انسیسٹ اور ریپ

انسسیسٹ میں اپنی مرضی سے تعلق بنایا جاتا ہے اور ریپ میں زبردستی

جہاں تک میری ناقص رائے ہے ہماری سوسائٹی اور دنیا کی ہر مہذب سوسائٹی میں انسسیسٹ نا پسندیدہ ہے اور اس کے لئے کوئی جگہ نہیں ۔

لیکن ایسی مثالیں موجود ہیں یہاں دو نوجوان ایسا رشتہ بناتے ہیں اپنی مرضی سے
لیکن 18سال سے کم عمرکوئی بھی بچہ یا بچی اگر ایسے تعلق میں نظر آے جس میں ایک 18 سال سے کم اور دوسرا 18 سے زیادہ ہے وہ ریپ کہلایا جائے گا ۔


دونو فریق اگر 18 سے کم ہیں تو بھی دیکھنا پرے گا کے دنوں کی مرضی شامل تھی یا کسی ایک کو فورس کیا گیا ۔

ہم جنس پرستی کی مقبولیت کے بعد یہ بھی بہت جلد مقبول ہونے والا ناسور ہے.
اس کو دور کیسے کیا جا سکتا ہے ?

سادہ سا حل ہے بیٹیوں کو باپ بھائی ماما چاچا اور دادا کے ساتھ بچپن سے گھل ملا کر رکھا جائے ۔جائنٹ فیملی کی جہاں بیشمار قباحتیں وہاں کچھ ایسے فائدے بھی ہیں جو نظر انداز نہیں کے جا سکتے ۔جہاں پورا خاندان بچوں کے لئے دستیاب ہوتا ہے اگر درست سمت رجحان ہو۔

بیٹے اور بیٹی کو دوستانہ انداز میں رشتوں کا فرق بتایا جائے لیکن فضول قسم کی ٹریننگ نا دی جائے ۔ جتنا ہو بچوں کی معصومیت کو برقرار رہنے دیاجائے ۔فضول میں اس کے بھرتے جسم پر ٹوکا نا جائے۔کے اب تم بڑی ہو رہی ہویا ہو رہے ہو تو دادا کے پاس نہیں جانا یا چاچا کے پاس ۔
بچے کو گلنے ملنے دیں لیکن کھلی آنکھوں کے ساتھ

اور سب سے اہم نکتہ جس طرف ہم لوگ بات نہیں کرتے ۔بچوں کا اپنے والدین یا چاچا چچی وغیرہ کو سیکس کرتے دیکھنا ۔یہ بہت بڑی وجہ ہے میرے نزدیک ۔

بچہ خاص طور پر بچیاں بہت حساس ہوتی ہیں ایسی باتوں کو جلدی سمجھ لیتی ہیں ۔کوشیش کریں بچے 7 سال کی عمر کے بعد سے الگ کمرے میں سویا کریں بچے اکثر والدین کو دیکھ لیتے ہیں جس کی وجہ سے بچوں میں اڈیپس کمپلیکس اور بچیوں میں الیکٹرا کمپلیکس پیدا ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح بھائی بھابی کو دیکھنا

سو اگر اسا کچھ ہوتا بھی ہے تو بچوں کو وہ محبت کی ہی ایک شکل لگتا ہے۔ ہمارے ہاں بچوں سے بات کرنے کا رواج تو ہے نہیں ۔اسی لئے ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں اور ہو رہے ہیں ۔
اپنے بچے یا بچی کو الگ سونے کی عادت ڈالیے ۔چاہے ایک کمرے میں ہی لیکن بستر الگ الگ ۔
جذباتی وابستگی بھی جوان ہونے پر جنسی شکل اختیار کر لیتی ہے ۔

میں بچوں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ پر ان کی معصومیت چھیننے کے سخت حلاف ہوں ۔ چھوٹے بچے کھبی بھی نہیں سمجھتے کے گڈ اور بیڈ کو ۔۔ان کے نزدیک گڈ وہ ہے جو انھیں اچھا لگے اور بیڈ وہ جو برا ۔ اسی لئے بچے کچھ بتا ہی نہیں پاتے ۔

جب بھی بچے باہر سے کسی عزیز کے گھر سے آئیں انھیں تفتیشی افسران کی طرح گڈ اور بیڈشرو ع مت کریں ۔بچے کو نوٹ کریں ۔باتھ شاور یا کپڑے تبدیل کرواتے ہوے اوپن سوال کریں اور بچے کو بولنے دیں ۔ اس کے جسم کی جانچ پڑتال کریں کچھ الگ محسوس ہو تو ڈائریکٹ مت سوال کریں بلکے یہ کہیں یہ تو کل بھی دیکھا تھا میں نے ۔۔بھول گئی کیا ہوا تھا اپ کو ؟

بچہ خود ہی بتا دے گا ۔ کچھ غلط بتایں بھی تو بچے کو کہیں نہیں انکل یا انٹی کا وہ مطلب نہیں تھا یا کوئی بھی اور بات ۔بچے کو یہ بتانا اس کو غلط طریقے سے استعمال کیا گیا ہے بہت برے نفسیاتی اثرات ڈالتا ہے ۔

َما ں کی ہمیشہ زیادہ زمیداری ہوتی ہے اسی لیے اس کو پہلی درسگاہ کہا جاتا ہے لیکن ہماری ما ں نے بس 6 کلمے یاد کروانے کو ہی درسگاہ کا اصلی مقصدسمجھ رکھا ہے۔ اسی لئے تعلیم یافتہ عورت کے بچے اور دوسری عورت کے بچوں میں اپ کو ہمیشہ ایک فرق نظر اتا ہے ۔

اخلاقی برائیاں کوئی آسمان سے نازل نہیں ہوتی وہ یہی ہمارے اپ کے ماحول سے جنم لیتی ہیں ۔جن چیزوں کو ہم غیر ضروی سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں وہی آگے چل کر نفسیاتی عارضے بن جاتی ہیں ۔ جذباتی لگاو جب جنسی جنون میں بدل جاتا ہے کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی ۔

بچوں کو صرف یہ کہ دینا کے یہ بھائی ہے چاچا ہے خالہ یا مامو ں ہے کافی نہیں ہوتا ۔ بچے کو رشتوں کا مطلب بھی سمجھانا پڑتا ہے ۔ ہمارے دیہاتوں میں نہایت افسوس کے ساتھ لکھ رہی ہوں ماموں اور بھانجی کا تعلق بہت عام ہے اس کے پیچھے یہ جواز ہوتا ہے اس کا خون الگ ہے دوسرے مرد کی اولاد ہے ۔ اس کے بعد باپ اور بیٹی کا ، بھائی کا بہن کا ساتھ ۔

افسوس جس معاشرے میں سالی اور بہنوئی کا تعلق چٹخارے لے کر سنا جائے اور جہاں دیو ر بھابی کے نا جایز رشتے کو پر پردہ ڈال دیا جائے جہاں سسر بہو کو ہوس بھری نگاہوں سے تارتا رہے وہاں اپ ایسی لعنتوں سے کیسے بچ سکتے ہیں ؟ tv انٹرنیٹ فیس بک تو اب آے ہیں یہ واقعات تو اس نسل کے ہاتھوں زیدہ ہوتے ہیں جنہوں نے نوکیا 3310 بھی جوانی میں دیکھا تھا ۔ ساری زمیداری میڈیا یا مغرب پر ڈال کر لوگ کانو ں کو ہاتھ لگا لیتے ہیں لیکن آنکھیں بند ۔اپنی برائی کو دوسروں پے ڈالنا ایسے لوگوں کا پسندیدہ کام ہوتا ہے ۔ بچے ہمارا مستقبل ہیں۔ جنہیں ہم باسی روٹی نہیں کھانے دیتے کے پیٹ خراب ہو جائے گا لیکن باس مارتے نظریات سے ان کے دماغوں میں غلاظت بھر دیتے ہیں ۔

اپنی نئی نسل کی تربیت کے ساتھ پرانی نسل کی چھترول بھی ضروری ہے ۔ ورنہ پانی میں اپ جتنی مدھانی چلاتے رہیں مکھن اپر نہیں اتا ۔