ڈیم فول

سپریم کورٹ کے سابق سینئر موسٹ جج کے بیٹے کی شادی گزشتہ دنوں لاہور میں انجام پائی، سوشل میڈیا پر شادی کی وڈیوز میں دکھایا گیا کہ تقریب پر کیسے شاہانہ اخراجات کئے گئے، لوگوں نے طنز و مزاح کا سہارا لے کر سابق جج پر خوب تنقید کی، بعض لوگوں نے اس نمود و نمائش کو فضول خرچی سے تعبیر کیا تو کچھ لوگوں نے سابق جج کی تنخواہ کا حوالہ دے کر کروڑوں روپے کے اخراجات کو ذرائع آمدنی سے مطابقت نہ رکھنے کے طعنے دئیے۔

ایک چیز جو اس تنقید میں مشترک تھی وہ ڈیم فنڈ کا ذکر تھا، ہر کوئی سابق جج صاحب سے ڈیم فنڈ کے پیسوں کا حساب پوچھ رہا تھا تو کسی نے ان کے بہو اور بیٹے کے ملبوسات کی قیمت کے بارےمیں استفسار کیا۔ پاکستان میں اس سے قبل بھی متمول افراد کے ہاں شادیاں ہوتی رہی ہیں جن پر پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا لیکن کبھی کسی نے ایسے سوالات نہیں اٹھائے۔


سوال یہ ہے کہ یہ سارے سوالات سابق سینئر موسٹ جج سے ہی کیوں کئےجا رہے ہیں۔ اس کی وجوہات میں یقیناً دو عنصر بہت اہم ہیں، ایک یہ کہ وہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس رہے ہیں اور دوسرا انہوں نے ملک میں پانی کی کمی سے ہنگامی بنیادوں پر نمٹنے کے لئے فوری طور پہ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کے لئے فنڈ اکھٹا کرنے کی مہم کا اجرا کیا تھا۔

اب بطور چیف جسٹس جب وہ منصف کی کرسی پر براجمان تھے تو ان کے سامنے ایک عام فرد سے لے کر وزیراعظم تک سب کے مقدمات سماعت کے لئے آتے تھے، اس دوران بطور جج انہوں نے اپنے منصب کے تقاضے کے مطابق لوگوں کو احتساب کی بھٹی سے گزارا۔ مقدمات کی سماعت کے دوران وہ ملزمان سے منی ٹریل کا تقاضا کرتے، منی ٹریل نہ دینے کی پاداش میں وزارتِ عظمی کے منصب سے ہٹائے جانے والے نواز شریف کو انہوں نے ہی پارٹی سربراہ کے عہدے کے لئےبھی نا اہل قرار دیا تھا، اگر کسی ملزم کا رہن سہن اس کے ذرائع آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتا تھا تو سابق جج صاحب کی عدالت میں اسے اس عدم توازن کو ثابت کئے بغیر چھٹکارا نہیں ملتا تھا۔

بطور منصف وہ تقریبات سے خطاب کے دوران لوگوں پرزور دیتے رہے کہ ملک کا مستقبل تب ہی روشن اور محفوظ ہو سکتا ہے جب قانون سب کے لئے یکساں ہو جبکہ وہ اسراف پر سخت تنقید کرتے ہوئے سادہ زندگی بسر کرنے کے وعظ کیا کرتے تھے۔

اب انہی سے جڑے دوسرے پہلو یعنی ڈیم فنڈ کا ذکر کیا جائے تو بطور چیف جسٹس انہوں نے سال 2018میں کالا باغ ڈیم کے حوالے سے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کو ملک میں فوری طور پر دو ڈیمز کی تعمیر شروع کرنے کا حکم دیا ۔

ان ڈیمز کی تعمیر کے لئے انہوں نے جولائی 2018میں سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کے قیام کا اعلان کیا اور اپنی طرف سے دس لاکھ روپے کا ابتدائی فنڈ دیتے ہوئے عوام پُرزور دیا کہ وہ اس فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ وہ بطور چیف جسٹس فنڈ ریزنگ کے لئے بیرون ملک بھی جاتے رہے۔

اگرچہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کی لاگت تقریباً 1450ارب روپے اور مہمند ڈیم کی لاگت 310ارب روپے تھی لیکن وہ بہت پر عزم تھے کہ نہ صرف پاکستانی قوم ان ڈیمز کی تعمیر کے لئے 1965کے جذبے کی طرح اپنا سب کچھ نچھاور کر دے گی بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی دو سو ارب ڈالر بھیجیں گے۔ انہیں اس قدر خوش فہمی تھی کہ انہوں نےیہ خوشخبری بھی سنائی کہ 900ارب روپے تو بس پاکستان پہنچے والے ہیں۔

ان کی ہدایات پر عمل کرنےکےلئے آرمڈ فورسز سمیت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے ڈیم فنڈ کے لئےایک دن کی کٹوتی بھی کی گئی۔ وہ فنڈ اکھٹا کرنے کی مہم کے بارے میں اس قدر سنجیدہ تھے کہ جب وزیراعظم عمران خان نے پرائم منسٹر فنڈ کے قیام کا اعلان کیا تو انہوں نے پرائم منسٹر کا نام سپریم کورٹ کے نام کے بعد شامل کرنے کی ہدایات دیں۔

ان کی عدالت میں کوئی مالی لین دین کا مقدمہ آتا تو وہ جرمانے کی رقم ڈیم فنڈ میں جمع کرانے کا حکم صادر فرماتے جبکہ ڈیم فنڈ پر تنقید کرنے والوں کو آرٹیکل 6لگانے سے ڈراتے لیکن ان سب کاوشوں کے باوجود ڈیم فنڈ کی مد میں صرف 9ارب 80کروڑ روپے ہی جمع ہو سکے اور ان کی ریٹائرمنٹ کا وقت آن پہنچا جبکہ اس کی تشہیر کے لئے میڈیا کو 13ارب روپے کا ائر ٹائم دینا پڑا۔

ڈیم کی تعمیر کا کریڈٹ لینے کے وہ اس قدر حساس تھے کہ حکومت نے مہمند ڈیم کی تعمیر کے سنگ بنیاد رکھنے کی تاریخ تبدیل کی تو وہ ناراض ہو گئے جس پر وفاقی وزیر آبی وسائل کو معذرت کرنا پڑی۔

ڈیم فنڈ کے لئے پیسے دینے والی پاکستانی قوم کو پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور لٹریری فیسٹیول میں ایک سوال کے جواب میں سابق سینئر موسٹ جج نے فرمایا کہ فنڈ اکھٹا کرنے کا مقصد ڈیمز کی تعمیر نہیں بلکہ عوام میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔

عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے بعد جب سابق جج کے بیرون ملک شب و روز کی تصاویر سامنے آنے لگیں تو عوام کو باور ہو گیا کہ ڈیم کے نام پر انہیں فول بنایا گیا ہے چنانچہ اب جب ان کے بیٹے کی لاہور میں شان و شوکت سے کی جانے والی شادی کی وڈیوز سامنے آئیں تو ان کے زخم ہرے ہو گئے۔

عوام نے بیٹے کی شادی پہ شاہانہ اخراجات کرنے پر سابق جج صاحب کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا کیونکہ ان کے لئے یہ محض ایک شادی کی تقریب نہیں بلکہ قول و فعل کا وہ تضاد تھا جس کا پردہ چاک کرنا اب ضروری تھا۔