تین ماہ بعد کمرہ کھلا تو انتہاء کام کرچکی تھی

تین ماہ بعد کمرہ کھلا تو انتہاء کام کرچکی تھی

وہ میجر جرنل تھا! ان سروس ہٹو بچو تھی! تین بیٹے، تینوں سونے کی چمپ منہ میں لیے چلتے پھرتے! وقت گزرا ! کاش یہ انتہاء نہ ہوتی ! خاموشی سے پہچ گئی میجر جرنل کے ساتھ (ر) لگ گیا! عہدے کی انتہاء ہوئی اور اب زندگی کی انتہاء کی طرف سفر چل پڑا!


بیٹوں نے باپ کے عہدے سے خوب لطف اٹھایا! مجھے کیا ! میرا باپ میجر جنرل ہے! خود کام بنیں گئے اور بنے اور ایک کال سب کچھ قدموں میں!

وہ دن آگیا جب بیٹے یہ بھول گئے کہ یہ وہی باپ ہے جسکے نام وعہد سے لوگ ہمیں سر سر کہتے تھے!! اب تو اسکی کمزوری دیکھی نہیں جارہی !

ایک بیٹے نے کہا کہ ابا کی جائیداد ومال کی تقسیم کرتے ہیں ناجانے کب مر جائے!! اب تو شرم آتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے! دوست آتے ہیں ! سامنے یہ بوڈھا آجاتا !

چلو ایک نوکر پکا انکے ساتھ رہنے کے لیے رکھ لیتے ہیں! بیس ہزار ماہانہ دینگے! نوکر آگیا اور اسی گھر کے تے خانہ میں کمرہ میں باپ کو گدا لگا دیا اور نوکر کو کہا کہ اسکا پورا خیال رکھنا اچھا!! شکایت نہ ملے !

شادیاں ہوئیں! ایک گرمی کی چھٹیاں گزارنے فرانس چلا گیا اور دوسرا لندن اور تیسرا پیرس!! اور اپنا تعارف میجر جنرل کے بیٹے ہونے سے شروع کرتے .

تین ماہ کے بعد واپسی ہوگی آپ بابا کا پورا خیال رکھنا اور وقت پر کھانا دینا اچھا؟! جی اچھا صاحب جی !

سب چلے گئے وہ باپ اکیلا گھر کے تے خانہ میں سانس لیتا نہ چل سکتا نہ خود سے کچھ مانگ سکتا! نوکر کا ایکسیڈنٹ ہوا جب وہ بوڈھے کے لیے بریڈ لینا گیا تھا!!! بس ایک وہی کمرہ جسکی چابیاں نوکر کے پاس تھی! ساری گھر بند!! اب بوڈھا بھی کمرے میں بند!

تین ماہ بعد کمرہ کھلا تو انتہاء کام کرچکی تھی.