کیا آپ جانتے ہیں؟

جنگل سے ریچھ کا بچہ لینے سے پہلے ماں کو مار دیا جاتا ہے کیونکہ زندہ حالت میں تو وہ بچے کو لے جانے نہیں دیتی۔یو ں یہ خبیث نا صرف ان دو ریچھوں کا نقصان کرتے ہیں بلکہ نسل کی بڑھو تری بھی رُک جاتی ہے۔اور ریچھ پہلے ہی نا پیدی کے خطرات سے دوچار ہے!!!
کیا اب بھی آپ ریچھ کا تماشہ دیکھیں گے؟اب بھی آپ ان ظالموں کو غریب مسکین سمجھ کر ان کی مالی مدد کرو گے؟


ٹریننگ شروع کرنے سے پہلے یا تو ان کے دانت ہتھوڑا مار کر نکال دئیے جاتے ہیں یا رگڑ دئیے جاتے ہیں۔ناخن بھی یا تو گِھسا کر ختم کر دئیے یا کھینچ کر نکال دئیے جاتے ہیں۔تاکہ ان بزدلوں کو ریچھ سےکوئی خطرہ نا ہو۔

پھر ان کی ناک میں سوراخ کرکے لوہے کی نتھ ڈالی جاتی ہے۔اور یہ سب ٹریننگ شروع ہونے سے پہلے۔

ڈانس سکھانے کے لئے ریچھ کو دھات کی گرم پلیٹوں/چادر کے اوپر کھڑا کیا جاتا ہے۔جس کی تکلیف کے باعث یہ بیچارے مجبور ہو کر سیدھے کھڑے ہوتے ہیں۔کھڑے ہوکر درد/جلن کے ماریے یہ پچھلے پاؤں میں سے کبھی ایک اٹھاتے ہیں کبھی دوسرا۔ایک سائڈ سے کود کر دوسری کی طرف جاتے ہیں جو بظاہر دیکھنے میں ڈانس ہی لگتا ہے۔

یہ عمل کئی بار میوزک اور مداری کی آواز کے ساتھ دھرایا جاتا ہے اور جب ریچھ یہ غیر فطری عمل سیکھ جاتا ہےتو گرم پلیٹ وغیرہ کی ضرورت نہیں رہتی۔نکیل کا کھینچا جانا ہی کافی ہوتا ہے۔ریچھ کے لئے آنے والی تکلیف کا اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔

ریچھ اصل میں ڈانس آپ کی داد وصول کرنے کے لئے نہیں۔خود کو تکلیف سے بچانے کے لئے کرتا ہے۔

کئی دنوں سے یہ دیکھا جا رہا ہے کچھ لوگ ان خبیث مداریوں کی طرف داری کرتے ہیں کہ غریب کی روزی ہے۔جو روزی اللہ کی مخلوق کو اس تکلیف میں ڈالے، کیا وہ حلال ہوگی؟اور کیا اس کی طرف داری کرنا ٹھیک ہوگا؟

خدارا اپنے دلوں میں رحم پیدا کیجیے۔جہاں ان تماشے والوں کو دیکھیں محکمہ کو اطلاع کریں۔جنہیں آپ غریب سمجھ بیٹھے ہیں وہ اس دُنیا کے ظالم ترین لوگوں میں سے ہیں اس ظلم کا حصہ بننے سے گُریز کیجیے۔