں کو لاک ڈاون کر دیا گیا ہے۔ علاقے کی دو مسجدوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ مجھے معافی مل جائے گی“۔

استاد حسینی جس تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے گئے تھے، وہاں ان کے علاوہ سولہ ہزار اور مسلمان بھی تھے جن میں سے ساڑھے چودہ ہزار ملائشین اور ڈیڑھ ہزار مسلمان دوسرے ملکوں سے آئے تھے۔ ملائشیا میں اب تک 1306 لوگوں میں کرونا پایا گیا ہے۔ ان میں سے ساٹھ فیصد یعنی سات سو سے زیادہ لوگوں کو کرونا اسی اجتماع سے لگا ہے۔

اس تبلیغی اجتماع میں تقریباً تیس ملکوں کے مسلمانوں نے شرکت کی تھی۔ اجتماع کے دوران وہ اکٹھے برتنوں میں کھانا کھاتے رہے اور اجتماع والی مسجد اور اس کے گرد لگے خیموں میں سوتے رہے۔ تین ہفتے قبل جب یہ چار روزہ اجتماع ہوا تو کرونا وائرس چین میں تباہی پھیلانے کے بعد دنیا میں پھیل رہا تھا۔ دنیا بھر کے ممالک نے کرونا کے سدباب کے لئے حفاظتی اقدامات اٹھانا شروع کر دیے تھے لیکن اجتماع کے دوران فاصلاتی میل جول (سوشل ڈسٹینسنگ) کا بالکل دھیان نہیں رکھا گیا اور نہ ہی ماسک وغیرہ کا استعمال کیا گیا۔

اگرچہ بہت سے کرونا کے مریضوں کا تعلق اس تبلیغی اجتماع سے جڑ چکا ہے، بہت سے لوگ جنہوں نے اس اجتماع میں شرکت کی، ابھی بھی کرونا سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی کرونا ورونا سے نہیں ڈرتے۔ وہ صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔ ملائشیا کی نائب وزیر برائے خواتین و خاندانی بہبود، محترمہ سیتی ذیلہ محمد یوسف کا کہنا ہے کہ کرونا سے مرنے کا چانس ایک فیصد ہے جبکہ کسی بھی وقت مرجانے کا چانس سو فیصد ہے۔

چین کے بعد جس ملک میں کرونا وائرس نے بہت زیادہ تباہی مچائی تھی وہ جنوبی کوریا تھا۔ وہاں کرونا وائرس عیسائی مذہب کے شن چیونجی فرقے کے پیروکاروں سے پھیلنا شروع ہوا تھا۔ شن چیونجی فرقے کے بانی لی مان ہی کا دعوی تھا کہ ان کے پیروکار کبھی کرونا وائرس سے بیمار نہیں ہو سکتے۔ لیکن جب لی مان ہی کے مرید بیمار ہوئے اور انہوں نے بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی بیمار کیا تو سیؤل کے میئر نے لی مان ہی کے خلاف بیماری پھیلانے کا مقدمہ کر دیا کیونکہ اس کے جاہلانہ رویے کی وجہ سے کوریا کے دارالحکومت کا طبی خرچ بے پناہ بڑھ گیا تھا۔ میئر کا کہنا تھا کہ لی مان ہی مذہبی پیشوا نہیں بلکہ ایک فراڈیا ہے۔ رانگ نمبر ہے۔ آخر کار لی مان ہی نے پوری کورین قوم سے معافی مانگی۔

کوریا کے بعد جس ملک میں کرونا وائرس جنگل کی آگ کی طرح پھیلا، ہمارا ہمسایہ ملک ایران تھا۔ ایران میں کرونا کا پہلا مریض 19 فروری کو مذہبی لحاظ سے انتہائی مقدس شہر قم میں سامنے آیا، جو ایران کا ساتواں بڑا شہر ہے۔ ایران اور دنیا بھر سے کم از کم دو کروڑ اہل تشیع مسلمان زیارات کے لئے قم کا سفر کرتے ہیں۔ یہ شہر شیعہ مکتبہ فکر کا سب سے بڑا علمی مرکز بھی ہے۔ ساری دنیا سے اہل تشیع مسلمان حصول علم کے لئے اس شہر کا سفر کرتے ہیں۔ پاکستان میں کرونا وائرس کے ابتدائی مریضوں کا تعلق بھی ایران سے آنے والے زائرین سے ہی جوڑا جاتا ہے۔

اگرچہ کرونا کا علاج ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا لیکن وائرس سے پھیلنے والی بیماریوں کے ماہرین کا اجماع ہے کہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کا بہترین طریقہ کار فاصلاتی میل جول (سوشل ڈسٹینسنگ) ہے یعنی جب تک وائرس کا خطرہ ٹل نہیں جاتا، بڑے اجتماعات سے احتراز کیا جائے۔ دوسرے لوگوں سے کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ رکھا جائے۔ بغیر کسی وجہ کے گھر سے نہ نکلا جائے۔

جب کوریا، ایران اور ملائشیا کی مثالیں سامنے آئیں جہاں مذہبی اجتماع وائرس کو پھیلانے کا سبب بنے تھے، تو بہت سے ممالک نے مذہبی اجتماعات اور گروہوں کی شکل میں ادا کی جانے والی عبادات پر پابندی لگا دی۔ ان میں سیکولر ممالک بھی تھے اور خالصتا ”مذہبی ممالک بھی بشمول برادر اسلامی ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے۔ سعودی عرب میں مساجد بند کر دی گئی ہیں اور اذان میں مسلمانوں کو“ آئیے نماز کی طرف ”کی بجائے “گھر پہ ہی نماز ادا کیجئے ”کہا جا رہا ہے۔

پاکستان میں بھی وائرس کے پھیل جانے کے خطرے کے پیش نظر علماء کرام کو ترغیب دی گئی کہ نماز گھر پہ ہی ادا کر لی جائے خصوصاً جمعے کے دن بڑے اجتماعات سے گریز کیا جائے۔ اسی بات کے پیش نظر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی صاحب نے، جو مذہب اسلام کا بہت گہرا مطالعہ رکھتے ہیں، 20 مارچ بروز جمعہ، مسجد میں جمعہ پڑھنے کی بجائے گھر پہ ہی ظہر کی نماز ادا کی اور ٹویٹر پہ اس بات کا اعلان بھی کیا۔

گزشتہ جمعے کو تو علماء کرام نے حکومت کی درخواست پہ عمل نہیں کیا لیکن آئندہ جمعے کے لئے بالخصوص اور بقیہ نمازوں کے لئے بالعموم علماء سے دست بستہ گزارش ہے کہ وہ مسلمانوں کو گھر پہ ہی نماز پڑھنے کی ترغیب دیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو کرونا وائرس جیسی مہلک وبائی مرض سے بچا جا سکے۔ یقیناً اللہ پاک کی ذات خطائیں بخشنے والی اور رحم کرنے والی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ میاں فرماتے ہیں کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی، گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔