اتنی توجہ جزبہ اصلاح نہیں

دنیا میں ہر قسم کے اور ہر اخلاق کے مرد و خواتین موجود ہیں جس شہر میں ہم رہتے ہوں وہاں مساجد میں نمازیں پڑہتے نمازی بھی ہیں اور بازار حسن میں طبلے کی تھاپ پر رقص کرتی اور عصمتوں کا سودا کرتی عورتیں بھی ہیں ، ایماندار افراد بھی ہیں اور جرائم پیشہ بھی ہیں.



گھروں سے سکول اور کالج جاتی معصوم بچیاں بھی ہیں اور ان کو بھوکی اور بری نظروں سے دیکھنے والے بھی ، یہ ہمارا اپنا انتخاب ہوتا ہے کہ۔ ہم کہاں جانا ، کیا دیکھنا اور کیا کرنا پسند کرتے ہیں ۔ جس طرح آپ کھلے عام کھیتوں میں کام کرتی ٹرانسپیرنٹ ہو چکی دھوتیوں والی کھلے عام کھیتوں میں کام کرتی خواتین کو نہیں دیکھتے.

جس طرح آپ بازار حسن میں رقص کرنے یا عصمت فروشی کرنے والی خواتین کو نظر انداز فرماتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وہاں سے گزرا بھی نہ جاے ، حالانکہ ان مظلوم عورتوں کی دین اور دنیا تباہ ہو رہی ہے ان سے پورا معاشرہ متاثر ہو رہا ہے اور مختلف علاقوں سے مسلسل سادہ لوح خواتین کو بہلا پھسلا کر یہاں لا کر ان سے دھندا کروایا جاتا ہے ، تو معاشرے کو بچانے کے لئیے جناب کیوں یہاں ہونے والے مظالم اور گناہوں پر نظر نہیں رکھتے ، کیوں ان دھندوں اور یہ دھندا کروانے والوں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے حالانکہ یہ معاشرے کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں ۔

تو جناب جیسے آپ ان کو جہاں توجہ کرنا زیادہ ضروری ہے اور وہ سب کچھ عورت مارچ سے کہیں بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے ، کو جان بوجھ کر ” بوجوہ ” نظر انداز فرماتے ہیں ادھر دیکھتے تک نہیں اسی طرح یہ عورت مارچ کرنے والی چند خواتین کو بھی نظر انداز فرما دیں تو جناب کو سابقہ سالوں کے عورت مارچ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنی وال پر شئیر نہیں کرنے پڑیں گے ، اور ان کو مسلسل زیر بحث بنانا ، ان کی طرف لوگوں کی توجہ زیادہ مبزول کروانے کا اور آپ کے ان کے خلاف جمع کئیے ہوے دلائل کا رد عمل پیدا کر کے چند طبقات میں اس چھوٹے سے ایونٹ کی اہمیت میں اضافہ اور پبلسٹی کا باعث بن جاتے ہیں ۔

تو جناب ان کو نظر انداز فرمائیں یہ خود ہی اپنی موت مر جائیں گے اور اگر آپ کو یہ خطرہ ہے کہ عام خواتین ان کی حامی بن سکتی ہیں تو پھر واقعی خواتین کے کچھ ایسے مسائل موجود ہیں جن کی طرف ہمدردانہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ۔ اور کچھ بڑے گناہوں اور پورے معاشرے پر اثر انداز ہونے والے دور قدیم سے جاری مکروہ عوامل کو چیلینج کرنے یا اس پر اعتراض اٹھانے کے بجاے ایک چند خواتین پر مشتمل ایک دن بلکہ چند گھنٹوں کے ایونٹ پر قبل از وقت سے اتنی توجہ جزبہ اصلاح نہیں بلکہ کھلی منافقت کے زمرے کی چیز ہے