انگریزی کے ماہرین

جب انگریزی کا ایک پاکستانی ماہر کچھ لکھ لیتا ہے تو اس کے جانے کے بعد انگریزی کا دوسرا ماہر بتاتا ہے کہ اس نے کہاں کہاں کیا کیا غلطی کی ہے۔ کچھ ایسا ہی تجزیہ دوسرے ماہر کی تحریر کا پہلے ماہر کے ہاتھوں ہوتا ہے۔


ساری زندگی یہی دیکھا جس بھی کالج میں گیا اس کے پرنسپل کو عام طور پر ایک یا کبھی کبھار دو یا اس سے زیادہ ماہرین انگریزی کے ہاتھوں میں یرغمال دیکھا۔ سرکاری خطوط لکھوانے، جواب طلبی کے نوٹس لکھوانے یا ان کا جواب دینے، انتباہی خطوط لکھوانے اور پھر مختلف قسم کی انکوائریوں کی رپورٹ لکھوانے کے لئے چار و ناچار انگریزی کے پروفیسروں کی مدد کی ضرورت ہڑتی تھی۔ میری نوکری کے ابتدائی سالوں میں زیادہ تر پرنسپل حضرات اردو، پنجابی یا فارسی کے پروفیسر ہوتے تھے۔ ان بیچاروں کا ہاتھ انگریزی کی طرف سے بہت تنگ ہوتا تھا۔ انگریزی کے پروفیسروں پر انحصار کرنا ان کی مجبوری ہوتا تھا۔ بعد کے سالوں میں فزکس، کیمسٹری، ریاضی وغیرہ کے پروفیسروں کو بھی پرنسپل کے طور پر کام کرتے دیکھا مگر انگریزی کے معاملے میں ان کا ہاتھ بھی تنگ ہی پایا، نتیجتاً انگریزی کے پروفیسروں ہر ان کا انحصار بھی برقرار رہتا۔

میں سرکار دربار میں جب کبھی حاضری دیتا اور پرنسپل صاحبان کو انگریزی خطوط کے ساتھ دست و گریباں دیکھتا تو ان سے ہمدردی کے ساتھ ساتھ افسوس بھی ہوتا۔ کیسے کیسے قابل اساتذہ اس معاملے میں بے بس نظر آتے۔

میں تب بھی سوچتا تھا اب بھی سوچتا ہوں کہ اگر سرکاری شعبے میں سارے تحریری معاملات اردو میں سر انجام دیے جاتے تو کس قدر وقت اور وسائل کی بچت ہوتی۔ وہ سارا وقت جو انگریزی کی گتھیاں سلجھانے میں، خطوط کی نوک پلک سنوارنے میں لگتا وہ تعلیمی معاملات کو سدھارنے میں لگتا۔
آج ایک دوست نے بہت پیاری بات کی کہ وہ وقت جب ہمیں پنکھے اور استری کی بناوٹ اور کام کے بارے میں سیکھنا چاہئے ہم یہ سیکھنے میں گزار دیتے ہیں کہ پنکھے کو فین اور استری کو آئرن کہتے ہیں۔

ساری پاکستانی قوم تعلیم کے نام پر انہی بھول بھلیوں میں گھومتی رہتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم روز بروز پستیوں میں ہی اترتے جا رہے ہیں۔ ہمارا کوئی قدم ترقی اور خوشحالی کی طرف نہیں اٹھتا۔