سزا کا تصور ہی عورت

پاکستانی معاشرے کا المیہ ہی یہی ہے کے ہمارے نزدیک سزا کا تصور ہی عورت کے کردار پر سوال بن جاتا ہے ۔



تیزاب گرا ۔۔۔لازمی لڑکے کے ساتھ پھنسی ہو گی ۔۔

طلاق ہو گیا ۔۔
لازمی اچھی بیوی نہیں ہو گی

ریپ ہو گیا ۔۔
لازمی بدکردار ہو گی ۔۔

بھائی نے قتل۔ کر دیا
لازمی بیغرت ہو گی ۔۔

ساس نے جلا دیا ۔۔
لڑتی ہو گی بدزبان ہو گی ۔۔

خود کشی کر لی
شادی سے پہلے بچہ اٹھا لیا ہو گا ۔

یونیورسٹی جانا چھوڑ دیا ۔۔
لازمی کچھ غلط کرتی ہو گی ۔۔

ٹاپ کرلیا ۔۔
پروفیسر کے ساتھ پھنسی ہو گی ۔۔

اچھی جاب مل جائے ۔۔
لازمی بوس کے ساتھ سوتی ہو گی ۔۔

جاب نہیں کرتی
۔لازمی ڈگری جھوٹی ہو گی ۔
۔
سب لوگ پسند کرتے ہیں ۔۔
لازمی تعویز کرواتی ہو گی ۔

اور اس طرح بے شمار لازمی ، لازمی ، لازمی ہماری ہمدردیاں بھی بڑی ججمنٹل ہوتی ہیں جو عورت کے لباس ، مسکراہٹ اس کے اٹھنے بیٹھنے کے انداز کے گردہی گھومتی ہیں ۔

میں یہاں ہر عورت کو ڈیفنڈ نہیں کر رہی صرف اس سوچ سے مجھے تکلیف ہوتی ہے کے ہمارے نزدیک مرد کا جرم اس وقت قابل ے قبول اور پسندیدہ ہو جاتا ہے جب سامنے ایک ایسی عورت ہو جو آزاد سوچ والی ہے ۔

کسی وحشیا کے ساتھ بھی ایسا سلوک قابل سے قبول نہیں ہوتا جس میں کسی عورت کی تذلیل کی گئی ہو ۔
ہمارے مرد کے لیے سب سے آساں حل اور آساں وار ہی یہی ہوتا ہے عورت کے کردار پر چال چلنا ۔ اپنے سارے مہرے ایسی بسا ط پر چلانا ، جہاں ہاتھی گھوڑوں کی جگہ عورت کا بال کھولنا ،مونھ کھول کر ہنسنا ، آزاد لباس پہننا ، ناچنا ، شراب پینا ، سگرٹ پینا ، نوکری کرنا اور اپنی پسند کا مرد چننا جیسے مہرے ہوں۔ جنہیں اس کا جب دل چاہے جیسے چاہے اگے پیچھے کرے اور شکست دے دے ۔

اور تعجب کی بات ہے اس گندی شطرنج میں عورت ہی عورت کے حلاف کھڑی کی جاتی ہے ۔میں نہیں کہ رہی ایسا کرنا جایز ہے یا سب عورتوں کو ایسا ہی کرنا چاہے ۔ میرا موقف صرف اتنا ہے کے ہمیں ظلم کو ملامت کرنا آنا چاہے، چاہے وہ کسی کے ساتھ بھی روا رکھا گیا ہو ۔یہی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں بڑے بڑے انقلاب لاتی ہیں ۔ ہمارا کردار پہلے ظلم کو ظلم سمجھنا ہے یہ دوسرا مرحلہ ہوتا ہے جہاں ہم یہ دیکھیں کے وجوہات کی رہی ہوں گی ، جو ہرگز ہمارا کام نہیں ہوتا ۔۔ہم خود ہی عدالت لگاتے ہیں ، خود ہی وکیل کھڑے کرتے ہیں اور جج بن کر فیصلے کر دیتے ہیں وہ بھی صرف اس وجہ سے کے آئینہ تو ہمارے گھروں میں ہوتا نہیں ۔اور یہ مجموئی رویہ ہے نا میں کسی مرد کو ٹارگٹ rکر رہی ہوں

نا کسی عورت کو

نا کسی لبرل کو نا کسی دیسی کو ۔۔

یہ صرف ایسا ہی ہے کے میں آپ۔ لوگوں سے یہ کہ رہی ہوں کے غلط کو پہلے غلط کہنا سیکھ لیں اس کے بعد دیکھیں گے کے کیسے ہوا ؟

کیوں ہوا ؟

کس وجہ سے ہوا ؟

انڈا کھانا ہو تو مرغی کا پیٹ نہیں کا ٹا جاتا ۔بس انتظار کیا جاتا ہے ۔ اور ہم انڈا جلدی کھانے کے چکر میں صرف مرغیاں ہی کاٹ رہے ہیں ۔