کیا اب پنجاب کابھٹو

مقامی اسٹیبلشمنٹ اور عالمی اسٹیبلشمنٹ اپنے اپنے دکھوں اور مسائل کی وجہ سے اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کے خلاف اکھٹی ھو گئیں۔ مقامی ملکی اسٹیبلشمنٹ کے دکھ واضح تھے۔ نوازشریف بطور وزیراعظم ضدی ھے۔ من مانی کرتا ھے۔ ھماری نہیں سنتا۔ بالا دستی کو چیلنج کرتا ھے۔ عزت اور احترام چاھتا ھے۔ اقتدار کے ساتھ اختیار مانگتا ھے۔ پالیسی سازی کو اپنا حق اور دائرہ کار سمجھتا ھے۔



جمہوریت اور ووٹ کے احترام کی بات کرتا ھے۔ اور خود کو حقیقی وزیراعظم سمجھتا ھے۔ خاص طور پر منہ مانگے اور من چاھے پیسے نہیں دیتا۔ بجٹ میں تعین کردہ حصے تک محدود رکھتا ھے۔ اور تو اور دائیں بائیں سے ترقیاتی منصوبوں اور ٹھیکوں سے بھی پیسے کمانے نہیں دیتا۔ اور مقامی اسٹیبلشمنٹ کو ان کے آئینی رول تک محدود کرنا چاھتا ھے۔ وغیرہ وغیرہ

عالمی اسٹیبلشمنٹ کے نوازشریف کے ساتھ اپنے مسائل تھے۔ سب سے بڑا مسئلہ سی پیک کا تھا۔ امریکہ اپنی عالمی پالیسی کے تحت چین کو گھیرنا چاہ رھا تھا۔ اسے محدود رکھنا چاہ رھا تھا۔ اس کے ساتھ تجارتی جنگ میں الجھا ھوا تھا۔ لیکن یہ کیا کہ نوازشریف سی پیک کی شکل میں چین کو گوادر تک لے آیا تھا۔ اسے گرم پانیوں تک رسائی دے دی تھی۔ اس کے نئے تجارتی روٹس کھول رھا تھا۔ ون روڈ ون بیلٹ کے چینی تصور میں اس کے ساتھ کھڑا ھو گیا تھا۔ اور تو اور روس کو بھی سی پیک کا حصہ بننے کی دعوت دے دی تھی۔ شنگھائی کانفرنس تنظیم کا رکن بن گیا تھا۔ امریکہ سے ھٹ کر وسط ایشیا اور چینی ونڈو کھول رھا تھا۔ وہ پاکستان جو آج تک امریکی مدار کا ایک سیارچہ رھا تھا۔ جس نے ھمیشہ امریکہ پر انحصار کیا تھا۔ آج خود مختار ھونے کی کوشش کر رھا تھا۔ اور اپنی مالی اور معاشی پالیسیاں خود بنا رھا تھا۔ مڈل ایسٹ کا وہ خطہ جس پر بالادستی کے لیے پچھلے پچاس سال میں دو عرب اسرائیل جنگیں لڑی گئیں۔ تین افغان جنگیں ھوئیں۔ دو گلف جنگیں ھوئیں۔ اور جہاں آج بھی شورش چل رھی ھے۔ نوازشریف اس خطے میں چین اور روس کو لا رھا تھا۔

چناچہ مقامی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کا نوازشریف کے خلاف اتحاد ھوا۔ اسے نکالو۔ اور اس کی پالیسیوں کو ریورس گئیر لگاو۔ اور اگر نوازشریف مزاحمت کرے تو اسے عبرت کی مثال بنا دو۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ نے مقامی اسٹیبلشمنٹ کو یقین دلایا۔ ایک دفعہ نوازشریف کی چھٹی ھو گئی۔ تو آپ کے لیے ریالوں اور ڈالروں کے منہ کھول دیے جائیں گے۔ دوسری جانب جس نئے گھوڑے یعنی عمران خان کو ریس کے لیے تیار کیا گیا۔ اس نے بھی یقین دلایا وہ اپنی کرشماتی شخصیت کی بدولت ملک میں ڈالروں کے انبار لگا دے گا۔ ایک مقام پر ملکی اسٹیبلشمنٹ یہ فیصلہ پہلے ھی کر چکی تھی۔ کہ ملکی سیاست کو پرانے سیاستدانوں سے پاک صاف کر دینا ھے۔ اور اس کے لیے کرپشن ، نیب اور عدلیہ جیسے ھتیار موجود تھے۔

اس سارے پلان پر حسب پلان عمل ھوا۔ اور نیا سیٹ اپ وجود میں آ گیا۔ فصل کاشت کر دی گئ تھی۔ اب فصل کاٹنے کا وقت تھا۔ اور یہاں سے ھی، شیکسپیئر کی زبان میں، دریافت کا عمل شروع ھوا۔ اور یہ دریافت کا عمل کیا تھا۔ وہ یہ کہ ملکی اسٹیبلشمنٹ سے دو انتہائ خوفناک غلطیاں ھو گئ ھیں۔ وہ نہ تو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی پلاننگ کو سمجھ سکے۔ اور نہ عمران خان کی استعداد کو جان سکے۔ وہ عالمی اسٹیبلشمنٹ جس نے ریالوں اور ڈالروں کے پیکجز کا وعدہ کیا تھا۔ اپنی قیمت مانگنے لگی۔ نہ صرف قیمت مانگنے لگی۔ بلکہ اپنی باتیں منوانے کے لیے پاکستان کا مالی اور معاشی بازو بھی مروڑنے لگی۔ تاکہ پاکستان کو اتنا بے دست و پا کر دیا جائے۔ کہ وہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی شرائط ماننے کو مجبور ھو جائے۔ اور یہ شرائط کیا تھیں۔ سی پیک کا خاتمہ، چین اور روس سے دوری ، چین کے خلاف اتحاد میں شمولیت، بھارت کی بالادستی کو تسلیم کرنا، کشمیر کا من مانا حل پاکستان پر تھوپنا ، اور یمن ، افغانستان اور ایران کے مسائل ، اور ایٹمی پروگرام کو کیپ کرنا۔ چناچہ آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکیج ہو۔ یو اے ای ادھار تیل دینے کا وعدہ کرکے بھاگ گیا ہو۔ سعودی پیکج کسی کولڈ سٹوریج میں پڑا ہو۔ یہ مفادات کی سیاست ھے جناب۔ اگر آپ پیسہ چاھتے ہیں تو بیچنے کو کیا ھے ؟ ایک وقت تھا۔ سرد اور گرم جنگوں میں پاکستان امریکہ کی ضرورت بن جاتا تھا۔ لیکن ابھی ایسی کوئی ضرورت نہیں۔ چناچہ لینا دینا برابر کا۔

ملکی اسٹیبلشمنٹ بالادستی چاھتی ھے۔ لیکن یہ ملکی مفاد کے خلاف نہیں جا سکتی۔ بھٹو کو پھانسی لگا دی۔ لیکن ایٹم بم بنا لیا۔ اگرچہ بھٹو کو پھانسی لگانے کی قیمت آج تک دی جا رھی ھے۔ اسی طرح سی پیک پر کمپرومائز نہیں ھو سکتا۔ بھارت اور کشمیر پر کمپرومائز نہیں ھو سکتا۔ اور ایٹمی پروگرام کیپ نہیں ھو سکتا۔ چناچہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے وعدے اور دباؤ دونوں فارغ۔
دوسری جانب عمران حکومت معیشت میں مکمل ناکام ھو گئی۔ ملکی اسٹیبلشمنٹ جانتی ھے۔ مضبوط معیشت ھی مضبوط ملک کی ضامن ھے۔ اگر پیسہ ھی جنریٹ نہ ھوا۔ تو ملک اور ادارے کی ضروریات کیسے پوری ھوں گی۔

عمران سے ایک غلطی اور ھو گئی۔ وہ یہ سمجھ بیٹھا۔ اسٹیبلشمنٹ کے پاس کوئی متبادل نہیں چناچہ عمران کو رکھنا ان کی مجبوری ھے۔ حالانکہ ملک کے سامنے کوئی ناگزیر نہیں۔متبادل ھے۔ لیکن صرف نوازشریف رکاوٹ ھے۔ نوازشریف کے خلاف تمام پروپیگنڈہ فیل ھو چکا۔ نوازشریف کی خاموشی اور عزم نے اسٹیبلشمنٹ کو بہت کچھ سوچنے اور واپس لینے پر مجبور کر دیا ھے۔ وہ پنجاب میں ایک اور بھٹو بننے کے متحمل نہیں ہے۔ یہ شہبازشریف کا بیانیہ کامیاب نہیں ھوا ھے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ اور عمران حکومت کی معاشی ناکامی کی شکل میں مقامی اسٹیبلشمنٹ فیل ھوئی ھے۔ قیمت بھی یہ چکائے گی۔ توسیع حاصل کرنے کے بعد جنرل باجوہ کمزور ہوۓ ہے اورانہیں اپنے ہی ساتھیوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے احکامات پر پہلے کی طرح اب عمل بھی نہیں کیا جارہا۔

نوازشریف تو کامیاب ھوئے ھیں۔ جسے سیاست سے نکالا جا رھا تھا۔ پوری آب و تاب کے ساتھ سیاست پر خاموشی سے چھایا ہواھے۔ اب جو تبدیلی آئے گی۔ وہ بامعنی اور مفید ھو گی۔