چھوٹی سی لائن تھی چھوٹی سوچ نے پہاڑ بنا دیا

سیکس کو گناہ مت سمجھیے ۔۔

چھوٹی سی لائن تھی چھوٹی سوچ نے پہاڑ بنا دیا ۔

جس معاشرے میں شوہر اپنی فینٹسز پوری کرنے کے لئے رنڈی کے پاس جاتا ہے کیوں کے بیوی کے سامنے اپنا اچھا امیج برقرار رکھنا ہوتا ہے کیوں کے بچپن سے سکھایا جاتا ہے سیکس تو گندی چیز ہے ۔

جس معاشرے میں جوان لڑکی خود لذتی کرتے پکڑی جائے تو جن کی کارستانی مانی جاتی ہے ۔کیوں کے سیکس تو گندی چیز ہے ۔

جس معاشرے میں نئے نویلے دولہا دلہن کے بستر کی تلاشی لی جائے اور بیڈ شیٹ پر مرد کے انزال کی تعداد سے اس کی بیوی کا کردار جج کیا جانے کا رواج ہو ۔ اور دلہن کو تنقیدی نظروں کا سامنا کرنا پڑے ۔۔کیوں کے سیکس تو گندی چیز ہے ۔۔

جس معاشرے میں کم عمر بچیوں کو ماہواری انے پر احساس ے جرم میں مبتلا کیا جائے۔ بھڑتے جسم پر ٹوکا جائے ۔ کیوں کے ابھری ھوئی چھاتی تو دعوت ے گناہ ہے ۔

جس معاشرے میں باپ ، چاچا ، ماما ، بڑے بھائی یا کسی عزیز کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے بچے یا بچی چپ کروا دیے جائے ۔کیوں کے سیکس تو گندی چیز ہے اس پر بات نہیں کرنی چاہے

جس معاشرے میں ساس اور داماد ، بہو اور سسر ، دیور اور بھابی ، سالی اور بہنوئی کے نا جایز رشتوں کو مصلحت کی گندگی میں چھپا دیا جائے ۔۔کیوں کے یہ سب تو چلتا ہے ۔

جس معاشرے میں غیرت کے نام بہنوں کو قرآن کے نکاح میں دے دیا جائے اور ان کو جنسی ضروریات کا گلہ گھوٹنے پر مجبور کر دیا کیوں کے سیکس تو گندی چیز ہے ۔

جس معاشرے میں زمانے بھر کر ریپسٹ کچھ چکر لگا کر دودھ کے دھلے ہو جایں اور پیشانی پر محراب سجا لیں ۔۔کیوں کے اللہ‎ تو ماف کر دیتا ہے ۔مردوں کو ۔۔

جس معاشرے میں بیوی کو چار دیواری میں زنا بالجبر سہنا پڑتا ہو ۔کیوں کے وہ تو نکاح جیسے مقدس رشتے میں ہوتی ہے اس کا کیا کام مرضی چلانا

جس معاشرے میں جانور تک محفوظ نا ہو اور داڑھیوں کی آڑ میں معصوم بچوں کو نوچا جائے عقیدت کے نام پر ۔۔

معاف کیجیے گا ۔۔آپ کا تعلق اس معاشرے سےہے ۔ اسی گندگی کی پوٹ میں آپ پیدا ہوے ۔یہی غلاظت کھا کر آپ جوان ہوے آپ کے دماغ میں اسی تفن کی سرانڈ زدہ بدبو ہےاس لئے آپ کے مونھ سے ایسی باتیں سجتی نہیں ۔۔