خواتین مارچ

خواتین کا عالمی دن منانے کا مقصد خواتین کو ان کے بنیادی حقوق سے آگاہ کرنا اور ان کی معاشرتی اہمیت کو اجاگر کرنا۔

1908ء میں نیویارک میں کپڑا بنانے والی فیکٹری میں مسلسل دس گھنٹے کام کرنے والی خواتین نے اپنے اوقاتِ کار میں کمی اور اجرت میں اضافے کے لیے آواز اٹھائی تو جواباََ انہیں پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور وحشیانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا بلکہ انہیں گھوڑوں سے باندھ کر سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔

لیکن خواتین کی جبری مشقت کے خلاف جدوجہد جاری رہی اور اس کے نتیجے میں1910ء میں کوپن ہیگن میں خواتین کی پہلی عالمی کانفرس ہوئی جس میں سترہ سے زائد ممالک کی سو کے قریب خواتین نے شرکت کی اور عورتوں پر ہونے والے ظلم و استحصال کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔


اس میں شبہ نہیں کہ مغربی عورت کسی حد تک سماجی، معاشی، سیاسی اور قانونی حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے لیکن کیا اس سے ” خواتین پر ظلم و استحصال ” ختم ہوگیا ہے؟؟

تو ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ صنفی بنیاد پر ہونے والے ظلم و جبر میں اضافہ دیکھنے میں نظر آیا ہے۔ آج دنیا کی ہر تیسری عورت تشدد کا شکار ہے۔ امریکہ جیسے ملک میں ہر چھ منٹ کے بعد ایک عورت زیادتی کا نشانہ بنتی ہے۔ ہر دس میں سے چار شادیوں کا انجام طلاق ہے۔ سالانہ بیس لاکھ بچیوں کو جنسی کاروبار کے لیے سمگل کیا جاتا ہے۔

خواتین کی تجارت سے ہر سال بارہ بلین ڈالر سے زیادہ کا منافع کمایا جاتا ہے۔ اسٹون کرافٹ کے مطالبے کے نتیجہ میں ملنے والی آزادی نے خاندانی نظام اور اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔ جان و عزت کا تقدس ختم ہوگیا ۔ عورت کی حثیت صرف اور صرف ” اکاموڈیٹی ” کی رہ گئی جس سے مرد لطف اندوز ہوتے ہیں جس کے نتیجہ میں اسے روپیہ پیسہ تو مل جاتاہے لیکن عزت، تقدس،سکون اور رشتے ناطے اور نسوانیت ختم ہوگئے ہیں۔

یہ صرف ایک صدی پہلے کا قصہ ہے اور اسکے نتیجہ میں حاصل ہونے والے حقوق کی روداد۔ جس سے با آسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خواتین کے حقوق مہیا کرنا اور ان کا تحفظ کرنا اس تحریک کے بس کی بات نہِیں ۔

لیکن قربان جائیں ہمارے ہاں موجود مغرب کی جدیدی اور روشن خیالی کے پرستاروں پر جو کاندھادھند مغرب سے در آمد شدہ بات کو گلے لگانا اپنا فرضِ اولین گردانتے ہیں، انہیں یہ فرق نظر نہیں آتا ۔
اسکے برعکس اگر ہم آج سے چودہ سو سال پہلے اسلام کی آمد کے بعد خواتین کو دئیے جانے والے حقوق پر نظر دوڑائیں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام مرد و زن کو مساوی حقوق دیتا ہے لیکن ان کا دائرہ عمل مختلف ہے۔ وہ ایک دوسرے کے شریکِ کار ہیں نہ کہ مخالف۔ اسلام نے خواتین کو ہر طرح کے روحانی ، معاشی، معاشرتی، سیاسی اور قانونی حقوق فراہم کئے۔

سورہ النساء کی پہلی آیت میں ارشاد ربانی ہے :

ترجمہ : ” لوگوں اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اسکا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیئے۔ اس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگے ہو اور رشتہ وقربت کےتعقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو، یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔ ”

ایک عاقل و بالغ مسلمان عورت جائداد کی خرید و فروخت کر سکتی ہے اور یاد رہے اس میں شادی شدہ یا غیر شادی شدہ کی پابندی نہیں ہے۔ا سلام معاش کی تمام تر ذمہ داری مرد کے سپرد کرتا ہے لیکن اس کے باوجود عورت کو کام کرنے یا کاروبار کرنے سے روکتا نہیں ہے صرف شرط عائد کرتا ہے کہ کام کی نوعیت جائیز اور شرعی حدود کے اندر ہو ۔ اس کی کمائی مکمل طور پر اس کی ذاتی ملکیت ہوگی وہ جس طرح چاہے اسے خرچ کرے۔ حقِ وراثت کی حقدار ٹھہرایا۔بیٹی کو زندہ درگور کرنے کی قبیح رسم کا خاتمہ کیا، عورت کو پسند کی شادی کا حق دیا، بیوی کے طور پر ناپسندیدگی کے باوجود حسن اخلاق اور برابری کی تلقین کی۔ ماں کی حثیت سے اس کا درجہ اس قدر بلند کیا کہ ماں کے قدموں کو جنت سے تشبیہ دی جانےلگی۔ تعلیم کا حق دیا۔یہ انہیں حقوق کا اعجاز تھا کہ وہ اس قابل ہوئیں کہ حضر ت عمر رضی اللہ تعالی عنہہ جیسے صحابی کو ٹوک سکیں ” ” جب قرآن یہ اجازت دیتا ہے کہ مہر میں مال کا ڈھیر بھی دیا جاسکتا ہے تو عمر رضی اللہ عنہہ کون ہوتا ہے حد مقرر کرنے والا ”

یہ درست ہے کہ ہمارا معاشرہ کسی طور بھی خواتین کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ اسلامی کہلوانے کے باوجود آج بھی بہنوں کو ” ونی ” کیا جا رہا ہے، شادی قرآن پاک سے کروائی جا رہی ہے،غیرت کے نام پر خواتین کا قتل عام بات ہے، مردانہ جھگڑ وں عورت کو ملوث کرنا عام ہے، آبروریزی، تیزاب گردی، جنسی طور پر ہراساں کرنا عام بات ہے، مختلف شعبوں میں خدمات سر انجام دینے والی خواتین کا معاشی استحصال بھی عام بات ہے۔

لیکن اس کی وجہ اسلام کو قرار دینا بالکل غلط ہوگا۔جب تک معاشرے میں دین اسلام اپنی اصل روح کے ساتھ موجود رہا ” عورت ” کی حثیت بلند ہی رہی لیکن رفتہ رفتہ مسلمان مادیت پرستی، جدیدیت اور تعشیات کو حرز جاں بناِ کر دورِ جہالت کے انسانوں کی طرح جاہل، جنگلی اور وحشی بن گیا ہے جس کا مقصد اپنے جذبات کی تسکین کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس مادیت پرستی نے مرد نے اپنی ذمہ داریوں سے راہِ فرار کی صورت دیکھائی اور یوں عورت آزادی، مساوات کے نام پر مرد کے زیرنگیںآ گئی جسمیں آزادی فقط اتنی ہی ہے کہ ” عورت اپنی مرضی سے بک سکتی ہے۔”

ضرورت ہے کہ ہم ” خواتین کا عالمی دن” عالمی دن منانے کی بجائے اسلام میں دئیے گئے خواتین کے حقوق سے مسلم خواتین کو آگاہ کریں تاکہ معاشرے میں جاری جاہلانہ رسوم و رواج اور مغرب سے درآمد ناکافی قوانین و ضوابط کا خاتمہ ہوسکے۔

اللہ ہمیں اسلام کو سمجھنے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین