بچی چیک کر

جی ھاں ۔ ھمارے سماج میں بچی چیک کر ایک روز مرہ محاورہ ھے۔ اور بچی چیک کرنے کے لیے دوست مل کر لبرٹی جاتے ھیں۔ مال روڈ کی وزٹ کرتے ہیں ۔ ڈیفینس اور فورٹریس اسٹیڈیم کا چکر لگاتے ھیں۔ پارکوں اور باغات میں منڈلاتے ھیں۔ بچی چیک کرنے اور اس میں ورائٹی لانے کی خاطر پر فضا مقامات کی طرف نکل جاتے ہیں ۔ جی ھاں۔ مری جانا ھو۔ تو پوسٹ آفس کی سیڑھیوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر وہاں پر سیاحت کی غرض سے آئ سارے ملک کی بچیوں کو چیک کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے کو کہنیاں مارتے ھیں۔ آنکھوں سے اشارے کرتےھیں ۔ گھورتے ھیں۔ اور پھر جذبات سے مغلوب ھو کر ایک دوسرے کو کہتے ھیں۔ یہ بچی چیک کر۔ وہ بچی چیک کر۔



ایک زمانہ تھا۔ بچی چیک کرنے کے مقامات محدود تھے۔ ترسے ھوے لڑکے اور بھوکے نوجوان باغ جناح جاتے۔ ریس کورس چلے جاتے۔ اور کچھ نہیں تو چڑیا گھر ھی تشریف لے جاتے۔ وہاں بندر یا لگڑ بگڑ چیک نہ کرتے۔ بچیاں چیک کرتے۔ ھجوم میں گھس جاتے اور بچیوں سے چپک کر کھڑے ھو جاتے۔ کچھ دل جلے جو زیادہ ھی شودے ھوتے۔ بس سٹاپوں پر گھنٹوں کھڑے رھتے۔ بسوں میں خواتین کی سائیڈ پر اترنے اور چڑھنے کی کوشش کرتے۔ اور اس کوشش میں بچیوں کو تفصیل سے چیک کرنے کی کوشش کرتے۔ اور پھر اپنی کامیابیوں کی تفصیل چسکے لے کر دوستوں کو سناتے۔

پرانے وقتوں میں لڑکیوں کے اسکولوں اور کالجوں کے باھر یہ سرگرمیاں جاری رھتیں ۔ لڑکیوں کے تانگوں کے پیچھے پیچھے چلا جاتا ۔ اور بچیاں چیک کرنے کا سلسلہ جاری رھتا ۔ خیر وہ پرانے غیر تہذیب یافتہ وقت تھے۔ اب زمانہ ترقی کر گیا۔ بچیاں چیک کرنے کے لیے جگہ جگہ ماڈرن ریسٹورنٹ کھل گئے ھیں۔ جدید شاپنگ مالز بن گئے ھیں۔ اور ان ترقی یافتہ سہولیات سے بچی چیک کرنے کا عمل بھی ترقی کر گیا ھے۔ معاملات چڑیا گھر سے نکل کر انٹرنیٹ، فیس بک اور سوشل میڈیا میں داخل ھو چکے ھیں۔ اب بچیاں چیک کرنے کے لیے گھر سے باھر بھی نکلنا نہیں پرتا۔

ھر گھر میں یہ سہولت موجود ھے۔ سوئچ آن کرو۔ لیپ ٹاپ لگاو۔ اور بچیاں چیک کرنی شروع کر دو۔ اسی طرح اب شوقین حضرات مری جانا پسند نہیں کرتے۔ نیچر سے رومانس انہیں دور شمالی علاقوں کی جانب لے جاتا ھے۔ اور رومان پرور فضا میں رومان پرور جذبات کی کھل کر تسکین کی جاتی ھے۔ اسی طرح چاند رات کو بازار سج جاتے ھیں۔ مارکیٹیں چمک اٹھتی ھیں۔ چوڑیوں اور مہندی کے اسٹالوں پر رش بڑھ جاتا ھے۔ اور محلوں کے لونڈے لپاڈے بہتی گنگا میں ھاتھ دھونے باھر نکل آتے ہیں ۔ یعنی کچھ کر لو نوجوانوں کہ اٹھتی جوانیاں ھیں۔

اچھا یہ نہیں کہ بچیاں چیک کرنے کا یہ معمول سڑکوں، فٹ پاتھوں، پارکوں، ریسٹورنٹوں اور شاپنگ پلازوں میں ھی جاری ھے۔ خیر سے یہ قومی فریضہ سرکاری دفاتر ، کمپنی آفسز ، ھسپتالوں اور یونیورسٹیوں میں بھی اپنی پوری شدت اور جہالت سمیت جاری ھے۔ دراصل جہاں بھی کوئی خاتون کام کرتی ھے۔ جاب کرتی ھے۔ اسے مال غنیمت سمجھ لیا جاتا ہے ۔ اسے آتے جاتے گھورا جاتا ھے۔ اس کی عدم موجودگی میں اس کے جسمانی اعضاء پر سیر حاصل گفتگو کی جاتی ھے۔ اس کے چلنے کے انداز پر کمنٹس کیے جاتے ہیں ۔ اور کن اکھیوں سے اشارے کیے جاتے ہیں ۔ بچی چیک کر۔

بات یہ ھے۔ ھماری سوسائٹی ایک مردانہ سوسائٹی ھے۔ مرد کی برتری کا احساس مرد کی نفسیات میں بیٹھا ھے۔ یہ احساس برتری کا مارا مرد عورت کو اپنی انٹرٹینمنٹ کا ایک ذریعہ سمجھتا ھے۔ بوجہ اس کی عزت کرنے کو تیار نہیں ۔ عورت کا تصور اس کو محظوظ کرتا ھے۔ اس کے مردانہ جذبات کو لطف دیتا ھے۔ تسکین کرتا ھے۔ اس کا خیال ھے۔ جو عورت گھر سے باھر نکلی ھے۔ وہ اب باھر کی پروڈکٹ ھے۔ چناچہ یہاں سے ھمارا وہ سماجی ، معاشرتی اور ثقافتی رویہ جنم لیتا ھے۔ کہ بچی چیک کر۔

ازدواجی زندگی سے ھٹ کر دوسری جگہوں پر تعلقات استوار کرنا کیا ھمارے معاشرے میں عام نہیں؟ فیس بک پر کسی عورت کی آئ ڈی پر لائکس اور کمنٹس دیکھ لیں ۔ خواتین کو سرپرستی میں لینے کی خواہش کے پیچھے کیا نفسیات چھپی ھے ؟

بھونڈی کرنا ایک معاشرتی آرٹ ھے۔ جو نسل در نسل منتقل ھوتا ھے۔ سینئر طلباء ، کزنز اور دوست بھونڈی کرنے کے آرٹ اور بچی چیک کرنے کی صلاحیت پر باقاعدہ کوچنگ کرتے ھیں۔ کلاسز لی جاتی ھیں۔ چسکے لیے جاتے ہیں ۔ ٹھٹھے لگائے جاتے ہیں ۔ اور عورت کو انٹرٹینمنٹ کی پروڈکٹ سمجھا جاتا ھے۔ اور ستم ظریفی یہ ھے۔ پڑھا لکھا طبقہ، ملازم پیشہ طبقہ اور لٹریری طبقہ اس بھونڈی کلچر میں زیادہ ملوث ھے۔

سیکس ایجوکیشن گئی بھاڑ میں ۔ تمام احتیاطیں گئیں تیل لینے۔ پہلے اپنی قوم کا یہ بگاڑ تو صحیح کر لیں۔ جو صدیوں سے نسل در نسل ھمارا اجتماعی گلٹ بن کر ھمارے اندر پرورش پا رھا ھے۔ ھم عورت کی عزت کیوں نہیں کرتے.