رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي اَمْرِي

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کانفرنس کے شروع میں ایک دعا پڑھی انہوں نے اس کانفرنس کے لیے یہ ہی دعا کیوں پڑھی اور یہ کانفرنس اتنی اہم کیوں تھی، انہوں نے *حضرت موسٰی* کی دعا پڑھ کر کانفرنس شروع کی، آج نو سال ہونے والے ہیں مجھے اتنا پتہ ہے کہ آئی ایس پی آر سے جو بیان جاری ہوتا ہے وہ تمام افواج کا پیغام ہوتا ہے اور آج اس کانفرنس میں اس دعا سے شروع کرنا فرعون مودی کے لیے کیا پیغام دیا گیا ہے، جب میں کانفرنس دیکھ رہا تھا جس وقت ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ دعا پڑھی تو میں اس وقت بہت حیران تھا اتنا سمجھ گیا تھا کہ آج بہت اہم اعلان جاری ہونے والا ہے اور وہ ہی ہوا مجھے دو دن لگے یہ تحریر لکھنے میں اور آج اس تحریر کو مکمل کر رہا ہو، وہ دعا یہ تھی،،


رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي اَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي

اے میرے رب! میرا سینہ میرے لئے کھول دے اور میرے کام کو مجھ پر آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ بھی کھول دے تاکہ لوگ میری اچھی طرح بات سمجھ سکیں.

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کی کانفرنس سے اندازہ ہوتا ہے کہ افواج پاکستان مکمل پلان تیار کرچکی ہے، ان کی کانفرنس سے یہ بھی صاف نظر آرہا ہے کہ باجوہ ڈاکٹرائن کا مشن پورے خطے کے امن و امان کے حوالے سے ہے، کچھ عرصہ پہلے اچانک تبادلے کیے گے بہت اہم ذمہ داریاں دی گئی ہیں، الحمداللہ پاک فوج کے تمام جنرلز اپنے اپنے ورک پر بہترین مہارت رکھتے ہیں اس ہی طرح جو کچھ سامنے چل رہا ہوتا ہے وہ صرف %15 دیکھایا جارہا ہوتا ہے، اگر آپ تھوڑا سا پیچھے چلے جائے جس وقت جنرل آصف غفور نے کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا یہ ہائبرڈ وار ہے اور ہمارے پاس اس کا ڈیزائن بھی موجود ہے اس کے بعد اچانک کور کمانڈرز کانفرنس بھی ہوئی تھی یاد رہئے آف ڈی ریکارڈ بہت کچھ چل رہا ہوتا ہے اور یہ الفاظ 26 فروری 2019 کو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ دنیا کی کوئی بھی فوج اپنی پالیسی میڈیا پر شیئر نہیں کرتی اگر آپ دیکھئے تو یہ سوال حامد میر نے کیا تھا کہ جنگ کے حوالے سے، اس ہی طرح ہائبرڈ وار کو ناکام بنانے کے لیے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فورن تبادلے بھی کیے اور بہت ہی اہم ذمہ داریاں بھی دیئے دی، دیکھئے افواج پاکستان ایک پروفیشنل آرمی ہے، پاک فوج واحد فوج ہے جس نے 20 سال دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی جس نے 3rd جنریشن وار سے فورتھ جنریشن وار اور پھر ففتھ جنریشن وار کو بھی ناکام بنایا اور اب ہائبرڈ وار کو بھی ناکام بنانے کے لیے ورک جاری ہے، دشمن پاکستان پر چاروں طرف سے حملہ کر رہا ہے پاک فوج ایک وقت پر سب چیزوں کو کنٹرول کر رہی ہے.

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے سخت الفاظ استعمال کیے انہوں نے ملک دشمن اندرونی اور بیرونی سب کو دوٹوک الفاظ میں جواب دیا کہ جنرل آصف غفور نے جس طرح بہترین ورک کیا اس ہی طرح آئی ایس پی آر آگے بھی ورک جاری رکھئے گی اور بھارت کو کھل کر پیغام دیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کچھ باتیں بہت وضاحت سے پیش کی انہوں نے کہا کہ پاکستان پر جب بھی مشکل وقت آیا فوج اور عوام نے ڈٹ کر مقابلہ کیا، یہ الفاظ ان کے لیے تھے جو پاکستان کے اندر قوم کے درمیان نفرت پیدا کر رہئے ہیں ان کو صاف الفاظ میں بتا دیا گیا کہ فوج اور عوام ایک ساتھ کھڑے ہیں، انشاءاللہ، اس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے بھارت کے بعد خطے کی بات کی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ 14 فروری 2019 کے بعد جنگ کا آغاز ہوچکا ہے لیکن پاک فوج سول آبادی پر کبھی بھی حملہ نہیں کرتی جبکہ بھارتی فوج نے ہمارے عام شہریوں اور بچوں تک کو نشانہ بنایا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے باقاعدہ جنگ کا آغاز کردیا تو یہ ختم نہ ہونے والی جنگ ہوگی.

اب بہت ہی وضاحت سے بائیں خطے میں بہت سے ملک اس جنگ کی لپیٹ میں آئے گے، انہوں نے کہا سچائی ایک بار بتائی جاتی ہے جبکہ جھوٹ اور جھوٹے بار بار ذلیل ہو رہئے ہیں لیکن اگر وہ آنکھوں کو بند کر دیئے تو اس میں ہم بار بار کچھ نہیں کہ سکتے لیکن جنگ مسلط ہوئی تو ہم اپنا دفاع کا حق رکھتے ہیں اور 27 فروری سرپرائز ڈے ہے اس کو پہلے یاد کر لینا، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کانفرنس میں کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ اور تمام عالمی اداروں کو آگاہ بھی کیا کہ آپ کے پاس تمام چیزیں موجود ہیں اور نسل کشی آج تک ہورہی ہے ہم برداشت کر رہئے ہیں اب بھی وقت دے رہئے ہیں انہوں نے خاموش پیغام دیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ایک بات جو جنگ کے حوالے سے کی اس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ وہ یہ ہی کہ رہئے تھے کہ ہمیشہ جنگ بندی کے لیے ٹیبل ٹاک پر آنا پڑتا ہے لیکن ہم پہلے یہ آپشن دے رہئے ہیں کبھی بھی ایٹمی ممالک میں جنگ نہیں ہوتی لیکن! انہوں نے بہت ہی وضاحت سے کہ دیا ہے کہ ہم بلکل تیار ہیں *پاکستان پرامن ملک ہے اور امن کی خواہش رکھتا ہے لیکن جنگ مسلط ہوئی تو ہمارے پاس پھر ٹیبل ٹاک والا آپشن نہیں ہوگا ہم فتح کرنا جاتے ہیں اس لیے یہ آپشن پہلے دیا موقعہ دے رہئے ہیں خاموشی کو کمزوری نہ سمجھے ورنہ سخت ردعمل ہوگا.

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کی کانفرنس ایک اعلان ہے جو مودی فرعون کے لیے ہے انہوں نے کہا تھا کہ 1947 سے بھارت نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا اور مودی حکومت نے تو بلکل کھل کر کہ دیا ہے یہ جو ظلم کر رہا ہے اور ہماری برداشت کی حد ہے اور جو انہوں نے دعا پڑھی اس سے بھی اس فرعون کے لیے بلکل واضح پیغام ہے، ہم مسلمانوں کی تاریخ ہے اور ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں ہم پرامن ہے ہمیں مجبور نہ کرو لیکن جنگ اگر مسلط ہوئی تو ہم فوج ہے لیکن یاد رہئے ہم شہادت کے لیے لڑتے ہیں اور جہاد کا اعلان ہوگا، ہماری فوج کے جوان جنگ کا نام سنتے ہی اپنی چھٹیاں منسوخ کروا دیتے ہیں یہ فرق ہے ہم میں اور تم میں،، بھارت کے لیے اس کی فرعونیت کو ختم کرنے کا وقت بلکل قریب آچکا ہے، انشاءاللہ پاکستان تاقیامت ہے اور ہمیشہ رہئے گا