مائنڈ سیٹ ۔۔۔۔۔

ہم ایسی کونفوز قوم ہیں ہیں جو لبرلزم اور ہم جنس پرستی کو ایک ساتھ جوڑدیتے ہیں۔ لبرل ٹرم کی ہسٹری پر جائیں تو صاف پتا چلتا ہے کے یہ ان فرسودہ اور ظالمانہ قوانین کے حلاف منظم بغاوت تھی جو اگے چل کر سیاسی رنگ اختیار کرتی گئی جس میں غلامی کا خاتمہ ، عورتوں کو بنیادی حقوق کی دستیابی ، بچوں کے قوانین ، روزگار کے برابر حقوق ، بلاتفریق رنگ نسل اور مذہب کے قانونی ، سماجی ، معاشرتی اور شخصی آزادی کی ضمانت


لیکن بد قسمتی سےجس طرح ہمارے لوگ یوروپ امریکا کا لنڈا شوق سے پہنتے ہیں سوچ بھی اَلْحَمْدُلِلّہ لنڈے۔ جیسی ہی پائی ہے۔ یہاں ہر انسان جو خود کو لبرل کہتا یا سمجھتا ہے اس پر یہ بوجھ ا جاتا ہے کے ہر اس چیز پر واہ واہ کرنی ہے جو ویسٹ میں ہو رہی ہے ۔ پردہ عورتوں کے حقوق سے ہٹ کر ہم جنس پرستی آج کل ٹاپ پر ہے ۔ ہر لبرل سوری پاکستانی لبرل کو اپنی ٹائم لائن پر اپنی لبرلازم کی لاج رکھنے کو ایسی ویسی بونگیاں چھوڑنی پڑتی ہیں ۔کیوں کے ان کے نزدیک تب ہی وہ ایک سچے لبرل کہلایے جایں گے ۔

ایسے لنڈے کے لبرل کو کیا کہا جائے سواے سرانڈ زدہ مردہ مچھلی کے

لبرل انسان وہ ہے جو دوسرے انسان کے ہر اس حق کی عزت کرے جس سے معاشرے میں مثبت رویے پیدا ہوں ۔ لبرل ہونے کا مطلب ہے اپ کسی کو صرف اس لئے رد نا کر دیں کے اس کا رنگ مذہب یا زبان اپ سے الگ ہے ۔ ہر وہ حق جو ریاست کی طرف سے تمام شہریوں کو دئے گے لبرل انسان اس کی راہ کی رکاوٹ نا بنے ۔ اسے کوئی ایسی چیز جو ناگوار ہے اس کی طبیعت پر ، اپنا شخصی آزادی کا حق استعمال کرتے ہوے اپنا نکتہ پیش کرے لیکن اس احتیاط کے ساتھ کے وہ ریاستی قوانین کی خلاف ورزی نہ کرتا ہو ۔

اب آتے ہیں اپنے لنڈے کے لبرل کی طرف

ہر وہ چیز جو اس کے نزدیک سہی ہے وہ سب کو کرنی چایہے ۔ مذہب کو اگر وہ چھوڑ چکا ہے تو سب کو چھوڑ دینا چایہے مذھبی شخصیت کی توہین سب کو کرنی چاہیے جو ٹوکے وہ شدت پسند ہے ۔ جس ملک کا کھاتے ہیں اسی کو گالیاں دینی چاہے کیوں کے آزادی یہی ہے اسی ملک کی تمام اداروں کو بلا تفریق لعنت ڈالنی چاہے کیوں اس طرح سے ہیں اپ لبرل کہلاے جایں گے ۔

تو بھائی شاباش ہے اپ پر

میں خود کو لبرل سمجھتی ہوں کیوں کے میرے نزدیک میرے ساتھ اس پاس ہر اس شخص کو اپنی زندگی اپنے حساب سے جینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا مجھے لیکن یہ مجھ پر فرض نہیں کے میں اسے پسند بھی کروں تو ہی میں اصل لبرل ہوں ورنہ نہیں ۔

دوسرے کی آزادی کا احترام اور میری ذاتی پسند کا اپس میں کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ۔ میری ریاست میرے اس امور پر مجھ سے جواب دہ ہے جس میں میری ذات سے منسلک لوگ متاثر ہوں ۔

اب اس تحریر کا اصل مقصد ، ہم جنس پرستی میرے نزدیک ایک بیماری ہے ایک ایسا نفسیاتی مرض ، جس کو شرو ع میں ہی بچوں پر نظر رکھ کر کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔جس کے لئے والدین کو مار پیٹ کی بجاے ان وجوہات پر غور کرنا چاہے جن کی وجہ سے بچہ یا بچی اس طرف توجہ کر رہے ہیں ۔ مجھے ہزار تاویلیں دے سکتے ہیں کے یہ قدرتی ہوتا ہے میں نہیں مانو ں گی ۔ ہر وہ چیز جو فطرت کے قوانین کے خلاف ہے وہ ایک بیماری ہے ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں ان قدرتی طور پر چھوٹے بچے جنسی اعتبار سے متاثر کرتے ہیں ۔میں نے ایسے مجرموں کو روتے دیکھا ہے کچھ خودکشی کر لیتے ہیں ۔کے ان کو لگتا ہے وہ بدل نہیں سکتے ۔کیا اپ لوگ اس کو بھی آزادی کہیں گے ؟

کچھ مردوں کو جبری سیکس پسند ہے پارٹنر کو مارنا پیٹنا اس کا خون بہانا ان کو تسکین دیتا ہے
کچھ عورتوں کو ما ں بننے سے نفرت ہوتی ہے وہ اپنے ہی حمل کو بار بار گرا دیتی ہے ۔اس خون کے دھڑکتے لوتھڑے کی آزادی کا حق کہاں جاتا ہے اس وقت ؟؟

اور ایسے بے شمار نفسیاتی مرض جن کا علاج ہونا چاہے ہم لوگ ان کی بیماری کو پر کشش بنا رہے ہیں صرف خود کو ہجوم کا حصہ بنانے کے لئے

اپنی شخصی آزادی کو دوسرے کی جھوٹھ پر پال کر سب سے پہلا حملہ ہم اپنی آزادی پر کرتے ہیں ۔باقی سب کے لئے تو دہلی ہنوز دور است

تو بھائی لوگ لبرل بنیں فورن گھا نڈ پیش مت کیا کریں ۔۔