زمین سے جڑی ہر چیز میں برکت ہے

ایک عام سی دیہاتی عورت کی طرح ،اس کا بھی روز کا روٹین وہی تھا ،جو دنیا کے ہر تقریبا ملک کے دیہات کا ہوتا ہے ۔

آج سے ستائس اٹھائیس سال پہلے دنیا اتنی “ڈیجیٹل “نہیں ہوئی تھی ۔


اس لئے اس دیہاتی عام سی عورت کو بھی اپنے نو بیٹوں اور پانچ بیٹیوں ،ان کے بچوں کے لئے،بھینسوں سے دودھ نکالنا اور ان سے دہی ،پینر مکھن بنانے کا کام بہت پسند تھا ۔

جب اس کی اولادوں کی اولادیں کہتیں “واہ بے جی کیا سواد ہے ” تو اس کا دل خوشی سے بھر جاتا ۔
ہائے کاش یہ ٹیسٹ شہر میں بھی مل جاتا ”

شہر سے آئے ایک مہمان نے حسرت سے کہا ۔

دیہاتی عورت کے دماغ میں ایک جھماکا سا ہوا ۔

وہ کئی دن تک ،دودھ سے مکھن اور پنیر بناتے ہوئے اسی بات پے غور کرتی رہی ۔

ایک دن بڑے بیٹے کو بلایا اور اس کو گھر کا بنا ،مکھن ،پنیر شہر کی بیکریوں میں فروخت کرنے کے لئے بھیجا ۔

سعادت مند بیٹوں نے اپنی پرانی موٹر سائیکل پکڑی اور شہر جاکر بیکریوں پے اپنی ماں کے ہاتھ کا بنایا مکھن اور پنیر ٹیسٹ کروایا ۔

دیہاتی عورت ان پڑھ ضرور تھی ،جاہل نہیں ۔مارکیٹنگ کے اصولوں سے واقف تھی ۔اس لئے پہلی بار یہ پروڈکٹ ،بیچنے کے لئے نہیں تحفہ کے طور پے بھیجی گئی تھیں ۔

شہر کی دس میں سے نو بیکریوں نے پروڈکٹ کو بہت پسند کیا ،لیکن مستقبل میں اس کو خریدنے کی کسی خواہش کا اظہار نہیں کیا ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی بیکری پروڈکٹ میں پہلے ہی دونمبر مال استعامل کر رہے تھے ،ایک نمبر مکھن اور پنیر کیسے استعمال کرتے ؟

شہر کی ایک بڑی بیکری نے جس کی شہرت بھی اچھی تھی ،ایک ماہ کے پروبیشن پریڈ کے لئے یہ پروڈکٹ خریدنے کی خواہش ظاہر کی ۔

یہ پہلا آرڈر تھا جو اس دیہاتی عورت نے اپنی تھوڑی سی ہمت اور وژن سے حاصل کیا تھا ۔
ایک ماہ کے بعد بیکری ،ان کی مستقل گاہک بن چکی تھی ۔

دیہاتی عورت نے پہلے دن ہی سمجھ لیا تھا کہ ان کا یہ کاروبار ،بہت جلد وسیع ہوجائے گا ۔
اس کے لئے انہیں زیادہ دودھ درکار تھا ۔

اس کی اولاد ،بہووِیں ،بیٹے ،بیٹیاں داماد ۔سب اسکی مین پاور تھے ۔

اس نے انہیں اپنے ہی نہیں سارے آس پاس کے گاّں میں پھیلادیا ۔

دیہاتی عورت کی زندگی کا لازمی جز ،اس کی بھینس ہوتی ہے

لیکن اس کے پاس بھینس سے حاصل کردہ اضافی دودھ کا کوئی مصرف نہیں ہوتا ۔یہ اضافی دودھ ،اس دیہاتی عورت نے زیادہ قیمت پے خریدنا شروع کردیا ۔

کام بڑھا تو کام کی تقسیم کار بھی بڑھانی تھی ۔باہر کے لوگوں پے بھروسہ کرنے سے بہتر تھا کہ وہ خود ہی اس کام کو دیکھیں ۔

دیہاتی عورت میں مینجمنٹ کی غضب کی صلاحیت تھی ۔

اس نے بڑی بہو کو “دودھ کلیکشن ” کا انچارج بنایا ،اس سے چھوٹی کی ذمہ داری ،جمع شدہ دودھ کو ابالنا اور اس سے بالائی حاصل کرنا تھا ،تیسری بہو کی ذمہ دار پینر بنانے کی تھی ۔گھر کے بچے بھی پیکنگ کے کاموں میں ہاتھ بٹانے لگے ۔

یہ کہانی “amul کی کہانی ہے ۔جو صرف پچیس سالوں میں انڈیا کا سب سے بڑا ڈیری برانڈ ہے ۔ان کی ایکسپورٹ بھی حیرت انگیز ہے ۔

دیہاتی عورت آج بھی انٹرنیشنل کانفرینسوں میں خود شریک ہوتی ہے ۔

اس کے وژن کا یہ عالم ہے کہ امول ریسرچ سینٹر ،کیلٹل فارمنگ ،کیٹل ڈیزیز پے کام کرتا ہے ۔وہ دنیا کی بہترین گائے بھینسیں بریڈ کراتے ہیں ۔

اس کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھینسیں خریدنے کے لئے قرضے فراہم کرتے ہیں ۔

اس سے بھی بڑھ کر وہ اپنے ملازمین پے ایک روپے میں سے اسی پیسہ خرچ کرتے ہیں ۔

دوسری طرف ہمارے وژن کا یہ حال ہے کہ ہم نے اپنی بہترین زمینوں کو کنکریٹ کے جنگل میں بدل دیا ہے ۔ہمارے وژنری “ملک ریاض ” جیسے لوگوں نے دیہاتوں کو ٹاوں میں بدل دیا ہے ۔بے شک ان گاوں والوں کے پاس پکے گھر اور بڑی گاڑیاں آگئیں ہیں ،لیکن ہمارے پاس خالص دودھ اور مکھن ناپید ہے ۔
زمین اپنے غداروں کو کبھی معاف نہیں کرتی ۔

آپ کے پاس زمین کا چھوٹا سا بھی ٹکڑا ہے تو اس کو کسی کام میں لائیں ۔زمین سے جڑی ہر چیز میں برکت ہے۔