اچھا برانڈ منیجر کیسے بنا جائے؟

برانڈ منیجر کمپنی کے اندر یا باہر برانڈ سےمتعلق رابطے کا مرکزہوتاہے اور مجموعی طور پر برانڈ کے امیج کو بہتر حالت میں رکھنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اپنی ٹارگٹ مارکیٹ پر گرفت مضبوط رکھنے کے لیے اسے غیر معمولی فیصلے بھی لینے پڑتے ہیں تاکہ وہ اپنے حریف برانڈز کو نمایاں اور سخت مقابلہ دینے کی پوزیشن میں رہے۔ اس ضمن میں وہ اپنے برانڈ کا ٹرینڈ سیٹ کرنے یا سرفہرست رہنے کے لیے نت نئی ایڈورٹائزنگ کیمپینز (Advertising campaigns) بھی لانچ کرتا رہتاہے۔



ایک برانڈ منیجر اپنے برانڈکی تشہیر کرتاہے، اس کے صارفین تلاش کرتاہےاور اپنے برانڈ اور اس کے صارفین کے درمیان تعلق کو مضبوط کرتاہے، اس کے علاوہ اپنےبرانڈکے صارفین کی تعداد میں اضافہ کرتاہے، روٹھے ہوئے صارفین کو واپس لانے کی کوشش کرتاہے اور یہ بھی کوشش کرتا ہے کہ موجود ہ صارفین اس کے برانڈ کو چھوڑ کر نہ جائیں۔ اس سلسلے میں وہ ’مارکیٹنگ مکس‘ کا استعمال کرتے ہوئے اہداف کو پورا کرنے میں سیلز ٹیم کو سپورٹ کرتاہے۔

آپ کو اگرا یک اچھا برانڈ منیجر بننا ہے تو اس کے لیے آپ کو تھوڑا وقت درکار ہوگا اور تجربہ حاصل کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔ آئیں جانتے ہیں کہ برانڈ منیجر کو کونسی مہارتیں حاصل کرنے اور موجود ہ مہارتوں کو مہمیز کرنے کی ضرورت ہے ۔

برانڈ منیجر کو حکمت عملیاں تیار کرنی ہوتی ہیں اور اس کے لیے اس کے اندر تخلیقی صلاحیتوں کا ہونا ضروری ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ بھیڑ چا ل کاشکار ہوجائے اور لکیر کا فقیر بن کر وہی کرنا شروع کردے جو دوسرے برانڈ منیجر کررہے ہوں۔ نت نئی چیزیں سوچنا اور ان کو حقیقت کا روپ دینا ایک برانڈ منیجر کا اچھوتا وصف ہے۔

اس کی سوچی گئی برانڈ کیمپین یا کسی بھی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کی جانب سے پیش کی گئی کیمپینز میں سے کسی ایک بہترین آپشن کی منظوری ایسی ہونی چاہئے کہ صرف اس کےحریف ہی نہیں بلکہ صارفین بھی چونک جائیں اور ایڈورٹائزنگ اور برانڈز کی دنیا میں وہ زیر موضوع آجائے ۔

برانڈ منیجر دوراندیش یعنی وژنری ہو تو وہ وقت سے پہلے ایسے اقدامات یا فیصلے کرسکتاہے جس سے معاملات کی گہرائی تک پہنچا جاسکے اور اس کے کئے گئے فیصلوں کے دور رس نتائج حاصل ہو سکیں۔ مزید یہ کہ وہ اپنے اسسٹنٹ برانڈ منیجرز سے بھرپور کام لیتے ہوئے ان میں بھی یہ صفت پیدا کرنے کی کوشش کرے تاکہ جب مشترکہ فیصلے کی ضرورت ہوتو وہ کسی مسئلے کا حل یا عمدہ سجھائو دے سکیں۔

جدید تقاضوں سے ہم آہنگی

صارفین کی ترجیحات اور رجحانات وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں، ایک برانڈ منیجر کو اس چیلنج کا مقابلہ کرتے ہوئےاپنے برانڈ امیج کا بھی خیال رکھنا ہوتاہے۔ اپنے برانڈ کی تشہیر کے لیے روایتی میڈیا کے بجائےنئے میڈیم جیسے یوٹیوب، فیس بک، رول پلے، آگمینٹڈ ریالٹی، انسٹاگرام وغیرہ کو بھی استعمال کیا جائے لیکن محض برانڈ کی موجودگی کے لیے نہیں بلکہ اس میں تخلیقی پہلو ہونا چاہئے۔

وقت سے آگے

برانڈ منیجر کو صرف موجود ہی نہیں، مستقبل قریب میں ہونے والے واقعات یا ایونٹس کی معلومات ہونا بھی ضروری ہے، یعنی اسے proactiveہونا چاہئے جیسے کہ رواں سال ٹی 20کرکٹ ورلڈ کپ کھیلا جائے گا تو اسے ابھی سے اس میگا ایونٹ میں اپنے برانڈ کی تشہیر کے لیے تخلیقی نقطہ نگاہ سے سوچنا ہو گا تاکہ اس کے برانڈ کی کیمپین بہت اچھی طرح ابھر کر سامنے آئے۔

پرو ایکٹو ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں وجدانی صلاحیت (Imaginative) بھی ہونی چاہئے تاکہ وہ آنے والے دنوں کی پیشنگوئی کرتے ہوئے، اپنے برانڈ کے لیے ایسے اقدامات کرے کہ ایک دنیا حیران رہ جائے۔ اس ضمن میں اسے خیالی پلائو پکانے کے بجائے ٹھوس دلائل کے ساتھ اپنے پروجیکٹ کا آئیڈیا پیش کرنا ہوگاتاکہ ٹاپ مینجمنٹ اس کی منظوری دے اور وہ ثابت کر دکھائے کہ وہ صرف ہوائوںمیں ہی باتیں نہیں کررہاتھا بلکہ اعداد وشما رکے مطابق برانڈ کو ہونے والے فائدے کی عملی تصویردکھا رہا تھا۔

مخلص ہونا

برانڈ منیجر کو اپنے برانڈ کا امیج ہمیشہ بہتر سے بہتر بنانا ہوتاہے کیونکہ گزرتے وقت کے ساتھ برانڈ کی خصوصیات میں کمی یا اضافہ ہو سکتا ہے۔ برانڈ کی خصوصیات جتنی اچھی ہوںگی، وہ اتنا ہی اوپر جائے گا ورنہ وہ زوال پذیر بھی ہوسکتا ہے۔ بہت سے برانڈ منیجرز برانڈ کی ترقی و کامیابی کے بارے میں بڑے پُرجوش ہوتے ہیں اور وہ اسے دنیا کا ایک بہترین برانڈ بنانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔

تاہم برانڈ منیجرز کو چرب زبان ہونے یا دروغ گوئی کرنے کے بجائے حقائق اور خلوص کے ساتھ اپنے مینجمنٹ کو برانڈ کی موجودہ پوزیشن کو بیان کرنا چاہئے، یہ سوچ کر سچ بولنے سے نہیں گھبرانا چاہئے کہ مبادا نوکری سے ہاتھ دھونے پڑجائیں۔ برانڈ منیجر برانڈ کا امیج برقرار رکھنے یا اسے بہتر کرنے میں جو کچھ خلوصِ دل سے کرنا چاہتاہے، اسے کرنا چاہئے اور اپنے اعلیٰ افسران و مالکان کو اعتماد میں لینا چاہئے۔

اسے مارکیٹنگ کےلئے مختص کردہ بجٹ میں ہی آئوٹ ڈور ہورڈنگز، شاپ بورڈز، پوسٹرز وغیرہ، ٹی وی یا ریڈیو کمرشلز، برانڈ ایکٹیویشن یا سوشل میڈیا پر موجودگی کے لیے ایسی تخلیقی کیمپینز تیار کروانی چاہئیں جو کم خرچ بالا نشین ہوں اور ان کے عمدہ نتائج بھی سامنےآئیں۔