9 بچے ضائع ہونے کے باوجود بھی دوسری شادی نہ کی

بیوی کا ذہنی توازن کھو بیٹھنے کے باوجود بھی مختار احمد نے ساتھ نہ چھوڑا،کھانا پکانے سے لے کر شاہین اختر کی کنگھی تک خود کرتے ہیں،رکشے میں بھی ساتھ ساتھ لے کر گھومتے ہیں۔ ملتان میں 36 سالہ شادی شدہ جوڑےکی پروان چڑھنے والی محبت کی عظیم داستان


کی شادی 1984ء میں ہوئی،اولاد نہ ہونے کے باوجود بھی دونوں میں مثالی پیار ہے۔بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مختار احمد کے روزگار کا ذریعہ رکشہ ہے اور رہنے کے لیے صرف ایک کمرہ ہے جس کی چھت دو سال قبل گر گئی تھی۔ان کی سردیاں اب کھلے آسمان تلے گزرتی ہیں،بارش ہونے کی صورت میں پلاسٹک کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔

مختار احمد اپنی بیوی کو ساتھ لے کر رکشہ پر نکلتے ہین۔وہ کہتے ہیں کہ شاہین ان کے بغیر نہیں رہ سکتیں۔دونوں قہوے کے ساتھ سوکھی روٹی کا ناشتہ کر کے صبح گھر سے نکلتے ہیں۔پھر دن کے وقت ہوٹل سے ایک ہی پلیٹ لے کر دونوں کھانا کھا لیتے ہیں۔مختار احمد اور شاہین کی شادی 1984ء میں ملتان میں ہوئی۔

دونوں نے ایک دوسرے کو شادی سے پہلے نہیں دیکھا تھا،مختار احمد کا کہنا ہے کہ یہ اتنی اچھی تھیں کہ بس پھر پیار ہی پیار ہو گیا۔

ملتان میں ایک جوڑا ایسا ہے جن دونوں ملتان سے کراچی آ گئے،جہاں شاہین اختر کا مسلسل نویں مرتبہ حمل ضائع ہوا۔مختار احمد کو وہ دن بھی یاد ہے جب ان کا نوماہ چار دن کا بچہ ضائع ہوا۔اس سے قبل چھ ماہ پر ہی بچہ ضائع ہو جاتا تھا۔اس کے بعد شاہین اختر اپنی ذہنی حالت کھو بیٹھیں،آہستہ آہستہ ان کی حالت بگڑتی گئی،مختار احمد ہر طریقے سے اہلیہ کا خیال رکھنے لگے،ان کو دوا دینا،کھنگی کرنا،سرمہ لگانا پھر کھانا پکانا یہاں تک سارے کام خود کرتے۔

مختار احمد کی والدہ اور رشتہ داروں نے اُن پر دوسری شادی کے لیے بھی دباؤ ڈالا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔بلکہ وہ کئی ماہ تک ملتان ہی نہیں آتے تھے تاکہ ان پر دوسری شادی کے لیے دباؤ نہ ڈالا جا سکے۔دوسری شادی کا مشورہ دینے والوں کو کہتے تھے کہ دوسری شادی تو کر لوں لیکن اللہ پاک نے لاکھوں میں ایک دی ہے میری بیوی۔مختار احمد بتاتے ہیں کہ کام کے دوران کئی لوگ صرف اس وجہ سے رکشے میں نہیں بیٹھتے کیونکہ میں نے اپنی بیمار بیوی کو ساتھ بٹھایا ہوتا تھا،لیکن وہ اس کی بات کی فکر نہیں کرت ےتھے اور مناسب پیسے بننے پر وہ دونوں گھر لوٹ جاتے ہیں۔

ئی سالوں سے کسمپرسی میں گزرنے کے باوجود بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری،وہ ابھی بھی شاہین اختر کو اکیلے نہیں چھوڑتے،مختار احمد نے اپنی ساری جمع پونجھی بیوی پر خرچ کر دی،یہاں تک کہ دونوں سڑک پر آ گئے،رکشہ بھی انہوں نے تین ماہ قبل خریدا۔مختار احمد کی بیوی کے حوالے سے محبت یکطرفہ نہیں،وہ بتاتے ہیں کہ یہ مجھ سے اتنا پیار کرتی تھیں کہ جب میں رات کو کام سے واپس آتا،کبھی ایک بکجے تو کبھی دو بجے تو مجھے دروازہ کٹھکٹھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

یہ دروازے سے لگ کر کھڑی ہوتی تھیں۔اس وقت بھی مختار احمد اپنی بیوی کا اعلان کراچی کے اچھے اسپتالوں سے کروا رہے ہیں۔ شاہی اختر اپنی بیماری کی وجہ سے اگر کچھ یاد رکھتی ہیں تو وہ یہ ہوتا ہے کہ مختار احمد نے کھانا کھایا ہے یا نہیں۔انہیں اس بات کی بھی فکر رہتی ہے کہ شوہر نے اچھے کپڑے کیوں نہیں بنیں۔