خلیل الرحمان قمر بمقابلہ ماروی سرمدد

خلیل الرحمان قمر کی ویڈیو دیکھی بالکل حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ یہ سماج ہی مردانہ ہے اور مرد ہی طے کرتے ہیں کہ عورت نے کیا پہننا ہے کیسے بیٹھنا ہے کیسے چلنا ہے جائیداد میں حق دینا ہے یا نہیں دینا شادی کہاں کرنی ہے تعلیم کیا حاصل کرنی اول تو اعلی تعلیم دلوانے کا اتنا رحجان ہی نہیں ہے خیر اگر دلوا دیں تو یہ بھی طے کرنا ہے کہ کس شعبے میں نوکری کرنی ہے. باقی رہیں مذہب کی بات کہ مذہب کیا کہتا ہے تو مذہب گیا تیل لینے.


ویڈیو میں خلیل الرحمن قمر کی جانب سے کی گئی باتیں مجموعی طور پر ہمارے گھٹیا پن اور منافقانہ سوچ کی عکاس ہے اور یہی تو وہ سوچ ہے جس کے خلاف عورت مارچ ہر سال عالمی سطح پر منعقد کیا جاتا ہے. مگر مرد حضرات تو ایک طرف پڑھی لکھی خواتین کی بڑی تعداد نے بھی خلیل الرحمان قمر کی شان میں شادیانے بجانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی. اس بات کا دکھ ہوا یہ ہجوم تماش بینوں پر مشتمل ہے جنہیں روز ایسے تماشے چاہیے تاکہ گھریلو سطح پر ان سے ہو رہی زیادتیوں کی فرسٹریشن کم ہو سکے عام سادہ الفاط میں کہوں تو ان کی نفسیات کی مالش ہو سکے.

عورت مارچ صرف پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں ہر سال مارچ کی 8 تاریخ کو منایا جاتا ہے جس کے مقاصد درج ذیل ہیں چند بیہودہ پلے کارڈز کی بنیاد پر پورے عورت مارچ کی مخالفت کرنا حقائق سے چشم پوشی کے سوا کچھ نہیں.

1) وراثت کا حق

2) تعلیم کا حق

3) صحت کی بنیادی سہولیات تک رسائی

4) فیصلہ سازی کا حق

5) سیاسی سرگرمیوں میں شمولیت کا حق

6) آزادانہ نقل و حرکت

7) معاشی خودمختاری یا خودانحصاری کا حق

8) شادی کا حق

یہ مطالبات میں سے چند مطالبات ہیں.

اگر عورت کا مرد کے برابر حقوق مانگنا بے حیائی بے شرمی یا بیرون ملک ایجنڈا یا سازش ہے تو سب سے زیادہ گھٹیا تو مردوں کی وہ اکثریت ہوئی جو وہ سب اپنے لئے درست سمجھتے ہیں اور عورت کیلئے غلط.

یہاں بھی خواتین اعتراض کرینگی کیونکہ انہیں بچپن سے ہی ضرورت سے زیادہ شرم و حیا ماں باپ بھائی کیبعد شوہر اور سسرال کی فرمانبرداری کے جو پاٹ پڑھائے جاتے ہیں اور ان پاٹ کے راستے چلتے ہوئے ہر ظلم و زیادتی کا مرد کا حق سمجھتی ہے. ایسی سوچوں کی مالک خواتین کو سمجھانا بالکل ویسا ہے جیسے کسی غلام کو یہ یقین دلانا کہ تم غلام ہو.