بیت المقدس کی سرزمین آج بھی صلاح الدین ایوبی کا راستہ دیکھ رہی ہے ۔

20 ستمبر 1187

صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا تھا جو صرف 12 دن بعد فتح پہ ختم کیا گیا تھا

20 ستمبر 1187 کو صلاح الدین ایوبی نے جنگ حطین میں کامیابی حاصل کرنے کے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا اور 2 اکتوبر1187 تک جاری محاصرے کے بعد شہر فتح کرلیا۔ فتح بیت المقدس کے بعد سلطان نے کسی قسم کا خون خرابا نہیں کیا جس کا مظاہرہ پہلی صلیبی جنگ کے موقع پر صلیبیوں نے کیا تھا۔


4 جولائی 1187ء کو جنگ حطین میں زبردست شکست کے بعد عیسائیوں کی مملکت یروشلم کمزور پڑگئی اور کئی اہم شخصیات صلاح الدین کی قید میں چلی گئی۔ ستمبر کے وسط میں صلاح الدین نے عکہ، نابلوس، یافہ، سیدون، بیروت اور دیگر شہر فتح کرلئے۔ جنگ کے شکست خوردہ عیسائی صور پہنچ گئے۔ جہاں حطین کے معرکے کے شکست خوردہ کئی عیسائی جنگجو بھی تھے جن میں بیلین ابیلنی بھی شامل تھا اس نے اپنے اہل خانہ کو واپس لانے کے لئے صلاح الدین سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے بیت المقدس جانے کی اجازت دے۔ صلاح الدین نے اس شرط پر اجازت دی کہ وہ ایک دن سے زیادہ قیام نہیں کرے گا لیکن جب وہ وہاں پہنچا تو ملکہ سبلیا نے اس سے شہر کا دفاع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فوج کی کمان سنبھالنے کی ہدایت کی۔ بیلین نے ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے جنگ کی تیاریاں شروع کردیں اور شہر میں اشیائے خورد و نوش اور اسلحے کا ذخیرہ جمع کرنا شروع کردیا۔

صلاح الدین کی زیر قیادت شام و مصر کی افواج صور کے ناکام محاصرے کے بعد 20 ستمبر 1187ء کو بیت المقدس پہنچ گئیں۔

صلاح الدین اور بیلین کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ صلاح الدین بغیر خون خرابے کے شہر حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن شہر کے عیسائیوں نے بغیر لڑے مقدس شہر چھوڑنے سے انکار کردیا اور دھمکی دی کہ وہ پرامن طور پر شہر دشمن کے حوالے کرنے پر اسے تباہ کرنے اور خود مرجانے کو ترجیح دیں گے۔

مذاکرات میں ناکامی پر صلاح الدین نے شہر کا محاصرہ کرلیا۔ صلاح الدین کی افواج برج داؤد اور باب دمشق کے سامنے کھڑی ہوگئی اور تیر اندازوں نے حملے کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ منجنیقوں کے ذریعے شہر پر سنگ باری کی گئی۔ صلاح الدین کی افواج نے کئی مرتبہ دیواریں توڑنے کی کوشش کی لیکن عیسائیوں نے اسے ناکام بنادیا۔ 6 روزہ محاصرے کے بعد صلاح الدین نے افواج کو شہر کے دوسرے حصے کی جانب منتقل کردیا اور حملہ جبل زیتون کی جانب سے کیا جانے لگا۔ 29 ستمبر کو مسلم افواج شہر کی فصیل کا ایک حصہ گرانے میں کامیاب ہوگئیں تاہم وہ فوری طور پر شہر میں داخل نہ ہوئیں اور دشمن کی عسکری قوت کو ختم کرتی رہیں۔

ستمبر 1187 کے اختتام پر بیلین نے صلاح الدین سے مذاکرات کے دوران ہتھیار ڈال دیئے۔ صلاح الدین نے مردوں کے لئے 20، عورتوں کے لئے 10 اور بچوں کے لئے 5 اشرفیوں کا فدیہ طلب کیا اور جو لوگ فدیہ نہیں دے سکے ان کا فدیہ سلطان صلاح الدین نے خود ادا کیا یا انہیں غلام بنالیا گیا۔ بعد ازاں سلطان نے فدیہ کی رقم مزید کم کرکے مردوں کے لئے 10، عورتوں کے لئے 5 اور بچوں کے لئے صرف ایک اشرفی مقرر کردی۔ بیلین نے اس پر بھی اعتراض کیا کہ یہ بھی بہت زیادہ ہے جس پر سلطان نے صرف 30 ہزار اشرفیوں کے بدلے تمام عیسائیوں کو چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

2 اکتوبر 1187 کو بیلین نے برج داؤد کی چابیاں سلطان کے حوالے کردیں۔ اس موقع پر اعلان کیاگیا کہ تمام عیسائیوں کو فدیہ کی ادائیگی کے لئے ایک ماہ کا وقت دیا جارہا ہے جس میں 50 دن تک کی توسیع کی گئی۔

صلاح الدین ایک رعایا پرور اور رحم دل بادشاہ تھا اس نے غلام بنائے گئے عیسائیوں کا فدیہ خود ادا کرکے انہیں رہا کردیا۔

فتح بیت المقدس کے بعد صلاح الدین کا سب سے بڑا کارنامہ یہی تھا کہ اس نے عیسائیوں سے مسلمانوں کے اس قتل عام کا بدلہ نہیں لیا جو انہوں نے 1099ء میں بیت المقدس کے فتح کے بعد کیا تھا بلکہ اس نے انہیں حد درجہ رعایت دی۔

فتح کے بعد سلطان نے مسجد اقصی کو عرق گلاب سے دھلوایا۔

فتح بیت المقدس کی خبر یورپ کے عیسائیوں پر بجلی بن کر گری جس کے جواب میں انہوں نے تیسری صلیبی جنگ کا اعلان کردیا اور انگلینڈ کے رچرڈ شیر دل، فرانس کے فلپ آگسٹس اور جرمنی کے فریڈرک باربروسا کی زیر قیادت ایک عظیم مسیحی لشکر بیت المقدس پر چڑھائی کے لئے روانہ ہوا۔

تیسری صلیبی جنگ میں یورپ کے عیسائیوں کو ناکامی ہوئی۔ یہ جنگ 1189ء سے 1192ء تک جاری رہی۔

بیت المقدس پر تقربیاً 761 سال مسلسل مسلمانوں کا قبضہ رہا۔ تاآنکہ 14 مئی 1948ء میں امریکہ ، برطانیہ ، فرانس کی سازش سے فلسطین کے علاقہ میں یہودی سلطنت قائم کی گئی اور بیت المقدس کا نصف حصہ یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں 1 اگست 1967 کو بیت المقدس پر اسرائیلیوں نے قبضہ کر لیا ۔