یوم پاکستان یا یوم جمہوریہ

23 مارچ 56ء کو پاکستان کا پہلا آئین بنا اور اس دن کی مناسبت سے یہ دن 3 سال تک یوم جمہوریہ کے طور پر منایا گیا جسے ڈیکٹیٹر جنرل ایوب خان نے آئین پاکستان کو معطل کر کے مارشل لاء لگانے کے بعد 1959ء میں یوم پاکستان قرار دیا گیا چونکہ اس وقت ملک میں کوئی آئین نافذ نہیں تھا جس کی یاد میں یوم جمہوریہ منایا جاتا، چونکہ اب ملک میں پچھلے 12 سال سے تسلسل کی ساتھ جمہوریت چل رہی ہے تو بہتر ہے اب تیئس مارچ کو یوم جمہوریہ کے طور پر منانے کا آغاز کیا جائے اور اس دن دنیا بھر میں حکومتی اور عوامئ سطح پر پاکستان کی جمہوریت کو مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا جائے، جنگی جہازوں اور ٹینکوں شینکوں کی نمائش صرف (6 ستمبر) یوم دفاع یا (7 ستمبر) یوم فضائیہ کے لیے مختص رکھی جائے۔

23 مارچ کو ہم یوم قرارداد پاکستان مناتے ہیں جو اصل میں 22 مارچ کو مسلم لیگ کے لاہور جلسے میں پیش ہوئی اور 24 کو منظور ہوئی..پاکستان بننے سے پہلے اور 1956 تک ایسا کوئی دن نا منایا گی۔. 13 مارچ 56ء کو پاکستان کا پہلا آئیں نافذ ہوا اسکندر مرزا گورنر جنرل سے صدر بن گئے – 57ء اور 58ء کی 23 مارچوں کو اسے یوم جمہوریہ پاکستان کے طور منایا گیا – اکتوبر 58ء میں مارشل لا لگ گیا اور جمہوریت کا خاتمہ ہوا۔ اب 59ء کی تئیس مارچ کو پاکستان اس وقت جمہوری ملک نہیں تھا یوم جمہوریہ نہیں منایا جا سکتا تھا..اور جس آئیں کے نفاذ کے دن کے لیے مناتے ہیں وہ آئیں ہی ختم ہو گیا تھا۔ اسی وجہ سے اس دن کو یوم قرارداد پاکستان کے طور منایا جانے لگا۔